• اتوار. فروری 8th, 2026

جمہوریت و سیکولرزم کشی اپنے شباب پر

Byhindustannewz.in

اکتوبر 11, 2025

ڈاکٹر جہاں گیر حسن

۶؍اکتوبربروزپیر ہندوستانی جمہوریت اور دستورِ ہند کے لیے ایک بارپھرسے کالا دن ثابت ہوا، جب ایک معمروکیل کی طرف سے بھری عدالت میں چیف جسٹس آف انڈیا پرجوتا پھینکا گیا۔ حملہ آور کی شناخت ۷۲؍ سالہ ایڈووکیٹ راکیش کشورکے طور پرسامنے آئی ہے۔ لطف کی بات یہ ہے کہ جب مبینہ وکیل کو عدالت سے باہر لے جایا جا رہا تھا، تو اُس نے ’’سناتن کا اپمان نہیں سہےگا ہندوستان‘‘ کے نعرے بھی لگائے۔ حملے کی تہہ تک پہنچنے کے بعد جو بات سامنے آئی ہے وہ یہ کہ وکیل موصوف چیف جسٹس آف انڈیا کے ایک فیصلے اور تبصرے سے ناراض تھا۔ بنیادی طورپر یہ سانحہ صرف عدلیہ کی سیکیورٹی پرنہیں سوال اُٹھاتا ہے، بلکہ مذہبی جذبات کی بنیاد پر عدالتی عمل اور اُس کی آزادی میں مداخلت کی ایک خطرناک مثال بھی قائم کرتا ہے۔
آج کا بڑا سوال یہ ہے کہ آخر اِس طرح کا حیرت انگیز سانحہ کیوں پیش آیا؟ اِس کے پیچھے اسباب وعوامل کیا ہیں؟ جہاں تک ہمارا مشاہدہ ہے، تو یہ سانحہ اچانک یا انجانے میں پیش نہیں آیا، بلکہ یہ ایک منظم شازس اور زعفرانی ذہنیت کے تحت انجام دیا گیا ہے۔ یہ کسے پتا نہیں ہے کہ دستورِ ہند اور عدلیہ کے سیکولرزم پر حملہ اوراُس کو کالعدم قرار دینے کی شازسیں آزادی کے بعد سے ہی مسلسل ہورہی ہیں، جن کا ظہور وقتاً فوقتاً پردے کے پیچھے سے بھی ہوتا رہا ہے۔ البتہ! ۲۰۱۴ کے بعد اِس طرح کے سانحات میں ناقابل یقین کی حد تک تیزی آگئی ہے اور پہلے جو شازسیں پردے کے پیچھے سے ہوا کرتی تھیں آج وہ اعلانیہ طورپرحکومت وقانون کی نگرانی میں انجام دی جارہی ہیں۔ چوں کہ پہلے قانون و آئین کا کچھ نہ کچھ خوف تھا اِس لیے تمام ترزعفرانی چالیں خاموشی کے ساتھ چلی جاتی تھیں، لیکن آج جب کہ زعفرانی مزاج طاقتوں کا قبضہ آئین پر ہوگیا ہے، تو اِس طرح کے غیرآئینی سانحات سرعام انجام دیے جارہے ہیں۔ اِس موقع پربالخصوص صاحبان ِ اقتدار کے اُن نفرت آمیز بیانات کو دیکھا جائے کہ جن میں مسلمانوں اور دلتوں سے متعلق زہراَفشانی کی جاتی ہے، توحالیہ عدلیہ سانحہ کا سارا راز خود بخود سامنے آجائےگا کہ راکیش کشور جیسے ملک وسماج دشمن عناصر کہاں سے شہ پاتے ہیں۔
موجودہ عہد حکومت پر ایک اچٹتی سی نظر بھی ڈالی جائے تو اِس بات کے بہت سارے ثبوت مل جائیں گے کہ صاحبانِ اقتدار اور اُن کی ہمنواؤں نے یہ ٹھان لیا ہے کہ اب وہ کسی بھی قیمت پرجمہوری نظام اور سیکولرزم کو برداشت نہیں کریں گے۔ یہ اُسی کا نتیجہ ہے کہ آج سیاست سے لے کر معاشرت تک نفرت اور تعصب کی آندھیاں منھ زور ہوگئی ہیں۔ آج حکومت کی زد پر ہروہ افراد ہیں جو صاحبانِ اقتدار کے لیے چیلنج بن سکتے ہیں۔ حالاں کہ بظاہریہ باتیں اکثریت کے ذہن ودماغ میں بٹھادی گئی ہیں کہ بلڈوزر کے شکار صرف اقلیتی طبقات ہوتے ہیں اور اُنھیں کے رہائشی یا مذہبی مقامات زمیں بوس کیے جاتے ہیں۔ لیکن حقائق بتاتے ہیں کہ اقلیتوں کے ساتھ اکثریتی طبقہ کے اموال واسباب بھی حکومت کی زد پر ہیں۔ دہلی میں چلائے گئے بلڈوزر اِس کی تازہ مثال ہے۔ اِس سے قبل رام مندر کی تعمیر کے پردے میں جس قدر منادر اور اکثریت کے مکانات ودکان زمین دوز کیے گئے اُس کی بھی اپنی ایک تاریخ ہے۔ کسانوں کے حقوق پرکس قدر غاصبانہ رویہ اختیار کیا گیا وہ بھی جگ ظاہر ہے۔ عمرخالد ودیگرمسلم جوانوں کے پردے میں بےحساب غیرمسلم افراد بھی مشق ستم بنے ہوئے ہیں۔ ایک غیرمسلم تاجر جس کے بچوں نے یاترا کے دوران راہل گاندھی کو اپنی جمع پونجی گلک کی شکل میں پیش کیا تواُس تاجر باپ کو خود کشی کرنے پر مجبور کردیا گیا۔ جناب سنجیوبھٹ کو صرف اِس لیے قید وبند کی صعوبتیں جھیلنی پڑیں کہ اُنھوں نے صاحبانِ اقتدار کے جرائم سے پردہ اُٹھانے کی کوشش کی تھی۔ جسٹس لوئیا کی موت اِس لیے ہوگئی کہ اُنھوں نے مجرموں کو کیفردار تک پہنچانا چاہا۔ صدر جمہوریہ دھنکرنظربند ہوگئے جب اُنھوں نےسچائی کا آئینہ اپنے ہاتھ میں لیا۔ سابق گورنرستیہ پال ملک جیسے باہمت اور حق گو فرد بھی سیاست کی بھینٹ چڑھا دیے گئے۔ گورکھپور میں ٹریننگ کے لیے آئیں لڑکیوں کے باتھ روم میں خفیہ کیمرہ لگتا ہے اور مدھیہ پردیش میں ایک درجن سے زائد بچے غلط دوائیں کھاتے ہیں اور سب کی جان چلی جاتی ہے، لیکن حکومت پر کچھ اثر نہیں۔ سونم وانچک جو ہمیشہ ملک کے ساتھ کھڑا رہتا ہے اورملک کا سر فخریہ اُونچا کیا کرتا ہے لیکن جب وہ حکومت کو آئینہ دکھاتا ہے تواُسے نہ صرف گرفتار کیا جاتا ہے بلکہ اُسے غدارِوطن بھی کہہ دیا جاتا ہے۔ آر ایس ایس کی شتابدی یادگارمیں سکہ جاری کیا جاتا ہے، جس میں ’’ترنگا‘‘ نہیں ’’بھگوا‘‘ کندہ ہوتا ہے۔ اِس طرح کے غیرآئینی اُمورپردہ ڈالنے کی غرض سے ہی ہندو-مسلم دشمنی کا گیم پلان کیا جاتا ہےاوراُس کےشکارناخواندہ اورپڑھے لکھے افراد یکساں طورپر ہوتے ہیں۔ اِس کی واضح مثال جوتا پھینکے جانے کا حالیہ سانحہ ہے جس کو اَنجام دینے والا کوئی جاہل نہیں بلکہ ایک سند یافتہ معمرومجرب وکیل ہے۔
حد تو یہ ہے کہ سالیسٹر جنرل بھی غیر آئینی بیان بازی سے گریز نہیں کرتے اوریہ کہتے نظر آتے ہیں کہ عمرخالد جیسے لوگوں کے لیے بہتریہی ہے کہ وہ جیل ہی میں رہیں جب تک کہ اُن کا ٹرائل ختم نہیں ہوتا۔ اِس طرح کا بیان کسی بھی جمہوری اور سیکولر ملک کے لیے بےحد خطرناک ہے۔ ایک سابق جج کا ماننا ہے کہ یہ ایک سالیسٹر جنرل کا بیان کیسے ہوسکتا ہے؟ کیا وہ دستورِ ہند سے واقف نہیں؟ ایسے سالیسٹر جنرل کی توسرزنش ہونی چاہیے تھی، مگرعدلیہ کا کوئی ردّعمل نہیں آتا۔ بلکہ عدلیہ نے توسالیسٹر جنرل کی تائید ہی کردی۔ یہ کسے نہیں پتا کہ اگر عدلیہ کو ضمانت ردّ کرنے کا اختیار ہے، توملزم کو بھی ضمانت کا بنیادی حق ہے کہ اگر اُس کا ٹرائل جلدی ختم نہیں کیا جاتا۔ کہاں گئے عدلیہ کے یہ اُصول اوریہ ضوابط؟ تشویشناک پہلو یہ بھی ہے کہ جس کو پس زندان ہونا چاہیے آج وہ ہیرو بنتا دکھائی دے رہا۔ وزیراعظم کا رویہ دیکھ کربھی یہ سمجھ میں نہیں آتا کہ وہ کس کے ساتھ ہیں؟ عدالت عظمیٰ کے ساتھ یا پھر جوتا پھینکنے والے کے ساتھ؟ وزیراعظم کے محبین جس انداز سے اپنی خوشی کا اظہار کررہے ہیں اُس نے گاندھی جی کے قتل کی یاد ایک بار پھر سے تازہ کردی ہے۔
جمہوری نظام اور سیکولرزم کو کالعدم ماننے کا ثبوت اِس سے واضح اورکیا ہوسکتا ہے کہ ناقابل معافی جرم کے باوجود مبینہ وکیل پر نہ کوئی مقدمہ درج ہوتا ہے اورنہ ہی وہ زندان بھیجا جاتا ہے۔ اس کے برعکس اگر کسی مسلم نے جوتے بازی کی ہوتی تو آج وہ نہ صرف سلاخوں کے پیچھے ہوتا، بلکہ بہت ممکن تھا کہ بھری عدالت میں اُس کی لنچنگ کردی جاتی۔ بہرائچ وسنبھل اورفتح پور وبریلی کی مثال آج ملک کے سامنے ہے کہ مسلمانوں کے آئینی حقوق بھی چھین لے جاتے ہیں، اُن کے مکانات بھی بلڈوزکردیے جاتے ہیں اور پھر اُنھیں کو زندان میں بھی ڈال دیا جاتا ہے۔ تقریباً یہی کچھ حالات ملک کے پسماندہ ودلت طبقات کے بھی ہیں اور اُن افراد کے بھی جو جمہوری نظام اورسیکولرزم میں یقین رکھتے ہیں۔
بہرحال بلا امتیازِمذاہب وطبقات تمام باشندگان ِہند کو اِس پہلو پراِنتہائی سنجیدگی سے غور وفکر کرنا ہوگا کہ آخر ہندوستان کی جمہوری شناخت اور سیکولرزم کی بحالی کو کیسے یقینی بنایا جائے۔ اگرہم لوگوں نے اپنی عقل وخرد سے کام نہیں لیا، تو وہ دن دور نہیں کہ ہم اپنے ہی ملک اوراپنے ہی گھرمیں اجنبی اور بیگانے ہوجائیں گے۔ یہ بھی خیال رہے کہ ہندوستان کی جمہوری شناخت اور سیکولرزم کی حفاظت کسی ایک قوم یا طبقہ کی ذمہ داری نہیں ہے بلکہ سبھی ملکی باشندوں پرلازم ہے کہ وہ اِتحاد واتفاق کے ساتھ کوئی نہ کوئی موثراور ٹھوس قدم اُٹھائیں۔ بصورت دیگر نہ جمہوری نظام محفوظ رہےگا اورنہ سیکولرزم۔ پھرایک ایسی جماعت سے جمہوریت و سیکولرزم کی اُمید رکھنا جس کی اساس ہی جمہوریت و سیکولرزم کی نفی پرٹکی ہوئی ہے، اپنے پیروں پر کلہاڑی مارنے کے سوا اور کچھ نہیں۔ بلکہ جس طرح انگریزی حکومت نے رجواڑوں اور جاگیرداروں میں منافرت اورتقسیم کے ذریعے ہندوستان میں اپنی عمریں دراز کیں، ویسے ہی موجود ہ ہندوستان میں بھی ہوتا رہےگا۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے