• منگل. فروری 3rd, 2026

بدزبانی کی سیاست اصل ایشوز سے فرار

Byhindustannewz.in

ستمبر 21, 2025

ڈاکٹر جہاں گیر حسن

سیاست معاشرتی زندگی کا ایک نہایت اہم شعبہ ہے جو عوام کی رہنمائی، اُن کے مسائل کا حل اور قومی ترقی کی بنیاد فراہم کرتا ہے۔ کسی بھی جمہوری ملک میں سیاست دانوں کے کردار کو خاص اہمیت حاصل ہوتی ہے کیوں کہ وہی عوام کی نمائندگی کرتے ہیں اور اُن کے مسائل ایوانوں میں اٹھاتے ہیں۔ لیکن افسوس کہ آج کی سیاست میں اصولی و اخلاقی اقدار کے بجائے بدکلامی، الزام تراشی اور ذاتی کردار کشی زیادہ نمایاں دکھائی دیتی ہے۔ ہندوستانی سیاست، جو کبھی اعلیٰ اقدار اور عظیم شخصیات کے کردار سے مزین تھی، اب انتہائی پست وخسیس زبان کا شکار ہو چکی ہے جو عوامی شعور کو گمراہ کرنے کے ساتھ ساتھ معاشرے میں تقسیم اور نفرت کو بھی فروغ دیتی ہے۔
اگر ہم آزادی کی جد وجہد کی تاریخ پرایک نظر ڈالیں تو سیاست میں زبان و بیان کا معیار نہایت بلند تھا۔ گاندھی جی، مولانا ابوالکلام آزاد، پنڈت نہرو اور سردار پٹیل جیسے رہنماؤں کی تقریریں نرم خوئی، حکیمانہ اور مثبت ومدلل ہوا کرتی تھیں۔ تمام تراختلافات اپنی جگہ مگر تہذیب و شائستگی کو ہمیشہ مقدم رکھا جاتا۔ آزادی کے بعد بھی کئی دہائیوں تک سیاست دان عوامی مسائل پر توجہ دیتے رہے اور باہمی اختلاف کو ذاتی دشمنی یا بد زبانی میں کبھی بدلنے نہیں دیے۔ مگر بدلتے وقت کے ساتھ جب سیاست میں مفاد پرستی آئی، طاقت واقتدار اورنفع ونقصان کا غلبہ ہوا، تو زبان و بیان کی پاکیزگی بھی متأثر ہونے لگی۔ حالیہ برسوں میں بد زبانی کی صورت حال اوراُس کے سیاسی منظرنامے سے یہ اندازہ لگانا کچھ مشکل نہیں ہے کہ آج بد کلامی اوربد زبانی تقریباً سیاست کی ہر چھوٹی بڑی سطح پر موجود ہے۔ کیا انتخابی اجلاس اورکیا عوامی اجتماعات ہرجگہ گالی گلوچ، طنز و تمسخر اور ذاتی حملے بخوبی دیکھنے کو مل جاتا ہے۔ حد تک تو یہ ہے کہ پارلیمنٹ اور اِسمبلیاں بھی محفوظ نہیں رہیں۔ جس میڈیا پلیٹ فارم پر سخت کلامی اور بد زبانی کے خلاف بالخصوص مہم چلنی چاہیے آج وہ بھی سخت کلامی اور بد زبانی کے فروغ میں مرچ مسالہ مہیا کررہا ہے۔
سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ موجودہ عہد کے سیاست دانوں کے اندر اِس قدر بے حیائی اور بد کلامی وبد زبانی کیوں پائی جاتی ہے؟ اُس کے اسباب وعلل کیا ہیں؟ تو سب سے پہلی وجہ جو ہمارے ذہن میں اُبھرتی ہے وہ سیاست دانوں کا ناخونداہ اور غیرتعلیم یافتہ ہونا ہے۔ آج بیشتر سیاسی لیڈران تعلیم وتربیت سے ناقابل یقین کی حد تک دور ہیں۔ دوسری وجہ یہ ہے کہ آج کے سیاست دان پہلے کی طرح ملک وقوم کی ترقی کے لیے میدانِ سیاست میں قدم نہیں رکھتے۔ بلکہ محض دولت کمانے کے لیے سیاست میں آتے ہیں۔ اُن کی نظر صرف اور صرف ذخیرہ اندوزی پر ہوتی ہے۔ آج اقتدار وسیاست عوامی خدمات اورسوشل ترقیات کی جگہ ذاتی مفاد کے حصول کا ذریعہ بن گئی ہے۔ ہوسِ اقتدار کی اِس جنگ میں اپوزیشن کو ذلیل وخوارکرنا حکمراں طبقہ نےآسان ہتھیار سمجھ لیا ہے۔ عوام کی بڑی تعداد بھی جذباتی نعرے بازی اور تیز و تند زبان سے متأثر ہونے لگی ہے۔ چناں چہ حکمراں طبقہ بھی اُن کی اِس کمزوری کا مکمل فائدہ اُٹھاتا ہے۔ اُدھرمیڈیا بھی اپنی ٹی آرپی کے پیش نظر سنجیدہ بحث ومباحثے کی جگہ تیز و تند اورنفرتی بیانات کوہوا دیتا ہے، جس سے بد زبانی کو مزید شہرت ملتی ہے۔ بلکہ آج توباضابطہ کئی ایسی تنظیمیں ہیں جو سوشل میڈیا پر اپوزیشن کے ساتھ بد زبانی کرنے کے لیے آٹھوں پہرتیارومستعد رہتی ہیں۔
بلکہ سچ تو یہ ہے کہ بد زبانوں کی فہرست میں وزیراعظم اور وزیرداخلہ جیسے ذمہ دارافراد بھی شامل نظرآتے ہیں جو ہندوستان جیسے جمہوری ملک کے لیے بہت بڑا المیہ ہے۔ ذرائع کے مطابق: وزیراعظم، سونیا گاندھی جیسی معزز خاتون کو’’ودھوا‘‘ کہتے ہوئے ذرہ برابر نہیں ہچکچاتے۔ حد تو یہ ہے کہ اُنھیں ’’جرسی گائے‘‘ سے مخاطب کیا جاتا ہے۔ بد زبانی کی ساری حدیں تو اُس وقت پارکردی جاتی ہیں جب وزیراعظم، بہار کے وزیراعلیٰ نتیش کمار کے ڈی این اے پر سوال کھڑا کرتے ہیں، ششی تھرور کی اہلیہ کو’’پچاس کروڑ کی گرل فرینڈ‘‘ کہہ کر اُن کی ہتک عزت کرتے ہیں۔ اِس سے کون واقف نہیں ہے کہ حکمراں طبقہ نے ایک زمانے تک راہل گاندھی کو ’’پپو‘‘ کے نام سےمذاق اڑایا اوراُن کی توہین کرتا رہا۔ علاوہ ازیں دیگر مرکزی وزرا بھی اِس بد زبانی میں پیچھے نہیں رہے۔ رومیش بدھوری نے بھرے پارلیمنٹ میں ایم پی کنوردانش علی کو’’بھڑوا‘‘، ’’کٹوا‘‘ اورمذہبی دہشت گرد کہا اور کمال بد زبانی کا مظاہرہ کیا۔بعض وزرانے میڈیا کے سامنے اعلانیہ طورپر ’’دیش کے غداروں کو گولی مارو…کو‘‘ کہہ کرایک خاص طبقے کونشانہ بنایا۔ حیرت کی بات تو یہ رہی ہے کہ اِن تمام غیرجمہوری اور غیردستوری حرکتوں کے باوجود نہ تو وزیراعظم کو اِحساس ندامت ہوا اور نہ ہی وزیرداخلہ کو۔ اس کے برعکس جشن منائے گئے اور اِن بد زبانیوں کو سیاسی مفاد کے طورپر اِستعمال میں لائے گئے۔
لیکن آج جب کہ ایک غیرمعروف لڑکے نے اپوزیشن کے اسٹیج سے وزیراعظم کی ماں کی شان میں بد زدبانی توسارا آسمان سراُٹھا لیا گیا ہے۔ حکمراں طبقہ کو آج یہ احساس ہورہا ہے کہ وزیراعظم کی ماں کو گالی دینا باشندگانِ ہند کی ماں کو گالی دینے جیسا ہے۔ کاش کہ حکمران طبقہ بد کلامی اور بد زبانی کو ہوا دیتے وقت ہی یہ غور کرلیا ہوتا کہ ایک نہ ایک دن اُس کی زد میں وہ بھی آسکتا ہے، تو آج یہ نوبت نہیں آتی۔ حالاں کہ کسی بھی قیمت پربد زبانی کوبرداشت نہیں کیا جاسکتا۔ لیکن یہ بھی خیال رہےکہ یہ صرف ایک وزیراعظم کی ماں کی بات نہیں، بلکہ کسی بھی ہندوستانی کی ماں کی شان میں بد زبانی برداشت نہیں کی جاسکتی۔ دوسری طرف ملزم کو اُس کے کیفرکردار تک پہنچانے کی جگہ اِس مسئلے کی آڑ میں اپوزیشن کوگھیرنا بھی مناسب نہیں۔ ورنہ کہیں ایسا نہ ہو کہ ماں کی محبت کی جگہ کرسی کی محبت غالب آجائے اور اصل چوری پکڑلی جائے۔ ویسے بھی عوام وخواص کی اکثریت یہ سوال پوچھ رہی ہے کہ دوسروں کی ماں کے لیے بد زبانی کرتے وقت ایسا خیال کیوں نہیں آیا؟ حالاں کہ حکمراں طبقہ نے اِس معاملے کو جذباتی بنانے میں کوئی کسر نہیں چھوڑی ہے لیکن بہار بند کی ناکامیابی نے ساری قلعی کھول کر رکھ دی ہے۔ لطف کی بات تو یہ ہے کہ جولوگ ’’میں بھی ماں ہوں‘‘ کا بینر لیے بہاربند کرارہے تھے وہ خود ہی احتجاج کے دوران عوام الناس کی ماؤں کی ہتک عزت کرتے نظرآئے۔
یہ تمام باتیں نہ صرف عوامی وملکی سطح پراخلاقیات میں گراوٹ کے اسباب ہیں، بلکہ اِن کی وجہ سے کئی سنگین اثرات بھی مرتب ہوں گے، مثلاً جمہوری نظام کمزورہوگا۔ جمہوری نظام کا اصل مقصد کہ ہرمسئلہ مہذب گفتگو، مضبوط دلائل اور آپسی مکالمے سےحل ہونا چاہیے پسِ پشت چلا جائےگا۔ سماج ومعاشرہ تقسیم کا شکار ہوجائےگا۔ رائے دہندگان اپنے اپنے پسندیدہ لیڈروں کی تقلید میں ایک دوسروں کو گالی دیں گے اور بد کلامی وبد زبانی کریں گے اوریہ تشدد کوبڑھاوادےگا ۔ایک طبقہ دوسرے طبقے سے الجھ پڑےگا۔ تعلیم وتعلّم، صحت وسلامتی، غربت ومفلسی اور روزگارجیسے ایشوز کہیں نظر نہیں آئیں گے، اور بد زبانی وبد کلامی کے شائقین سیاست دان یہی چاہتے ہیں کہ اصل ایشوز عوام کے حاشیۂ خیال میں بھی نہ آنے پائے۔ لہٰذا ہمیں اِس پہلو پر بطور خاص توجہ دینا ہوگا اوریہ سمجھنا ہوگا کہ کوئی بھی بد زبان لیڈرہرگز ہمارے مسائل کے حل کی صلاحیت نہیں رکھتا۔ اگر ہم چاہتے ہیں کہ ہندوستانی سیاست اپنی عظمتِ رفتہ دوبارہ حاصل کرے تو زبان و بیان کی تہذیب کو لازمی طور پر بہرحال زندہ رکھنا ہوگا۔ سیاست میں اختلافات سے انکار ممکن نہیں، لیکن واضح رہے کہ تمام تر اختلافات کی صورت میں اِظہار کا مہذب طریقہ ہی جمہوریت کو مستحکم کرتا ہے۔ لہٰذا بد کلامی وبد زبانی کی جگہ مدلل گفتگو، کردار کشی کی جگہ تعمیری تنقید، اور نفرت کی جگہ محبتانہ مکالمہ کا فروغ ہی ہندوستانی سیاست کو دُنیا کے سامنے ایک روشن ستارہ کی مانند پیش کرسکتا ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے