• منگل. فروری 3rd, 2026

حالات حاضرہ

  • Home
  • تعلیم گاہوں کا چہرہ مسخ کرنے کی کوشش

تعلیم گاہوں کا چہرہ مسخ کرنے کی کوشش

ڈاکٹر جہاں گیر حسن ۲۸؍ ستمبر ۲۰۲۵ ء کو دہلی یونیورسٹی کے وائس چانسلر جناب یوگیش اپنے ایک خطاب میں اربن نکسل کے خاتمے پر پوری طاقت و قوت سے…

جمہوریت و سیکولرزم کشی اپنے شباب پر

ڈاکٹر جہاں گیر حسن ۶؍اکتوبربروزپیر ہندوستانی جمہوریت اور دستورِ ہند کے لیے ایک بارپھرسے کالا دن ثابت ہوا، جب ایک معمروکیل کی طرف سے بھری عدالت میں چیف جسٹس آف…

الیکشن کمیشن کے منفی رویے پر قدغن ضروری

ڈاکٹر جہاں گیر حسن بلاشبہ جمہوریت کی بنیاد عوامی رائے پر ہے۔ اگر عوام کی رائے درست طور پر حکومتی ایوانوں تک پہنچتی ہے تو ہی جمہوریت کو حقیقی کہا…

اَمن کے پیغمبر سے اظہارِ محبت، نقض اَمن کیسے؟

ڈاکٹر جہاں گیر حسن آج کے بدلتے ہوئے سماجی و سیاسی منظرنامے میں مذہبی جذبات اور آزادیٔ اظہار کے درمیان کشمکش روز بروز بڑھتی جارہی ہے۔ حال ہی میں ’’آئی…

بدزبانی کی سیاست اصل ایشوز سے فرار

ڈاکٹر جہاں گیر حسن سیاست معاشرتی زندگی کا ایک نہایت اہم شعبہ ہے جو عوام کی رہنمائی، اُن کے مسائل کا حل اور قومی ترقی کی بنیاد فراہم کرتا ہے۔…

حزب اختلاف، حکمراں جماعت کو کمزور نہ سمجھے!

ڈاکٹر جہاں گیر حسن حالات زمانہ اور ملکی ضروریات کے پیش نظردستوری دفعات میں تبدیلی لانا اوراُنھیں عوامی مفاد سے جوڑنا بلاشبہ ایک پسندیدہ عمل ہے۔ لیکن یہ اُسی صورت…

’ایس آئی آر‘ سے’ووٹ چوری‘ تک

ڈاکٹر جہاں گیر حسن ریاست بہارمیں جاری ’ایس آئی آر‘ کا شعلہ ابھی سرد بھی نہیں ہوا ہے کہ حزب مخالف لیڈر راہل گاندھی نے ’’ووٹ چوری‘‘ کا ایٹم بم…

مسلمان اپنی حکمت عملی پر غور کریں!

ڈاکٹر جہاں گیرحسن موجودہ عہد کئی اعتبار سے نہایت پیچیدہ اور مشکلات سے بھرپور ہے۔ تیز رفتار سائنسی ترقی، تہذیبی تصادم، میڈیا کا غلبہ، فکری انتشار، معاشی بے یقینی اور…

لوآپ اپنے دام میں صیاد آگیا!

ڈاکٹر جہاں گیر حسن بلاشبہ رائے دہندگان کی شناخت اوراُن کی تصدیق بےحد لازم ہے۔ لیکن سوال یہ ہے کہ کیا یہ عمل عین انتخاب سے پہلے ضروری ہے؟ ریاست…

اسرائیلی جارحیت اورہندوستان!

ڈاکٹر جہاں گیر حسن عالمی سطح پر اَمن و انصاف کے دعویدار طاقتور ممالک جب خود ظلم و جبر کے مرتکب ہوں، تو عالمی سطح پر سوال اٹھنا لازمی ہے۔…

جذبات سے پاک خود اِحتسابی کی ضرورت

ڈاکٹر جہاں گیر حسن آج ملک کا ایک بڑا طبقہ حب الوطنی کے نام پرنہ صرف قتل وغارت گری اور دَہشت گردی کو روا سمجھ رکھا ہے، بلکہ آئے دن…

فرقہ واریت پرسیکولرزم کوترجیح دینا ضروری

ڈاکٹر جہاں گیر حسن ہندوستان جو کبھی گنگا-جمنی مشترکہ تہذیب، مذہبی ہم آہنگی اور ثقافتی تنوع کا روشن مینارتسلیم کیا جاتا تھا، جو کبھی مہاتما گاندھی، مولانا آزاد، جواہرلال نہرو،…

دہشت گردی کانیا روپ

ڈاکٹر جہاں گیر حسن آج کا المیہ یہ ہے کہ دنیا میں جہاں بھی دہشت پسندی کی واردات رونما ہوتی ہے شکوک و شبہات کی سوئی فوراً مسلمانوں کی طرف…

پہلگام سانحہ: عوام کا کیا قصور ہے؟

ڈاکٹر جہاں گیر حسن پہلگام سانحہ بلاشبہ سخت قابل مذہب ہے۔ دہشت گردوں کے ساتھ معمولی ہمدردی بھی روا نہیں رکھا جاسکتا ہے۔ یہ لوگ نہ کسی سماج کے ہوتے…

وقف ترمیمی قانون: ایک تیرسے کئی شکار

ڈاکٹر جہاں گیر حسن وقف ترمیم کے پس پردہ صرف مسلمانوں کو بیک فٹ پرلانا اوروقف کی املاک پرقبضہ جمانا نہیں ہے بلکہ اُس کی آڑ میں سیاسی مقاصد حاصل…

وقف ترمیم بل اورسیکولر ومسلم رہنما کا کردار

ڈاکٹر جہاں گیر حسن آخربرسراقتدار جماعت نے ایک بار پھر وہی کیا جو اُس نے چاہا اورتمام تر اِختلافات اوراحتجاجات کے باوجود وقف ترمیم بل پاس کرالیا۔ اِس تعلق سے…

तेहवार सिर्फ खुशियां बांटने के लिए है।

डा. जहांगीर हसन हमेशा की तरह इमसाल भी ईद के अवसर पर देश और समाज में मजहबी कार्ड खेलने की पूरी तय्यारी कर ली गई है। जबकि आम जनता चाहे…

ہولی کے رنگ میں بھنگ: ایک لمحہ فکریہ

ڈاکٹر جہاں گیر حسن ہندوستان جسے متنوع ثقافتوں اورتہذیبوں کا گہوارہ کہا جاتا ہے اب وہ تنفر وتعصب، فرقہ پرستی اور قتل و غارت کی آماجگاہ بنتا جارہا ہے۔ شاید…

کیا ہندوستان کے سنہرےخواب شرمندۂ تعبیرہوں گے؟

ڈاکٹر جہاں گیر حسن آج ہندوستانی سیاست ومعاشرت اور معاشیات کی کسمپرسی اور لاچاری کو دِیکھ کر جہاں ملک کا ہرسنجیدہ فرد بےحد پریشان وبےحال ہے، وہیں جناب مودی اور…

مدارس کو اَپ گریڈ کیے بغیرہم آگے نہیں بڑھ سکتے!

ڈاکٹر جہاں گیرحسن جامعہ آل رسول، مارہرہ شریف کے ایک قومی سمینار میں۲۲؍ فروری ۲۰۲۵ء کو شرکت کرنے کا موقع ملا۔ ’امام زید: حیات وخدمات اوراثرات‘ ہمارا موضوع تھا۔ جب…

ملک و معاشرے پر خاص طبقے کی اجارہ داری

ڈاکٹر جہاں گیرحسن ہندوستان اوّل روز سے مختلف رنگ ونسل اورثقافت و کلچر کا مرکز رہا ہے۔ ہندوستان کی سرزمین جنت نشاں اِسی لیے ہے کہ ہزار زبانی وعلاقائی اور…

دہلی انتخاب مسلمانوں کےلیے امتحان سے کم نہیں!

ڈاکٹر جہاں گیر حسن دہلی انتخاب سرپرہے اور سیاسی جماعتیں اپنی اپنی بانسری لیے عوام الناس کو رِجھانے میں لگی ہوئی ہیں۔ راج محل اور شیش محل کے نام پر…

سنبھل کے مقدمے میں تاخیر کا سبب!

ڈاکٹر جہاں گیر حسن ’’تاریخ کبھی نہیں فراموش کرےگی کہ چندرچوڑ نے Idea of India کو کتنا نقصان پہنچایا ہے‘‘ یہ کہنا ہے ایک سینئر وکیل اندرا جے سنگھ کا۔…

کرم سے راج ملے اور راج سے نرک!

ڈاکٹر جہاں گیر حسن ہندوستان اوّل روز سے مختلف رنگ و نسل اورثقافت و کلچر کا مرکز رہا ہے۔ اِس کی مثال ایک گلستاں کی طرح ہےجس میں رنگ برنگے…

’عبدل‘ کے گھرمیں ’وِشنو‘ کو پناہ ملی!

ڈاکٹرجہاں گیرحسن اِسے ہندوستان جیسے عظیم جمہوری ملک کےلیے ایک المیہ ہی کہا جائےگا کہ کل تک جس سیکولر ڈھانچےکی قسمیں کھائی جاتی تھیں آج وہ ’عبدل اور وشنو‘ کے…

اِسٹوڈنٹس کمیونٹی پر مظالم کا ذمہ دار کون!

ڈاکٹر جہاں گیر حسن گزشتہ دس بارہ برسوں سے مسلسل یہ دیکھنے میں آرہا ہےکہ ملک کے اندر جہاں کہیں کسی جائز مطالبےکولے کربھی تحریکیں چلتی ہیں تو اُنھیں سختی…

نہ پائے رفتن نہ جائے ماندن

ڈاکٹر جہاں گیر حسن ہندوستان کا سیاسی اُونٹ آئندہ کچھ دنوں میں کس کروٹ بیٹھےگا یہ کہنا بڑا مشکل ہے۔ آئےدن جوچھوٹے موٹےسیاسی اورمذہبی کشیدہ حالات سامنے آرہے ہیں وہ…

یہ حکومت کا اصل امتحان ہے!

ڈاکٹر جہاں گیر حسن جسٹس شیکھر یادو کا بیان صرف سنجیدہ باشندگان ہند کے جذبات کو مجروح نہیں کرتا بلکہ آئین کا مذاق بھی اُڑاتا ہے اِس میں دورائے نہیں…

جب قانون ساز ہی قانون شکن ٹھہریں!

ڈاکٹر جہاں گیر حسن میڈیا رپورٹ کے مطابق سنبھل شاہی جامع مسجد سروے میں پانچ بےقصور نوجوانون کو شہید کردیا گیا اوراِسی کے ساتھ ایک بار پھر سے صاحبانِ اقتداراور…

غیر جمہوری واقعات و شرپسند عناصر کے خلاف سخت ایکشن کی ضرورت

ڈاکٹر جہاں گیر حسن ایک مشہورکہاوت ہے کہ’’جس کی لاٹھی اُس کی بھینس‘‘ تو موجودہ ہندوستان کے سیاسی منظرنامے پر یہ کہاوت بخوبی صادق آتی ہے۔ آج جمہوری اقدار کی…

!بہار میں نئی سیاسی جماعتوں کی سرگرمیاں

ڈاکٹر مشتاق احمد

ٹرمپ پراِعتماد محض ایک خوش فہمی !

ڈاکٹر جہاں گیر حسن امریکی سیاسی بساط اُلٹ چکی ہے اورجوبائیڈن کی جگہ ٹرمپ دوسری بار۴۷ویں صدرکے طورپر منتخب ہوچکے ہیں۔ حالاں کہ نومنتخب صدر پچھلے صدارتی انتخاب میں شکست…

ٹرمپ کی جیت: خوش فہمی میں مبتلا ہونے کی ضرورت نہیں

ڈاکٹر جہاں گیر حسن امریکی سیاسی بساط اُلٹ چکی ہے اور ڈونالڈ ٹرمپ دوسری بارسینتالیسویں صدرکے طورپر منتخب ہوچکے ہیں۔ ویسے نومنتخب امریکی صدر کی بات کی جائے تواُنھوں نے…

آخربہرائچ میں شرپسندکامیاب ہوہی گئے!

ڈاکٹر جہاں گیر حسن ہندوستان میں رونما ہوئے فسادات پرایک نظر ڈالی جائے تو معلوم ہوتا ہے کہ تمام ترفسادات کسی نہ کسی مفاد کے تحت کرائے گئے۔ اُنھیں یا…

کشمیریوں پراِس قدرمہربانیاں کیوں؟

ڈاکٹر جہاں گیر حسن ’’ہم ہمارا ایک سنکلپ پتر لے کر آپ کے درمیان آئے ہیں۔ ہم آپ سے کہنا چاہتے ہیں کہ بھارتیہ جتنا پارٹی ہر گھر کے عمردراز…

یہ کیسا ہندوستان بنایا جارہا ہے؟…

ڈاکٹر جہاں گیر حسن فرقہ پرست جماعتیں یا تو اَپنے بنائے ہوئے جال میں خود پھنس گئی ہیں یا پھر اپنی خودغرضی کے لیے ہندوستان کو تباہی و بربادی کی…

یہ زمانہ کروناوتی اور ہمایوں کی تلاش میں ہے!

ڈاکٹر جہاں گیر حسن کولکاتا اوراُترکھنڈ عصمت دری کانڈ کی آگ ابھی سرد بھی نہیں ہوئی کہ ضلع بستی میں ایک بار پھر ڈاکٹری شعبے نے شرمسار کیا کہ پہلے…

جمہوری نظام زعفرانی نظام کے شکنجے میں؟

ڈاکٹر جہاں گیر حسن عالمی سطح پر ہندوستان کا چمکتا دمکتا جمہوری چہرہ اب زعفرانی فکر کے قالب میں ڈھلتا جارہا ہے۔ زعفرانی فکر ونظرکیا ہے؟ تو جہاں تک ہم…

امریکی پادری کے قبول اسلام میں پوشیدہ ایک اہم سبق

ڈاکٹر جہاں گیر حسن اس میں دو رائے نہیں ہے کہ اللہ اپنے دین کا کام جب چاہے اور جس سے چاہے لے لیتا ہے۔ یہ ضروری نہیں ہے کہ…

سیتا کے دیش میں سیتائیں محفوظ نہیں!

ڈاکٹر جہاں گیر حسن ہندوستان کی سرزمین جہاںایک طرف لڑکیوں کو لکشمی ماناجاتا ہے تو دوسری طرف عورتوں کو دُرگا، سیتا اورسرسوتی کا درجہ دیا جاتا ہے۔ لیکن یہ بات…