کھیلو اور جیتو کے نام پر جوا؟
ڈاکٹر جہاں گیر حسن آج سوشل میڈیا ایک ایسا پلیٹ فارم بن گیا ہے جہاں اچھے سے اچھے تجربات بھی ہوتے ہیں اور بُرے بُرے تجربات بھی۔ چناں چہ آج…
تجویزات وامتیازات سے ملک خوشحال نہیں ہوگا!
ڈاکٹر جہاں گیر حسن ہند- قطر تعلقات سے مستقبل میں ہردوملک کی سیاست وسیاحت اور تجارت ومعیشت پر بلاشبہ گہرےاور اچھے اثرات مرتب ہوںگےاوراِس کے لیے ہم اپنے وزیراعظم کومبارکباد…
رسالہ جامعہ کے تبصرے:ایک جائزہ
ڈاکٹر جہاں گیر حسن مصباحی جامعہ ملیہ اسلامیہ ۲۹؍ اکتوبر۱۹۲۰ء کو علی گڑھ میں قائم ہوئی اور پھر چند برس بعدی ہ دہلی منتقل ہوگئی۔اس ادارے کی وجہِ اساس ہی…
اہل دین کی آفتیں
مفتی منیب الرحمٰن ہم اخلاق اور اقدار وروایات کے عہد تنزل میں جی رہے ہیں، جدید الیکٹرانک وسوشل میڈیا نے اخلاقی زوال کے سفر کو تیز تر کردیا ہے، یہ…
۲۰۲۴ء میں ہمارا کردار کیا ہونا چاہیے؟
ڈاکٹر جہاں گیرحسن 22؍جنوری 2024 کےبعد ہندوستانی سیاست میں ایک اتھل پتھل کا دور چل نکلا ہے۔ کب کیا ہوجائے کچھ پتا نہیں۔ کون کب کیا چال چل جائے کچھ…
اشتعال انگیزی اور جانبداری دونوں قابل مذہب ہیں
ڈاکٹر جہاں گیر حسن گزشتہ ایک دہائی سے جس طرح مذہب وسیاست کو گڈمڈ کردیا گیا ہے اُس نے ملکی ومعاشرتی اورمعاملاتی سطح پرایک ہیجانی کیفیت طاری کردی ہے۔بالخصوص نفرت…
تاریخ در تاریخ کے بعد گیان واپی مسجد بھی جاسکتی ہے!
آخر وہی ہوا جس کی اُمید قوی تھی کہ گیان واپی مسجد کا معاملہ بھی بابری مسجد کے طرز پر اَنجام دیے جانے کے درپے ہے اوریکے بعد دیگرے اُس…
انسانی معاشرے میں بوڑھوں اور کمزوروں کے احسانات
آج کا عہد ترقی یافتہ ہے اور تمام تر جدید ٹکنالوجی سے مزین و مرصع ہے اور ہر طرح کی سہولیات موجود ہیں، اِس کے باوجود وَہ قلبی سکون میسر…