• پیر. فروری 9th, 2026

ملکی منظر نامہ

ملکی منظر نامہ

  • Home
  • ہندوستانی جمہوری نظام پر غیر جمہوری نظریات کا سایہ

ہندوستانی جمہوری نظام پر غیر جمہوری نظریات کا سایہ

ڈاکٹر جہاں گیر حسن ہرہندوستانی کو اس بات پر فخر ہے کہ وہ ایک ایسے ملک میں رہتا ہے جو عالمی سطح پر ایک بڑا جمہوری نظام رکھتا ہے اور…

الزام اُن کو دیتے تھے قصور اپنا نکل آیا

ڈاکٹر جہاں گیر حسن گزشتہ دنوں برسراِقتدارجماعت نے اپنی ایک ماہ کی مدت پوری کرلی، اور اِس دوران جس قدراَلمناک اورغیراِطمینان بخش معاملات سامنے آئے ہیں اُن سب کا رپورٹ…

اپوزیشن کے سامنے لاجواب حکمران…

ڈاکٹر جہاں گیر حسن ایک زمانہ تھا کہ کچھ سیاسی جماعتیں راہل گاندھی کو’’پپو‘‘کہتے نہیں تھکتی تھیں اور بساط سیاست پر اُنھیں ناکارہ ثابت کرنے کے تمام تر حربے بھی…

تمہیں کہوکہ یہ انداز ِگفتگو کیا ہے؟

ڈاکٹر جہاں گیر حسن یوں توآزادی کے بعد سے ہی اکثریت کا ایک طبقہ مسلمانوں کے خلاف نفرتی اقدام کرنےکو بہرحال جائز ٹھہراتا آرہا ہے اور اِس سلسلے میں منظم…

پارلیمانی انتخابات: معقول منصوبہ بندی کی ضرورت

ڈاکٹر جہاں گیرحسن ۲۲؍ جنوری ۲۰۲۴ء کےبعد ہندوستانی سیاست میں ایک طرح سے جدید اُتھل پتھل کا دور چل نکلا ہے۔ کب کیا ہوجائے کچھ پتا نہیں۔ کون کب کیا…

خوش فکر وخوش کردار اَفراد کا انتخاب ضروری

ڈاکٹر جہاں گیرحسن ہمارا ہندوستان، جہاں مہمانوں کو خداکا فرستادہ سمجھاجاتا ہے، جہاں انسانیت سے محبت ہی دین اور دھرم شمار کیا جاتاہے اور جہاں عورتوں کو ماں، بیٹی، بہن،…

لگے گی آگ تو آئیں گے گھر کئی زد میں…

ڈاکٹر جہاں گیر حسن ہندوستان جسے پوری دنیا اُخوت ومروت اور اِنسانی بھائی چارہ کا گہوارہ تسلیم کرتی رہی ہے اور گنگا-جمنی مشترکہ تہذیب کا علمبردار مانتی رہی ہے آج…

نفرت کے بازار میں محبت کی سجتی دکانیں

ڈاکٹر جہاں گیر حسن رمضان کا مبارک مہینہ چل رہا ہے اور مسلم برادران دل و جان سے ماہِ رمضان کی مکمل پابندی کر رہے ہیں اور اپنے خالق و…

ہندو-مسلم نہیں، ہندوستان خطرے میں ہے

ڈاکٹر جہاں گیر حسن ہندوستان میں مٹھی بھر خودغرضوں اور اِبن الوقتوں نے ایوان سیاست میں جو تکدر کاماحول بپا کر رَکھا ہے اُس کا نظارہ آزادی کے بعد سے…

کھیلو اور جیتو کے نام پر جوا؟

ڈاکٹر جہاں گیر حسن آج سوشل میڈیا ایک ایسا پلیٹ فارم بن گیا ہے جہاں اچھے سے اچھے تجربات بھی ہوتے ہیں اور بُرے بُرے تجربات بھی۔ چناں چہ آج…

تجویزات وامتیازات سے ملک خوشحال نہیں ہوگا!

ڈاکٹر جہاں گیر حسن ہند- قطر تعلقات سے مستقبل میں ہردوملک کی سیاست وسیاحت اور تجارت ومعیشت پر بلاشبہ گہرےاور اچھے اثرات مرتب ہوںگےاوراِس کے لیے ہم اپنے وزیراعظم کومبارکباد…

۲۰۲۴ء میں ہمارا کردار کیا ہونا چاہیے؟

ڈاکٹر جہاں گیرحسن 22؍جنوری 2024 کےبعد ہندوستانی سیاست میں ایک اتھل پتھل کا دور چل نکلا ہے۔ کب کیا ہوجائے کچھ پتا نہیں۔ کون کب کیا چال چل جائے کچھ…

ہلدوانی: انہدامی کارروائی کب تک؟

اشتعال انگیزی اور جانبداری دونوں قابل مذہب ہیں

ڈاکٹر جہاں گیر حسن گزشتہ ایک دہائی سے جس طرح مذہب وسیاست کو گڈمڈ کردیا گیا ہے اُس نے ملکی ومعاشرتی اورمعاملاتی سطح پرایک ہیجانی کیفیت طاری کردی ہے۔بالخصوص نفرت…

تاریخ در تاریخ کے بعد گیان واپی مسجد بھی جاسکتی ہے!

آخر وہی ہوا جس کی اُمید قوی تھی کہ گیان واپی مسجد کا معاملہ بھی بابری مسجد کے طرز پر اَنجام دیے جانے کے درپے ہے اوریکے بعد دیگرے اُس…

جمہوری فکر پر زَعفرانی فکر کا غلبہ؟

ڈاکٹر جہاں گیر حسن عالمی سطح پر ہندوستان کا چمکتادمکتاجمہوری چہرہ اب زعفرانی فکر کے قالب میں ڈھلتا جارہا ہے۔ زعفرانی فکر ونظرکیا ہے؟تو جہاں تک ہم نے اِسے سمجھا…

ایک سنہرا موقع ہاتھ سے نکل گیا!

ڈاکٹر جہاں گیر حسن واقعی آج بالکلیہ نیاعہدآچکا ہے اور ایسا عہدشاید کبھی آیا اور نہ کبھی آئےگا۔ موجودہ حالات یکسر عجب غضب معلوم پڑتے ہیں۔ آج کل پورے ہندوستان…

اصل موضوع سے بھٹکانے میں سرگرم حکمراں

2014ء کے انتخاب میں جن ایشوز کوحکمراں جماعت نے اٹھایا تھااُن میں ایک معروف ومشہور مدعا ’’سب کا ساتھ سب کا وکاس‘‘ تھا۔لیکن انتخاب میں کامیابی حاصل کرلینے کے بعد…

مذہبی کشیدگی: ہندوستان کے ماتھے پر ایک بدنما داغ

ڈاکٹر جہاں گیر حسن پچھلے کچھ دنوں سے سوشل میڈیا پر یہ پیغام نشر کیا جارہا ہے کہ اقلیتی طبقہ 22؍ جنوری تک لمبے سفر سے پرہیز کرے۔ کیوں کہ…

حوروں کو چھوڑیں اور ہندوستان کی فکر کریں

ہمارے حکمران طبقہ اور سربران حکومت اگر ہندوستان کی ترقی و خوشحالی اور اَمن وآشتی کے لیے واقعی سنجیدہ ہیں تو اُنھیں چاہیے کہ آج اولین فرصت میں ملک و…

عوامی جگہوں پر نماز رَحمت یا زحمت؟

ڈاکٹر جہاں گیر حسن پچھلے کئی دنوں سے سوشل میڈیا پرایک ویڈیو وائرل ہو رہا ہے جس سے واضح ہوتا ہے کہ کچھ افراد ٹرین کے اندر رِیزرویشن بوگی کی…

لیو اِن ریلیشن شپ ہندوستان کو لےڈوبےگی

ڈاکٹر جہاں گیرحسن تعلیم وترقی کے میدان میں آگے بڑھنا اور خوب خوب کامیابی حاصل کرنا بُری بات نہیں اور نہ آزادی کی وکالت اور ہرشہری کو اُس حق دینا…

؍۲؍فیصد بنام ۱۸؍فیصد

ڈاکٹر جہاں گیر حسن پچھلے دنوں پنجاب کی سیاسی جماعت شرومنی اکالی دل کے سربراہ جناب سکھبیر سنگھ بادل نے اپنے ایک اجلاس میں اپنی قوم کے اتحاد اور مسلم…