• اتوار. فروری 8th, 2026

حزب اختلاف، حکمراں جماعت کو کمزور نہ سمجھے!

Byhindustannewz.in

اگست 23, 2025

ڈاکٹر جہاں گیر حسن

حالات زمانہ اور ملکی ضروریات کے پیش نظردستوری دفعات میں تبدیلی لانا اوراُنھیں عوامی مفاد سے جوڑنا بلاشبہ ایک پسندیدہ عمل ہے۔ لیکن یہ اُسی صورت میں بہتر ہے جب ملکی باشندگان کے مفاد کا خیال رکھا جائے اور اُنھیں کے ترقیاتی منصوبوں کی خاطر تبدیلی لائی جائے۔ لیکن اگر اُس کے پیچھے سیاسی مفاد کارفرما ہو، تو یہ نہ صرف جمہوریت کے لیے زہرقاتل ہے بلکہ عوام الناس کے لیے بھی سخت نقصان کا باعث ہے۔ لہٰذا پارلیمانی اجلاس کے ٹھیک دو دِن پہلے وزرا دستبرداری قانون کی وکالت کرنے اور اُس کے نفاذ پر اِیڑی چوٹی کا زور لگانے کوسیاسی ماہرین ومبصرین اِسی منفی پس منظر میں دیکھ رہے ہیں۔ حالاں کہ اِس بات سے انکارممکن نہیں کہ بظاہر مذکورہ قانون ملک وقوم کے حق میں بہت ہی مفید ثابت ہوسکتا ہے اور ایک صاف وشفاف حکومت کے لیے یہ قدم انتہائی موثرثابت ہوسکتا ہے۔ لیکن ۲۰؍ اگست ۲۰۲۵ء کو وزیرداخلہ کی طرف سے جس عجلت اور جس سچویشن میں اُسے نافذ کرنے کی بات کہی گئی اُس سے واضح ہوتا ہے کہ اِس قانون کے مثبت اِستعمال کی گنجائش کم اوراُس کے منفی اِستعمال کا خدشہ زیادہ ہے۔ پھر جس طرح سے اِس قانون کو عام افسران سے جوڑ کر دیکھانے کی کوشش کی جارہی ہے اُس سے بھی یہ اندازہ لگانا کچھ مشکل نہیں ہے کہ اِس قانون کے نفاذ کے پیچھے کلی طورپرمنفی ذہنیت کام کررہی ہے۔ غور کیا جائے تو عام افسران جو کم و بیش چالیس-پچاس برسوں تک ملازمت کرتے ہیں۔ اگر وہ کسی الزام میں ۳۰؍ دن یا اُس سے زیادہ دنوں تک جیل میں رہتے ہیں، تو قانون کے مطابق اُنھیں معطل مان لیا جاتا ہے اور جب وہ بری ہوتے ہیں تونہ صرف اُن کی ملازمت بحال کردی جاتی ہے۔ بلکہ جب تک وہ جیل میں رہتے ہیں اُس مدت کی بھرپائی بھی کردی جاتی ہے کہ اُن کی رُکی ہوئی تنخواہیں اُنھیں ادا کی جاتی ہیں۔ اِس کے برخلاف ایک وزیر کی مدت کار صرف پانچ سال ہوتی ہے۔ اب اگر وہ کسی غلط مقدمے کی وجہ سے ۳۰؍ دن یا اُس سے زائد دنوں تک جیل میں رہتا ہے، تو اُس کی وزارت چلی جائےگی، لیکن اگر وہ سال دوسال کے بعد تمام تراِلزامات سے بری ہوجاتا ہے اور اُس پر فرد جرم عائد نہیں ہوتا، تواُس صورت میں کیا ہوگا؟ اُس وزیرکا گزرا ہواسال کیسے واپس کیا جاسکتا ہے؟ یہ سوال اپنی جگہ اہم ہے۔
مذکورہ قانون کے سلسلے میں سیاسی مبصرین و ناقدین کی طرف سے جو خلاصے سامنے آرہے ہیں اُن سے یہ سمجھنا بڑا آسان ہوجاتا ہے کہ اِس قانون کے پردے میں دراصل حکمراں جماعت ہمیشہ کی طر ح ایک تیرسے کئی شکار کرنا چاہتی ہے۔ کیوں کہ راہل گاندھی نے جب سے ووٹ چوری کا خلاصہ کیا ہے تبھی سے حکمراں جماعت صدمے میں ہے اور اُس صدمے سے اُبرنہیں پارہی ہے۔ ایک تو ملکی سطح پر بدنامی ہورہی ہے، دوسرے الیکشن کمیشن کی طرف سے دیے جارہے غیرذمہ دارانہ جوابات نے رہی سہی کسر پوری کردی ہے، تیسری طرف راہل گاندھی کے بہاردورے نے نیندیں اُڑا رکھی ہیں اورچوتھی طرف عدالت عظمیٰ کی طرف سے آرہے تابڑ توڑ فیصلوں نے ناک میں دم کررکھا ہے۔ اِسی کے ساتھ جو یہ خلاصہ ہوا ہےکہ آسام حکومت نے اڈانی کو ۳۰۰۰؍ بیگہا زمین سیمنٹ فیکٹری چلانے کے لیے فراہم کررکھا ہے، تو اِس وجہ سے بھی اُس کی چوڑی پکڑی گئی ہے کہ ایک طرف تو آسام حکومت، حقداروں کو اُن کے حقوق نہیں دے رہی ہے، اُن کے مکانات پر بلڈوزر تک چلوارہی ہے اور دوسری طرف اُنھیں کی زمینوں کو بڑے بڑے سرمایہ داروں کے نام کررہی ہے۔ جب کہ اِس سے پہلے بھی امریکا نے ٹیرف میں اضافہ کرکے حکمراں جماعت کو کہیں کا نہیں چھوڑا ہے۔ اِس طرح سیاسی وسماجی اور ملکی وبیرونی تمام سطحوں پر حکمراں جماعت پھنستی نظر آرہی ہے اوراِن تمام مشکلات سے نکلنے کے لیے اُسےکوئی راستہ سجھائی نہیں دے رہا ہے، چناں چہ وزرا دستبرداری قانون کا مسئلہ اِسی لیے چھیڑا گیا ہے تاکہ اُس کے پردے میں ایک طرف عوام الناس کواَصل ایشوز سے بھٹکا دیا جائے اور دوسری طرف حزب اختلاف جماعت پر بھی دباؤ بنایا جائے کہ وہ حکومت کے سامنے اورمسائل نہ کھڑی کرسکے۔
بعض ذرائع کے مطابق اِس بات کے بھی خلاصے ہوئے ہیں کہ یہ قدم حزب اختلاف کے ساتھ اپنی حلیف جماعتوں کو بھی سبق سکھانے اور اُنھیں حد میں رہنے کی غرض سے اُٹھایا گیا ہے۔ کیوں کہ بہارکے وزیراعلی جناب نتیش کمار کب بدل جائے کچھ کہا نہیں جاسکتا ہے، اور رہ گئی چندربابو نائیڈو کی بات، تو ووٹ چوری کے معاملے پر وہ بھی حکمراں جماعت کا کان کھینچ چکے ہیں، اِس لیے حکمراں جماعت نے اُن خطرات کو بھانپ لیا ہے جو مستقبل قریب میں اُنھیں نیست ونابود کرسکتے ہیں، اور فی الحال ریاست بہار میں جناب نتیش کمار، تو مستقبل میں چندربابونائیڈومرکزکے لیے روڑے ثابت ہوسکتے ہیں۔ یہ وہ سیاسی خدشات ہیں جن سے نہ توصرف نظر نہیں کیا جاسکتا ہےاور نہ ہی اُنھیں یکسر نظرانداز کیا جاسکتا ہے۔ اِسی کے ساتھ حزب اختلاف کو بھی خوش فہمی میں مبتلا نہیں رہنا چاہیے کہ اُس نے ووٹ چوری کا ایٹم بم داغ کر بڑا کارنامہ انجام دے دیا ہے۔ کیوں کہ اِس قدر سنگین الزام کے باوجود اگرحکمراں جماعت دباؤ میں آنے کو تیار نہیں ہے، بلکہ خود حزب اختلاف پر دباؤ بنانے میں پیش پیش ہے، تو اندازہ کیا جاسکتا ہے کہ سیاسی بساط پرمات دینے کے لیے وہ کیا کچھ کرسکتی ہے۔
اِس میں بھی شک نہیں کہ آج کل حزب اختلاف، حکمراں جماعت کے مقابلے آگے ہے، لیکن یہی حالات آنے والے دنوں میں بھی رہیں گے یا نہیں، اِس پر بھی نظر رکھنا حزب اختلاف کی پہلی ترجیح ہونی چاہیے، اور اُسے صرف ووٹ چوری کے سہارے آگے نہیں بڑھنا چاہیے۔ بلکہ اُن تمام مسائل کو بھی عوام الناس کے سامنے رکھنا چاہیے جو اِین ڈی اے حکومت میں سراُبھارے ہوئے ہیں۔ علاوہ ازیں اُن افراد کی پشت پناہی کی طرف بھی توجہ ضروری ہے جو وقتاً فوقتاً حکمراں جماعت کی خامیوں اور کوتاہیوں کو اُجاگر کرتے رہتے ہیں۔ اِس سلسلے میں سردست ابھیشار شرما قابل ذکر ہیں جنھوں نے آسام حکومت پر تنقید کی تو اُن پر ایف آئی آر درج کردیا گیا، جب کہ اِس سے پہلے اجیت انجم پر ایس آئی آر کی صداقت باہر لانے کے عوض الیکشن کمیشن کی طرف سے ایف آئی آر کی جاچکی ہے۔
حزب اختلاف کو یہ بھی کبھی نہیں بھولنا چاہیے کہ حکمراں جماعت تمام تر دباؤ کے باوجود ایک چیلنج کی طرح سامنے اُس کے سامنے کھڑی ہے۔ سچ تو یہ ہے کہ وزرادستبراری قانون کے سہارے حکمراں جماعت میدان عمل میں اپنا قدم رکھ چکی ہے اورپوری تیاری کے ساتھ قدم بڑھانے کے لیے پُرعزم بھی ہے، بلکہ ۲۲؍ اگست ۲۰۲۵ ء کواَپنے بہار دورے سے وزیراعظم نے یہ اشارہ دے دیا ہے، جب اُنھوں نے یہ کہا کہ ’’ہم نے ایک ایسا قانون لایا ہے کہ اگر کوئی وزیر یا وزیراعلیٰ یاوزیر اعظم ۳۰؍ دن قید میں رہے تو اُنھیں برخاست کردیا جائے گا۔ لیکن جب ہم نے یہ سخت قانون لایا، تو حزب اختلاف جماعتیں ناراض ہوگئیں، کیوں کہ اُنھیں اپنے بدعنوان ہونے اور سزا پانے کا خوف ستارہا ہے۔‘‘ مزید جس اندازسے اُنھوں نے لالٹین عہد پر تنقید کیا ہے اُس سے بھی حزب اختلاف کو متنبہ ہوجانا چاہیے۔ ورنہ اگر حکمراں جماعت، عوام الناس کو یہ نیا قانون سمجھالےگئی، تو نہ ووٹ چوری کا ایٹم بم کچھ کام آئےگا اور نہ ہی کوئی یاترا۔ غرض یہ کہ حزب اختلاف کو بڑی ہی حکمت عملی کا مظاہرہ کرنا ہوگا اورعوام الناس کو بہرحال یہ احساس دلانا ہوگا کہ حکومت کی طرف سے لایا گیا مذکورہ قانون کس طرح سیاہ اور خطرناک ہے، اور ہمارے خیال سے تواَندھا دھند مخالفت کرنے کی بجائے حزب اختلاف کو کچھ ایسے شق کی شمولیت پر زوردینا چاہیے کہ جس کے باعث کوئی اُس قانون کا اِستعمال منفی طورپر نہ کرسکے، اوراِلزام ثابت نہ ہونے پرمتعلقہ افسران وحکمران ازخود عمرقید کے سزاوار ٹھہرجائیں۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے