• اتوار. فروری 8th, 2026

تعلیم گاہوں کا چہرہ مسخ کرنے کی کوشش

Byhindustannewz.in

اکتوبر 20, 2025

ڈاکٹر جہاں گیر حسن

۲۸؍ ستمبر ۲۰۲۵ ء کو دہلی یونیورسٹی کے وائس چانسلر جناب یوگیش اپنے ایک خطاب میں اربن نکسل کے خاتمے پر پوری طاقت و قوت سے بخوبی زور دیتے نظرآئے۔ لیکن کسی بھی جہت سے وہ ایک تعلیمی ادارہ کے ذمہ دارنگراں محسوس نہیں ہوتے۔ البتہ! اُن کے خطاب سے یہ ضرورواضح ہوتا ہے کہ وہ دہلی یونیورسٹی کے وائس چانسلر کم اور حکومت ہند کے ترجمان ونمائندہ زیادہ ہیں۔ دوسرے لفظوں میں کہا جائے تو اُن کا خطاب بہرصورت ہرہندوستانی شہری کو یہ سوچنے پر مجبورکردیتا ہے کہ کیا دہلی یونیورسٹی واقعی وہی تعلیمی ادارہ ہے جس کی اپنی ایک ناقابل فراموش علمی و تعلیمی تاریخ ہے؟ سب سے پہلے تو موصوف اپنے خطاب کا آغاز ہی حکومت ہند کو اُس عہد وپیمان پر مبارکباد دیتے ہوئے کرتے ہیں جس میں ۳۱؍ مارچ ۲۰۲۶ء تک اربن نکسل کے خاتمے کی بات کہی گئی ہے۔ وائس چانسلر کے بموجب: اربن نکسل کا کوئی چہرہ نہیں ہوتا۔ یہ یونیورسیٹیوں میں پروفیسر بھی ہوسکتا ہے، ڈاکٹربھی ہوسکتا ہے اور ملازم بھی ہوسکتا ہے۔ نہ جانے کس روپ میں یہ مل جائے کچھ کہا نہیں جاسکتا ہے۔ مگریہ بات سمجھ سے باہرہے کہ وائس چانسلر کس اربن نکسل کے خاتمے کی بات کررہے ہیں؟ کیوں کہ جب وزیرداخلہ سے ۲۰۲۰ء میں اربن نکسل سے متعلق دریافت کیا گیا تواُن کی طرف سے یہ جواب آیا کہ ایسی کوئی جانکاری ہمارے پاس نہیں ہے کہ اربن نکسل کوئی چیز ہوتی ہے، یا یہ پنپتے ہیں یا پیدا ہوتے ہیں اور کیا کام کرتے ہیں۔ لیکن وائس چانسلر نے اپنے مثال میں جس نظریے کے حامل افراد کو اَربن نکسل کے طورپر پیش کیا ہے اُس سے اُن کا نظریہ آئینے کی طرح صاف ہوجاتا ہے کہ اُن کے فکاروخیالات کہاں سے مستفاد ہیں اور وہ کس ڈیوٹی پرتعینات ہیں؟ بحیثیت وائس چانسلر ڈیوٹی پر ہیں یا پھر حکومت و آرگنائزیشن کی ڈیوٹی پر؟ ایک عالمی یونیورسٹی کے وائس چانسلرکا دوسری عالمی یونیورسٹی (جےاین یو) کے اِسٹوڈینٹس کو محض اِس بنیاد پر اربن نکسل بتانا کہ اُنھوں نے حکومت ہند کے خلاف تاریخی پروٹسٹ کا اہتمام کیا تھا اور اُس کی کمیاں اُجاگر کرنے کی کوششیں کی تھیں، تاکہ حکومت ہند اپنی اصلاح کرسکے اور کوئی ایسا قدم نہیں اُٹھا سکے جس سے کہ ملک وملت کا خسارہ ہواور آئین کی خلاف ورزی ہو۔ اُنھوں نے دوسری مثال یہ پیش کی کہ جب میں ڈی ٹی یو کا وائس چانسلر تھا توکچھ آزاد پسند لڑکیاں جو ’پنجرہ توڑ‘ آرگنائزیشن چلاتی تھیں، میرے پاس آئیں اور لڑکوں کے برابر کیمپس سے باہر آنے جانے کے حقوق کا مطالبہ کرنے لگیں اور آہستہ آہستہ اُن کا کردار یوں نمایاں ہوا کہ جس کی زد پر ہم تو آئے ہی، اُن کے والدین بھی اُن سے محفوظ نہیں رہ سکے، اور یہی لڑکیاں جنھیں نہ ملک وملت کا خیال رہتا ہے اورنہ والدین وسرپرستان کے احترام کا کچھ شدھ بدھ۔ لیکن بڑی حیرانی تب ہوتی ہے جب یہی ’پنجرہ توڑ‘ لڑکیاں’سی اے‘ کے خلاف پروٹسٹ میں سب سے آگے رہتی ہیں۔ اُس کے فاؤنڈر دیونگنا کالیتا اور نتاشا نروال دونوں ۲۰۲۰ء میں یوپی اے کے تحت گرفتار ہوتی ہیں۔ دہلی فساد میں بھی اُن کا نام آتا ہے۔ یہ بھی اربن نکسل کا ایک روپ ہے۔ ایک تیسری مثال یہ پیش کی کہ ۲۰۱۸ء میں گورے گاؤں کے اندر کاسٹ کو لے کر جوفساد ہو برپا ہوا، اُس میں مہاراشٹر پولیس نے کئی جرنلسٹ، اساتذہ اور دیگر لوگوں کو گرفتار کیا۔ دہلی یونیورسٹی تک بھی اُس کی آنچ پہنچی۔ نہ جانے کتنے تعلیمی ماہرین اُس کے شکار ہوئے، مثلاً شوبھا سنگھ ، رونا ویلسن، آنند، گوتم، نولَکھا وغیرہ۔ اِن سب پر ماؤوادی جماعت سے تعلق رکھنے کا الزام لگا کہ اُنھوں نے حکومت و ملک کے خلاف لوگوں کو بھڑکانے اور تحریک چھیڑنے کا جرم کیا۔اُسی طرح پاپولر فرنٹ آف انڈیا ایک آرگنائزیشن جو کبھی دہلی یونیورسیٹی میں بھی سرگرم رہی ہے اور’سی اے‘ کے خلاف احتجاج میں نمایاں کردار ادا کیا۔ اِن تمام آرگنائزیشن اورافراد کا نام لینے کے بعد وائس چانسلر اپنے مخاطب سےجوباتیں کہتے ہیں وہ ہرمحب وطن کے ہوش اُڑا دیتے ہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ یہ تمام آرگنائزیشن اور یہ اِس طرح کے تمام لوگ اربن نکسل ہیں۔ اُن کی باتوں میںنہ آؤ۔ اُن کی معصومیت سے دھوکہ نہ کھاؤ۔اُن کی دلیلوں پردھیان نہ دو۔ یاد رکھوکہ یہ لوگ ملک وقوم کے بھلے کے ساتھ سمجھوتہ کیے بیٹھے ہیں۔ یہ خود سپردگی نہیں کریں گے۔ اِن سے خود سپردگی کی اُمید رکھنا نادانی سے سوا کچھ نہیں ہے۔ اِن کو صرف کچلنا ہوگا، اور مثال میں مشہورشاعرہری اوم پوارکی نظم سناتے ہیں، جس کا مفہوم یہ ہے کہ اِس زمین پر قاتل بندقوں نے کچھ اچھا نہیں کیا ہے اوردنیا میں کہیں بھی آتنک واد نے خودسپردگی نہیں کی ہے۔ یہ لوگ صرف کچلے جانے کے لائق ہیں اوراُن سے نپٹنے کے لیے دوسرا کوئی راستہ نہیں۔عہد وپیمان اورٹھان لینے کے بعد دُنیا کی پرواہ نہیں کرنا چاہیے۔ اندازہ کیجیے کہ کس انداز سے خون خرابے اور تشدد کی تعلیم دی جارہی ہے؟
سوال پیدا ہوتا ہے کہ ایک قومی تعلیمی ادارے کے وائس چانسلر کا یہ نظریہ ایک عالمی ادارے کو کس طرف لے جارہا ہے؟ جس شخص کوتعلیمی ترقی اور ادارتی ترقی پر فوکس رکھنا تھا اُس نے اپنے پورے خطاب میں کہیں بھول سے بھی تعلیمی ترقی اور ادارتی ترقی پر کچھ نہیں کہا۔ جن اساتذہ اور جن ملازمین کو یہ پیغام دینا چاہیے تھا کہ تعلیمی معاملات میں ادنی سی کوتاہی اور معمولی سی سستی کے لیے بھی کوئی جگہ نہیں ہے۔ اس کے برعکس اپنے اساتذہ واصحاب کو نظریاتی جنگ میں جھونک رہے ہیں، بلکہ مرنے مارنے کی تحریک و ترغیب بھی دے رہے ہیں۔ پھر ایک ایسے وائس چانسلر سے اوراُمید بھی کیا کی جاسکتی ہے جو وویک اگنی ہوتری جیسے نفرت آمیز نظریے پرمبنی فلم بنانے والے کا پرستار اور فالورہو۔ جو ایسے فلم میکر کا سپوٹرہو جس کی فلمیں ملک وملت کو جوڑنے کی بجائے توڑنے کا فریضہ انجام دیتی ہیں۔ جو ڈیموکریٹک کے نام پرنفرت انگیز فلموں کی یونیورسٹیوں میں اسکریننگ کا حمایتی ہواور باشندگان ہند کے حقوق کی باتیں کرنے والے کو ملک وملت کے حق میں غیرمفید سمجھتا ہواور اُنھیں اربن نکسل قراردیتا ہو۔ دہلی یونیورسٹی کے وائس چانسلر نے جس اہمیت کے ساتھ حکومت ہند، وزیراعظم اوروویک اگنی ہوتری کا ذکرکیا اُس سے اُن کی تنگ نظری اور جانبداری و تعصب کو بخوبی محسوس کیا جاسکتا ہے۔ اُن کے۲۴-۲۵؍ منٹ کے خطاب میں کہیں بھی کسی تعلیمی ایکسپرٹ کا نام سننے کو نہیں ملتا ہے اور نہ ہی پیار ومحبت سے اصلاح وسدھار کی بات ملتی ہے۔ ایک وائس چانسلر کا یہ رجحان کسی بھی نہج سے ملک وقوم کے حق میں نہیں۔
بہرحال یہ قابل غور پہلو ہے کہ ایک ایسے ملک و سماج میں جہاں کے تعلیمی ادارے اُخوت ومروت اور پیارومحبت کے مراکز ہیں اورجہاں ہمیشہ عدم تشدد کو اَولیت حاصل رہی ہے، بلکہ آج بھی پوری دنیا ہندوستان کی عدم تشدد پالیسی کواپنانے میں یقین رکھتی ہے۔ حد تو یہ ہے کہ عدم تشدد کی راہ پر چلتے ہوئے بڑے بڑے عالمی لیڈروں نے دنیا پر اپنا سکہ بھی جمایا ہے اور فتحیابی بھی حاصل کی ہے۔ اِس سلسلے میں مارٹن لوتھر کنگ جونیئر (امریکہ) اورنیلسن منڈیلا (جنوبی افریقہ) کا نام نمایاں ہے۔ علاوہ ازیں ماضی میں امریکی سیزر شاویز نے کسانوں کے حقوق کی بازیابی کے لیے عدم تشدد کے اصولوں کو اَپنایا۔ لیچ ویلیسا (پولینڈ) ’سولیڈیریٹی تحریک‘ کے ذریعے کمیونسٹ سسٹم کے خلاف عدم تشدد پرمبنی مزاحمت کی گئی۔ دلائی لاما (تبّت) جیسے مذہبی گرو نے بھی عدم تشدد کے فلسفے کو تبّتی عوام کی آزادی کے لیے اختیارکیا۔ سرحدی گاندھی خان عبدالغفار خان نے ’خدائی خدمتگار تحریک‘ کے ذریعے عدم تشدد پر مبنی جدوجہد کی۔ لیکن افسوس کہ دنیا کو عدم تشدد کا نظریہ پیش کرنے والے گاندھی جی کے ملک میں آج تشدد کی باتیں ہورہی ہیں اوروہ بھی اُن مراکزسے جہاں سےعدم تشدد کے درس دیے جاتے ہیں، اور حیران کن بات یہ ہے کہ یہ سب کچھ تعلیم و تعلّم کے نام پر ہورہا ہے اور اِس کی حمایت بھی تعلیم یافتہ افراد کررہے ہیں۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے