ڈاکٹر جہاں گیر حسن
قطب عالم خواجہ شاہ قیام اصدق رحمہ اللہ (1301ھ/1874ء) سلسلہ فخری نظامی چشتی کے عظیم روحانی پیشوا گزرے ہیں، سید رُکن الدین اصدق اُسی یکتائے روزگار خانوادے کے چشم وچراغ تھے۔ آپ 1943ء میں بمقام پیربیگھ (نالندہ) پیدا ہوئے۔ درجہ وسطانیہ تک کی تعلیم مدرسہ انوارالعلوم گیا میں حاصل کی اورپھراعلی تعلیم کے لیے واردِ مبارک پور ہوئے، جہاں جلالۃ العلم حضور حافظ ملت الشاہ عبدالعزیز رحمہ اللہ کی تربیت ونگہداشت میں علوم نبویہ واخلاق نبویہ مزین ومرصع ہوئے۔
آپ نہ صرف ایک جید عالمِ دین تھے بلکہ ایک مخلص مفکر و مصلح بھی تھے۔ آپ کی شخصیت وتصانیف علم وحکمت، فہمِ دین وتفہیم دین اور اصلاحِ معاشرہ کا حسین امتزاج تھیں۔ آپ کی تحریروں میں دینی بصیرت اور تحقیقی متانت پائی جاتی ہے۔ آپ کی تصانیف محض علمی مباحث تک محدود نہیں بلکہ وہ ایک زندہ پیغام، فکری رہنمائی اور عملی زندگی کے لیے روشن اصول فراہم کرتی ہیں۔ نیز اُسلوب کی سلاست اور بیان کی شگفتگی بھی قاری کو اپنی طرف متوجہ کرتی ہے۔ یہ مضمون ’’ سید رکن الدین اصدق: بیانیہ اور تصانیف کے آئینے میں‘‘ دراصل آپ کی بعض تصنیفی خدمات کا جامع مطالعہ پیش کرنے کی ایک چھوٹی سی کوشش ہے، جس کے ذریعے آپ کی تصنیفی کاوشوں کو سمجھنے اور اُن کے اثرات کا جائزہ لینے کی کوشش کی جائےگی۔ آئیں ذیل پہلے آپ کی بعض تصانیف پر ایک سرسری نظر ڈالتے ہیں، تاکہ آپ کی فکری و عبقری شخصیت نکھر جائے اور قارئین آپ سے بخوبی آشنا ہوسکیں، مثلاً:
آئینہ مخدوم جہاں: یہ ایک روحانی، ادبی اور تاریخی آئینہ ہے جس میں مخدوم جہاں کی شخصیت، تعلیمات اورخدمات کو مختلف جہات سے پیش کیا گیا ہے۔ اس کا بنیادی مقصد اُن کی حیات، افکار اور تصنیفی ورثے کو منظم اندازمیں قارئین تک پہنچانا ہے، مثلاً: باب اول میں مخدوم جہاں کی ولادت، تعلیم و تربیت، روحانی سفر، مشائخ سے تعلق اور عوامی خدمات کو اُجاگرکیا گیا ہے جس سے اُن کی شخصیت کے روحانی وقار اور عملی زندگی کی جھلک سامنے آتی ہے۔باب دوم میں بالترتیب ’’مکتوبات صدی‘‘،’’ مکتوبات دوصدی‘‘ اور’’بست وہشت‘‘ پر روشنی ڈالی گئی ہے، جس سے واضح ہوتا ہےکہ باوجودیکہ مکتوبات صدی میں ابتدائی مکتوبات ہیں لیکن اصلاح نفس اورسادگی واثرانگیزی میں کمال خوبی کے حامل ہیں۔ ’’ مکتوبات دوصدی‘‘میں نسبتاً بعد کے مکتوبات شامل ہیں جن میں فکری پختگی بطیب خاطر موجود ہے اوریہ خطوط روحانیت کے دقیق مسائل اور سالکین کی رہنمائی کے لیے ناگزیر ہیں۔ جب کہ’’بست وہشت‘‘ میں اِنسانی وجود اوراُس کی حقیقت پر مبنی متصوفانہ و فلسفیانہ فکری مباحث کمال وجمال کے ساتھ نمایاں ہیں۔ باب سوم میں مخدوم جہاں کے ملفوظات ’’معدن المعانی‘‘اور’’خوان پر نعمت‘‘ کو جگہ دی گئی ہے۔ اول الذکر اَقوال وارشادات کے انمول خزانے ہیں اور گہرے روحانی معانی اور حکمت سے لبریز ہیں۔ ثانی الذکرمخدوم جہاں کی مجالس اور روزمرہ کی تعلیمات پر مشتمل ہے، جہاں عملی زندگی کےلیے رہنما اُصول ملتے ہیں۔ باب چہارم میں ’’ شرح آداب المریدین‘‘ اور’’فائدہ رکنی‘‘ جیسی اہم تصانیف کا ذکر ہے، جن میں مریدین وسالکین کے آداب اور سلوک کے اُصول، اور شیخ و مرید کے روابط و تربیت کے اصول بیان کیے گئے ہیں۔ جو سالک کے لیے رہنمائی کا عمدہ ذریعہ ہیں۔
گویا ’’آئینہ مخدوم جہاں‘‘ ایک جامع تصنیف ہے جومخدوم جہاں کی سوانح، مکتوبات، ملفوظات اورعلمی خدمات کو یکجا کرتی ہے۔ یہ نہ صرف صوفیانہ ادب کا اہم نمونہ ہے بلکہ روحانی تربیت اوراخلاقی اصلاح کے ضمن میں بھی ایک مؤثر ورہنما کتاب ہے۔ جہاں تک طرزِبیان کی بات ہے تو زبان سادہ اور رواں ہے جسے عام قاری کو بھی تصوف کے دقیق مضامین سمجھنے میں آسانی ہوتی ہے۔ لطافت تصوف اور روحانیت کا گہرارنگ بھی نمایاں ہے۔ بالخصوص ایسے الفاظ اور جملے استعمال کیے گئے ہیں جو قاری کے دل پر نتیجہ خیز اثر ڈالتے ہیں اور اُسے روحانی فضا میں جینے پر مجبور کردیتے ہیں۔ جہاں کہیں بھی ممدوح کا ذکرہوا ہے مالہ وماعلیہ کے بیان میں منصفانہ طرز اَدا کے ساتھ اِنتہائی مؤدبانہ اور عقیدت مندانہ اسلوب اختیارکیا گیا ہے جو مصنف کے مؤرخ و معتقد ہونے کے واضح ثبوت ہیں۔ تمثیل، تشبیہ اور حکیمانہ جملوں کے ذریعے پیچیدہ صوفیانہ تصورات کو آسان تراَنداز میں پیش کیا گیا، جیسے’’آئینہ‘‘ کی علامت، بذات خود ایک گہری معنویت رکھتی ہے، لیکن افہام وتفہیم کے لیے آسان اور کافی متعارف ہے۔ ملفوظات ومکتوبات کے بیان میں بھی ناصحانہ اور اصلاحانہ پہلو کا غلبہ ہے اورایسا اِس لیے ہے تاکہ قاری نہ صرف پڑھے، بلکہ اپنی عملی زندگی میں بھی تبدیلی لائے۔ علاوہ ازیں مختلف ابواب (حیات، مکتوبات، ملفوظات، تصنیفات) ایک منظم وترتیب واراَنداز میں پیش کیے گئے ہیں، جس سے مطالعہ آسان اور مؤثر ہوجاتا ہےاورتصنیف کا جومقصد ہے وہ بخوبی حاصل ہوجاتا ہے کہ ’’مخدوم جہاں صرف ایک تاریخی شخصیت نہیں، بلکہ ایک روحانی رہنما ہیں۔ اُن کی تعلیمات آج بھی قابلِ عمل ہیں تصوف محض نظری نہیں بلکہ عملی زندگی کا حصہ ہے۔
خطرات کے بادل: یہ ایک اصلاحی، فکری اور تنبیہی نوعیت کی کتاب ہے، جس میں امتِ مسلمہ خصوصاً برصغیر کے مسلمانوں کو درپیش فکری، اعتقادی اور عملی مسائل کونمایاں کیا گیا ہے۔ کتاب کا انداز تنقیدی بھی ہے اور اصلاحی بھی، یعنی اِس میں صرف خرابیوں کی نشاندہی نہیں کی گئی ہے بلکہ اُن کے حل کی تدبیراور اُس کی طرف رہنمائی بھی کی گئی ہے، مثلاً:
باب اول میں دین و دنیا سے متعلقات پر روشنی ڈالی گئی ہے۔ حجازاورآلِ سعود کے حوالے سے دینی و سیاسی اثرات کا جائزہ لیا گیا ہے۔ وہابیت کے اشاعت اور اُس کے اثرات خصوصاً ہندوستان کے اندراُمت میں پیدا ہونے والے فتنوں اور بدلتے حالات کو نمایاں کیا گیا ہے۔ اِس حصے میں مصنف ایک نقاد کے طور پر سامنے آتے ہیں جنھیں اُمت کے فکری اِنحرافات پر بےحد تشویش ہے۔
باب دوم میں داخلی کمزوریوں اور بالخصوص خود اِحتسابیوں پر فوکس رکھا گیا ہے، مثلاً: جماعتی ذوق کا فقدان اور اِنفرادی فکرپر تنقید، وقتی تقاضوں سے غفلت، حالات حاضرہ کے مسائل کو نہ سمجھنا وغیرہ۔ اِس میں علما، خطبا، مدارس، خانقاہوں کو براہِ راست خطاب کیا گیا ہے۔ مصنف کا انداز ایک مصلح اور داعی کا ہے جو اُمت کے مختلف طبقات کو بیدار کرنا چاہتے ہیں۔
باب سوم میں اصلاحانہ لائحہ عمل پر کامل توجہ مرکوز رکھی گئی ہے اوربڑی گہرائی سے مسائل اوراُن کے حل بیان کیے گئے ہیں، مثلاً: تنظیم و جماعت کی اہمیت پر زور،خانقاہوں کی زبوں حالی اور سلسلوں کے تعصب پر تنقید،طلبا و علما کی بے عملی کی وجوہات، غیرمقلدین اور دیگر طبقات کے ساتھ تعامل میں نرمی کی دعوت، شریعت و طریقت کے مابین توازن واعتدال کی ضرورت وغیرہ۔ کتاب کا یہ حصہ بخوبی واضح کرتا ہے کہ مصنف صرف تنقید کے قائل نہیں بلکہ اصلاحی لائحہ عمل کے بھی خوگرہیں۔
یہ کتاب محض معلوماتی اشیا پر مشتمل نہیں بلکہ تحریکی اور اصلاحی ادب کی ایک عمدہ مثال ہے، جس کا مقصد معاشرے میں شعوراورعمل دونوں کو بیدار کرنا ہے۔ اُس کے مطالعے سے واضح ہوتا ہے کہ مصنف ایک سنجیدہ دینی مفکر ہیں جو اپنے عہد کے مذہبی، سماجی اور فکری بحرانوں پر گہری اور پینی نظر رکھتے ہیں۔ نیزدینی غیرت و حساسیت، اصلاحِ امت کا جذبہ، اعتدال کی دعوت، شدت پسندی اور غلو کی مخالفت، تنظیمی شعور واجتماعیت پر زور، خود احتسابی کا رجحان، تنقیدی نظافت وغیرہ کے حامل نظر آتے ہیں۔ حالاں کہ بعض مقامات پر حضرت مصنف سخت لب ولہجہ بھی اختیار کرتے ہیں، جو اُن کی ترش روئی نہیں بلکہ اُن کی فکری غیرت کی علامت ہے۔ وہ مذہبی اختلافات کو نمایاں کرتے ہیں، لیکن ساتھ ہی وحدت اور اصلاح کی دعوت بھی دیتے ہیں۔چوں کہ مصنف بلند پایہ خطبا میں شمار ہوتے تھے تو اَنداز زیادہ تر خطیبانہ ہے، جو قاری کو جھنجھوڑنے کے لیے مؤثر ہے۔ اگر مختصر اورآسان ترین لفظوں میں کہا جائے تویہ کتاب فکری و عملی اوردعوتی و تعمیری لحاظ سے اقبال کے ’’بانگ درا، ضرب کلیم، بال جبریل اور بادۂ حجاز‘‘ کا عکس جمیل نظر آتا ہے۔
تاریخِ ہجرت: یہ کتاب سیرت نبوی کے اہم مرحلے’’ہجرت‘‘ سے متعلق ہے جسے اسلامی انقلاب میں ایک نمایاں مقام حاصل ہے۔ اِس میں نہ صرف واقعاتی ترتیب کو برقرار رکھا گیا ہے بلکہ ہر مرحلے کی فکری، روحانی اور سیاسی جہت کو بھی نمایاں کرنے کی کوشش کی گئی ہے، مثلاً:
کتاب کا آغاز ’’عالم گیر تاریکی اور خانہ کعبہ کی تعمیر‘‘، ’’غلافِ کعبہ کی تاریخ‘‘ اور ’’دعائے ابراہیم‘‘ جیسے عناوین سے ہوتا ہے، جواِس بات کی طرف اشارہ کرتے ہیں کہ ’’ہجرت‘‘ محض ایک تاریخی واقعہ نہیں بلکہ الٰہی منصوبے کا بنیادی حصہ ہے۔ یہ آغازِ باب اُس پس منظر سے پردہ اٹھاتا ہے جہاں اِنسانیت گمراہی میں ڈوبی ہوئی تھی اور کعبہ، جو توحید کا مرکز تھا اپنی اصل روح سے دور ہوچکا تھا۔ ’’پُرنور تقریر‘‘، ’’قریش میں کھلبلی‘‘،’’ابوجہل‘‘، ’’ابوسفیان کی گفتگو‘‘ اور دیگر عناوین اُس دور کی بخوبی عکاسی کرتے ہیں، جب رسول اللہ ﷺ کی دعوت نے مکہ کے طاقتور طبقے کو بے چین کر دیا تھا۔ مختلف سردارانِ قریش کے کردار، اُن کے مشورے اور سازشوں کو بیان کر کے یہ دکھایا گیا ہے کہ حق کے مقابلے میں باطل ہمیشہ متحد ہو جاتا ہے، مگر اُس کی بنیاد کمزور ہوتی ہے۔ ’’رسول اللہ کی درد بھری تقریر‘‘، ’’ابوطالب سے عتبہ کی گفتگو‘‘ اور ’’خطرناک سازش‘‘ جیسے عنوانات کے پردے میں ہجرت کےموقع پر پیش آنے والے نازک مرحلے کو نہایت اثر انگیز انداز میں درشایا گیا ہے۔ بالخصوص حضوراکرم ﷺ کے صبروتحمل، حکمت وتدبراور بےنظیر دعوتی اُسلوب کو اُجاگر کیا گیا ہے کہ کس طرح شدید مخالفت کے باوجود آپ ﷺنے اصولوں سے سمجھوتہ نہیں کیا۔
یہاں یہ بات ملحوظ رکھنا انتہائی اہم ہےکہ ہجرت دراصل ایمان کا امتحان تھا، چناں چہ ’’کاشانہ نبوت کا گھیراؤ‘‘ اور ’’علی ابن ابی طالب‘‘ کا ذکر ہجرت کے اُس حساس لمحے کو زندہ کردیتا ہے جب جان کا خطرہ تھا مگر ایمان کی قوت غالب رہی۔ یہ حصہ قربانی، وفاداری اور توکل علی اللہ کا بہترین نمونہ پیش کرتا ہے جس میں کمال مہارت کا ثبوت پیش کیا گیا ہے۔ نیز ’’قبا میں نزول‘‘، ’’مدینہ میں قیام‘‘، اور ’’مسجد نبوی کی تعمیر‘‘ جیسے عناوین اِس بات کی علامت ہیں کہ ’’ہجرت‘‘ مدینہ میں ایک نئی صبح اور ایک نئی تہذیب کے آغاز کے طور پر نمودار ہوتی ہے۔ ’’اسلامی ریاست کی تاسیس‘‘ کے تحت اِس بات پر فوکس کیا گیا ہےکہ ہجرت کے بعد اِسلام محض ایک مذہبی دعوت نہیں رہتا بلکہ ایک ریاستی نظام کی شکل اختیار کرتاہے۔ ’’اسلام کی ترقی کے اسباب‘‘، ’’یہود کی شرانگیزی‘‘ اور ’’منافقین کی دل آزاریاں‘‘ اِس بات کے واضح ثبوت ہیں کہ داخلی و خارجی مسائل پربھی فوکس کیا گیا ہے۔اِس طرح یہ حصہ اِس حقیقت کو اُجاگر کرتا ہے کہ ہراِنقلاب کو اَندرونی سازشوں اور بیرونی خطرات کا سامنا ہوتا ہے۔
’’تاریخ اسلام کی پہلی جنگ‘‘، ’’قیدیوں کے ساتھ سلوک‘‘، ’’خندق کی پہلی جنگ‘‘اور ’’قریش کی ناکامی‘‘ جیسے مضامین اسلامی جنگوں کی حکمتِ عملی، اخلاقی اصول اور نصرت الٰہی کےغماز ہیں۔ مصنف کے بموجب: جنگ کو محض لڑائی نہیں بلکہ ایک اصولی جدوجہد کے طور پر سمجھنا چاہیے۔ ’’انوکھی صلح‘‘(صلح حدیبیہ)، ’’قریش کی سفارت‘‘، ’’حضرت ذوالنورین (عثمان غنی) کی نظر بندی‘‘ اور دیگر واقعات اِس بات کو واضح کرتے ہیں کہ اسلام تلوار سے نہیں بلکہ صلح ومصالحت، اخلاق و مروت، سفارتی حکمت عملی اور صبروتحمل سے فروغ پایا ہے۔
’’حرم کعبہ کی تطہیر‘‘، ’’اسلامی لشکر کا آخری قیام‘‘ اور ’’مجرموں سے پیغمبر کا خطاب‘‘ یہ عنوانات کتاب کے اختتامی ابواب کی حیثیت رکھتے ہیں اورکتاب کو نہایت مؤثر بنا دیتے ہیں۔ یہاں بالخصوص عفو و درگزر، رحمت اوراعلیٰ اخلاق کا وہ منظر پیش کیا گیا ہے جو تاریخِ انسانی میں اپنی مثال آپ ہے۔ اِس طرح یہ کتاب ایک جامع سیرتی بیانیہ ہے جس میں تاریخی تسلسل بھی ہے، موثرکردار نگاری بھی ہے اور خطابات ومکالمات کے ذریعے جذباتی اثر بھی پیدا کیا گیا ہے اور سب سے بڑھ کر’’ہجرت‘‘ کو ایک روحانی و انقلابی موڑ کے طور پر پیش کیا گیا ہے۔ انداز و اُسلوب بیانیہ اور خطیبانہ ہے، جو قاری کے دل و دماغ دونوں کو متأثر کرتا ہے۔
الحاصل ’’تاریخِ ہجرت‘‘ صرف ماضی کی داستان نہیں بلکہ آج بھی یہ ایک زندہ پیغام کی حیثیت رکھتا ہے کہ ایمان ویقین، صبروتحمل، حکمت وادنائی اور ایثار وقربانی کے ذریعے ایک کمزور جماعت بھی دنیا کی تقدیر بدل سکتی ہے۔
آئینۂ حافظِ ملت: یہ کتاب حافظ ملت شاہ عبدالعزیز محدث مرادآبادی کی ہمہ جہت شخصیت کا ایسا مرقع ہے جس میں اُن کی علمی، عملی، اخلاقی اور روحانی زندگی کے مختلف پہلو نہایت دلنشیں انداز میں پیش کیے گئے ہیں۔ اپنے عنوانات کی روشنی میں یہ کتاب ایک مکمل شخصیت کا آئینہ بن کر سامنے آتی ہے۔
حصہ اول میں’’میری پہلی ملاقات‘‘ اور’’حافظ ملت مبارک پور میں‘‘ قاری کو اُس عظیم شخصیت سے متعارف کراتے ہیں جس نے نہ صرف علمی دنیا میں انقلاب برپا کیا بلکہ اُمت مسلمہ کی کایا پلٹ کردی، اور جس کی شخصیت اوّل نظر میں اپنا دیرپا اثر چھوڑے بغیر نہیں رہتی۔ ’’تعلیم مرد و زناں‘‘ میں حافظ ملت کے اُس متوازن نظریے کو بیان کیا گیا ہے کہ تعلیم مرد و عورت دونوں کے لیے ضروری ہے، جواُن کی دور اندیشی کو ظاہر کرتا ہے۔ ’’دوسری حکایت‘‘ اور ’’ایک عینی شہادت‘‘ جیسے عنوانات اُن کی عملی زندگی کے واقعات کے ذریعے اُن کے کرداروتقویٰ، دیانت داری اور حق گوئی کو اُجاگر کرتے ہیں۔ ’’مسائل کے ہرپہلو پر نظر‘‘ اُن کی فقہی بصیرت کا مظہر ہے کہ وہ ہرمسئلے کو گہرائی سے دیکھتے اور ایک متوازن رائے کا اظہار کرتے تھے۔ ’’آپ بیتی‘‘ اور ’’خبط کی ایک مثال‘‘ میں اُن کی خود احتسابی اور انکساری جھلکتی ہے، جب کہ ’’اعتدال پسندی‘‘ اُن کی شخصیت کا مرکزی وصف ہے، نہ افراط نہ تفریط۔ ’’تبلیغی جماعت کے متعلق رائے‘‘ میں اُن کی وسعتِ نظر اوراِختلاف کے باوجود باہمی احترام کا رویہ نمایاں ہے۔ ’’جذبۂ خدمت‘‘، ’’تقویٰ شعاری‘‘ اور ’’طلبا کی تربیت‘‘ جیسے عنوانات ظاہر کرتے ہیں کہ وہ صرف ایک عالم نہیں بلکہ ایک مربی اور مصلح بھی تھے۔ ’’مطالعہ کی اہمیت‘‘ اور ’’ہماری غفلت‘‘ میں امت کو علم سے دوری پر متنبہ کیا گیا ہے۔ ’’خدمات کی قدر‘‘ اور’’تعلیم کا حاصل‘‘ میں علم کے مقصد (عمل اور اصلاح) کو واضح کیا گیا ہے۔’’دل جوئی‘‘، ’’مہمان نوازی‘‘ اور ’’طلبا کی ضیافت‘‘سے اُن کی شفقت اور محبت بھری طبیعت کا اندازہ ہوتاہے۔’’مروت آمیز طبیعت‘‘اور ’’ایفائے وعدہ‘‘ میں اُن کے اعلیٰ اخلاق نمایاں ہیں۔ ’’تعزیہ کا مسئلہ‘‘ جیسے عنوان سے اُن کی فقہی جرأت اور حق بیانی ظاہر ہوتی ہے۔ ’’نیند پر قابو‘‘ اور ’’ایک بزرگ کی شہادت‘‘ اُن کی عبادت گزاری اور روحانیت کو ظاہر کرتے ہیں۔ ’’حافظ ملت کے خطوط‘‘ اور ’’ایک کرامتی خط‘‘ ان کے علمی و روحانی اثرات کے ثبوت ہیں، جب کہ’’زبان کی اصلاح‘‘ اُن کی ادبی و لسانی حساسیت کو ظاہر کرتی ہے۔ ’’مزاج میں سادگی‘‘ اور ’’ہر کہ خدمت کرد، او مخدوم شد‘‘ سے اُن کی عاجزی اور خدمت خلق کا جذبہ عیاں ہوتا ہے۔ آخر میں ’’آخری بات‘‘ پوری کتاب کا نچوڑ پیش کرتی ہے کہ حافظ ملت کی زندگی ایک مکمل نمونۂ عمل تھی۔
حصہ دوم: ’’حلیہ‘‘ میں اُن کی ظاہری وضع قطع اور شخصیت کی سادگی بیان کی گئی ہے۔ ’’علمی وجاہت‘‘ اور ’’تدریسی صلاحیت‘‘ ان کے علم و فضل اور تدریسی کمالات کو ظاہر کرتے ہیں۔ وہ ایک بہترین استاد تھے جو طلبا کو نہ صرف علم بلکہ کردار بھی دیتے تھے۔ ’’فقہی بصیرت‘‘ اور ’’حکم کی حیثیت‘‘ ان کے اجتہادی انداز اور مسائل میں مضبوط رائے کو واضح کرتے ہیں۔ ’’تحمل کی عادت‘‘ اور ’’دوسرا رخ‘‘ ان کی بردباری اور مخالفین کے ساتھ حسنِ سلوک کو ظاہر کرتے ہیں۔ ’’قناعت گزیں طبیعت‘‘ ان کی زاہدانہ زندگی کا ثبوت ہےکہ وہ دنیوی آسائشوں سے بے نیاز تھے۔
’’آئینہ حافظ ملت‘‘ محض سوانح نہیں بلکہ ایک اخلاقی و تربیتی نصاب ہے۔ اس میں حافظ ملت کی زندگی کے ذریعے یہ پیغام دیا گیا ہے کہ علم کے ساتھ عمل ضروری ہے۔ اعتدال اور تحمل کامیابی کی کنجی ہیں۔ خدمت خلق اور تقویٰ انسان کو بلند مقام دیتے ہیں۔ مزید یہ کتاب اپنے قاری کو نہ صرف ایک عظیم عالم کی زندگی سے روشناس کراتی ہے بلکہ اُسے اپنی اصلاح اور بہتری کی ترغیب بھی دیتی ہے۔
خلاصہ کلام یہ کہ سید رکن الدین اصدق اپنے بیانیہ اور تصانیف کے آئینے میں ایک ہمہ جہت شخصیت، باوقار اور مؤثر دینی مفکر، صوفی مزاج عالم، سوانح نگار ومورخ اور بیدار مغز مصلح کے طور پر سامنے آتے ہیں، مثلاً: آپ روحانی و صوفیانہ شخصیت کے مالک تھے اورایک گہراروحانی ذوق رکھتےتھے۔ تصوف کے دقیق مسائل کو سادہ اور مؤثر انداز میں بیان کرنا آپ کی خاص خوبی تھی۔ آپ محض نظری صوفی نہیں بلکہ عملی تربیت کے قائل تھے، جوسالکین کی اصلاحِ نفس اور سلوک کی رہنمائی کو اپنا مقصد بناتے ہیں۔ آپ نے تاریخی و سوانحی مواد کو نہایت منظم انداز میں پیش کیا ہے۔ ’’حیات، مکتوبات، ملفوظات اور تصنیفات‘‘ کی ترتیب سے واضح ہوتا ہے کہ آپ ایک باقاعدہ مؤرخانہ شعور رکھتے تھے، جوموضوع سخن شخصیات کو ہمہ جہت انداز میں محفوظ کرنا جانتے تھے۔ آپ کا اسلوب خطیبانہ، دل نشیں ،اثر انگیزاور مدلل و مبرہن ہے۔ ’’ آئینہ مخدوم جہاں‘‘ سےایک اقتباس ملاحظہ کیجیے جس میں آپ، مخدوم جہاں کی ایک تحریر پر خامہ فرساں ہیں: ’’مخدوم جہاں کی یہ تحریر دل پذیر، یہ روشنی عطا کررہی ہے کہ تقاضائےایمان محبت ہے۔ اور محبت ہی کے بیج سے متابعت کا پودا اُگتا ہے۔ محبت جس قدر واضح، پختہ اورصادق ہوگی۔ اسی قدر متابعت کی جڑیں گہری اُترتی جائیں گی۔ یہاں تک کہ بندہ صفات حق کا مظہر بن جائےگا۔ اس وقت در معرفت کھلنے کی اُسے آہٹ محسوس ہوگی۔ اور نگاہِ معرفت کی دہلیز پر مرکوز ہوجائےگی۔ بس اسی لمحہ تجلیات ربانی آسمانی تجلی کی طرح کوند کر غائب ہوجاتی ہے۔ اور بندے کی تاب وتوانائی جاتی رہتی ہے۔ مخدوم جہاں فرماتے ہیں کہ بندہ اُس دم مدہوش ہوکر پکار اُٹھتا ہے: لامعک القرار ولامنک الفرار۔ نہ تیرے ساتھ آرام ہے اور نہ تجھے چھوڑ کر بھاگنے کی طاقت۔‘‘ (ص:163)
’’خطرات کے بادل‘‘ میں آپ کا انداز جھنجھوڑنے والا اور بیدار کرنے والا ہے، جب کہ ’’تاریخ ہجرت‘‘ میں بیانیہ انداز قاری کو واقعات کے اندر لے جاتاہے۔اِس کتاب سے آپ کی اصلاحی فکر بھی نمایاں ہوتی ہے کہ آپ امت کے فکری، اعتقادی اور عملی زوال پر گہری نظر رکھتے ہیں۔ آپ کی شخصیت میں ایک دردمند مصلح جھلکتا ہے جو صرف تنقید نہیں کرتا بلکہ حل بھی پیش کرتا ہےاور اعتدال و تنظیم، اور خود احتسابی کی دعوت بھی دیتا ہے۔ چناں چہ وہ لکھتے ہیں: ’’ہماری ایک بڑی کمزوری یہ ہے کہ جب حالات اور وقت کے تقاضے ہمارے موافق ہوجاتے ہیں اور بڑے سے بڑا کام نہایت آسانی سے کرگزرنے کا موقع ہاتھ آجاتا ہے، تو ہم سست روی اور سرد مہری کے شکار ہوجاتے ہیں۔ اور وقت سے فائدہ اٹھانے کا یہ قیمتی چانس کھو کر کف افسوس ملتے ہیں۔ اسی وقت اگر ہم اپنی رفتار تھوڑی تیز کرلیتے ہیں اور مالی و بدنی قربانی کےلیے خود آمادہ کرلیتے تو ایسا عظیم الشان کام انجام کوپہونچ جاتا ہے جس کے اثرات صدیوں باقی رہتے۔‘‘ (ص:157)
مزید لکھتے ہیں: ’’لیکن دکھ کی بات یہ ہے کہ کانفرنسوں کے اثرات سے خاطر خواہ فائدہ اٹھانے کے لیے جس طرح کی مثبت کاروائی ضرورت پڑتی ہے اور مقصد کا حصول، جیسی مشغولیت وانہماک کا تقاضا کرتا ہے۔ اسی سے ہماری جماعت کوسوں دور ہے۔ ہماری سیمابی کیفیت ہمیں ایک راہ پر سبک روی سے چلنے نہیں دیتی۔ برسوں کی محنت اور لگاتار کوشش کے بعد اَغیار جس منزل تک پہونچ پاتے ہیں ہم منٹوں اور سکنڈوں میں وہاں پہونچ جانا چاہتے ہیں۔ اگر ذرا سی دیر ہوئی یا کوئی معمولی اڑچن بھی سامنے آئی تو ہم فوراً اپنا رُخ بدل دینے کی کوشش شروع کردیتے ہیں۔‘‘ (ص:159)
حل کی راہ سجھاتے ہوئے لکھتے ہیں: ’’عہد رواں میں باطل کا بطلان واضح کرنے اور حق کی شاہراہ جاری رکھنے کے صرف دوراستے ہیں۔ ایک وہ قلم جو پُرخار جملوں سے گریزکرکے دلائل کی زبان بولنا جانتا ہو۔ دوسرا وہ حرکت و عمل۔ جو ذاتی منفعت، حرص و طمع اور نفع وضرر کے تصور سے دور ہٹ کر اُٹھنے والے قدم سے رشتہ جوڑتا ہو۔ ہماری یہ دو کوششیں ہرحال میں بارآورہوں گی اور ہم بہت تھوڑے دنوں میں اس کے ثمرات برائے العین دیکھیں گے۔
لیکن آج ہم کن جملوں میں اپنا ماتم کریں کہ ان ہی دونوں راستوں کی قدر ہماری جماعت آج بھولتی جارہی ہے۔ اور ان راستوں پر چلنے والوں کی ناقدری بڑھتی جارہی ہے۔ مفاد پرستی کا عفریت، نفسانیت کا تعزیہ پاکر اتنا تنومند ہوکر ہمارے درمیان کھڑا ہوگیا ہےکہ اب اس کا انہدام ہمارے لیے ایک مشکل مسئلہ بن چکا ہے۔ کاش! ہم اپنی دنیا جنت نشان بنانے سے پرے اٹھ کر مسلک اور جماعت کے لیے بھی کچھ سونچتے۔‘‘ (ص:267-268)
کم وبیش آج بھی ہماری جماعت کے اندر وہی حالات بدستور قائم ودائم ہیں جن کی نشان ندہی حضرت علامہ موصوف برسوں پہلے کرچکے ہیں، بلکہ آج کے حالات اُس سے بھی زیادہ بدتر ہوچکے ہیں۔
’’تاریخ ہجرت‘‘ میں آپ نے سیرت نبوی ﷺ کو محض تاریخی بیان کے طورپر نہیں بلکہ ایک زندہ انقلابی پیغام کے طور پر پیش کیا ہے۔ اس سے آپ کی فکری پختگی اور دعوتی بصیرت کا اندازہ ہوتا ہے۔ ’’مجرموں سے پیغمبرسے خطاب‘‘ کا یہ اقتباس ملاحظہ کریں:
’’آج جو دوسرے مجرمین یہاں موجود تھے۔ ان میں وہ بھی تھے جنھوں نے مقام خیف میں بنوہاشم کو بے آب ودانہ محصور رکھا تھا۔ …..وہ لوگ بھی تھے جن کی تشنہ لبی، شب ہجرت خون رسول ک تلاش میں تھی، وہ لوگ بھی تھے۔ جنھوں نے مدینہ کی اقتصادی ناکہ بندی کے لیے معاہدہ کی زنجیر قائم کی تھی۔…..جنھوں نے میدان اُحد میں حضرت امیر حمزہ، حضرت ابودجانہ، حضرت حارث بن نضر اور حضرت زیاد بن سکن جیسے دلاور ان اسلام کا مثلہ کرکے خود رسول اللہ (ﷺ) کا دل دکھایا تھا۔
آج ان سبھی کی کلاہِ افتخار خاک آلود تھی،… آج اُن کو اپنے سیاہ کارنامے یاد آرہے تھےاور غیرت سے اُن کی خود داری کو پسینہ آرہا تھا۔
لوگو! کچھ تمھیں معلوم ہے، آج میں تمہارے ساتھ کیا سلوک کرنے والا ہوں؟…پیغمبرانہ جلال میں ڈوبی ہوئی ایک آواز، دفعتاً کان کے پردوں سے ٹکرائی…قریش آپ حلم بیکراں اور کرم بےنہایت کا باربار تجربہ کرچکے تھے۔…تمام خاندان کے نمائندہ یک زبان ہوکر پکار اُٹھے۔…آپ اچھے بھائی ہیں اور اچھے برادرزادہ بھی۔
فتح کا قانون ہر شخص کو معلوم ہے اور فاتح کا دستور سب جانتے ہیں۔ یہ صحیح ہے کہ پیغمبر کی جگہ کوئی لیڈر فاتح ہوتا تو اقلیم دل پہ نہیں۔ … وہ دشمن کی تاراجی کو اپنے لیے تحفظ کا سامان قرار دے کر بربریت کا ایک نیاریکارڈ قائم کرتا۔
بلاشبہ! اسلامی انقلاب۔ دنیا کا سب سے عظیم، سب سے نرالا اور سب سے منفرد انقلاب ہے۔ یہاں یوم فتح، امن کا دن قرار پایا۔ یہاں انتقام کی بھٹی کی جگہ بخشش وعطا کا شامیانہ نصب کیا گیا۔…سبھوں کے لیے معافی کا فرش زمرد بچھا کر راحت و آرام کا عام اعلان کردیا گیا۔‘‘ (ص:274-278)
’’آئینۂ حافظ ملت‘‘ کے مطالعے سے معلوم ہوتا ہے کہ آپ شخصیات کے ذریعے عملی نمونہ پیش کرنے کے قائل تھے۔ آپ کے نزدیک تعلیم، تربیت، تقویٰ، خدمت خلق اور اخلاقی اصلاح بنیادی ستون ہیں۔ چناں چہ ایک بارسماع سے متعلق ایک نزاع لے کر آپ حافظ ملت کی خدمت میں پہنچے اوراُنھوں نے جو حکیمانہ اور مدبرانہ فیصلہ کیا اُس کی ترسیل کرتے ہوئے لکھتے ہیں :
’’فیصلے کے لیے ہم سبھی لوگ حافظ ملت کی خدمت میں حاضر ہوئے، میں نے حضرت کو پوری گفتگو سنادی، حضرت نے سخت غضب ناک ہوکر فرمایا، معاذاللہ! اس کا مطلب ہواکہ سرکار غریب نواز، حضورغوث پاک کے نزدیک حرام کار تھے۔ خاک بدہن ہرگز ایسا نہیں ہے۔
اس کے بعد یہ عقیدت بردوش شرح فرمائی، پڑھیے اور دل و نگاہ کو عقیدت کی خوشبو پہنچائیے۔ فرمایا، ’سماع‘ غوث الاعظم رضی اللہ عنہ کے ذوق طبع کے موافق نہیں تھا لہٰذا سننے سے احتراز فرمایا، آپ کے متبعین آپ کی اتباع میں نہیں سنتے ہیں۔
’سماع‘ حضور غریب نواز رضی اللہ عنہ کے ذوق طبع کے موافق تھا اس لیے آپ نے سنا اور آپ کی اتباع میں مشائخ چشت اہل بہشت بھی سنتے ہیں۔ ہر سلسلہ کے لوگ اپنے پیران شجرہ کے طریقے کے پابند ہیں۔‘‘ (ص:89)
اسی طرح کا ایک اورواقعہ ہے کہ طلبائے اشرفیہ کی ایک ٹیم مدرسے کی چھت پر کھڑی تھی اور نیچے سڑک سے تبلیغی جماعت کا گزر ہوا تو ایک طالب بول پڑاکہ ’’یہ تبلیغی جماعت والے سب کافر ہیں‘‘ سید صاحب معترض ہوئے اور فیصلہ حضورحافظ ملت پر چھوڑ دیا گیا۔
اِس کی رودار بیان کرتے ہوئے آپ لکھتے ہیں:
’’پوری ٹیم حافظ ملت کی درس گاہ میں پہنچی، میں نے اپنے ساتھی کا قول آپ سے بیان کیا، حضرت نے کہا، استغفراللہ! اس کے بعد نہایت خفگی کے لہجے میں فرمایا کہ ان میں پچاس فیصد بھولے بھالے، سیدھے سادھے سنی مسلمان کو پھنسا کر لائے جاتے ہیں، ان بے چاروں کو کچھ معلوم نہیں کہ یہ کون لوگ ہیں اور اِن کا اصل مقصد کیا، وہ کلمہ اور نماز کے نام پر دھوکہ کھائے ہوئے ہوتے ہیں۔
اس کے بعد فیصلہ کن لہجے میں فرمایا، میرے نزدیک تو ہر فاضل دیوبند بھی کافر نہیں ہے تا وقتیکہ وہ کفریات وہابیہ پر مطلع ہونے کے بعد اُن کے کفریات کی تصدیق نہ کرتا ہو۔
مجھے کئی بار سابقہ پڑچکا ہے، دیوبندی عالم کے سامنے اُن کے اکابر کی ہفوات کا ذکر آیا تووہ حیرت زدہ ہوکر بول پڑے، معاذ اللہ! ایسا جملہ تو عام مسلمان نہیں کہہ سکتا چہ جائیکہ کسی بڑے عالم کی زبان یا اس کا قلم بولے۔‘‘ (ص:92)
ایک مقام پرحضور حافظ ملت کی اعتدال پسندی پر روشنی ڈالتے ہوئے لکھتے ہیں:
’’حضور حافظ ملت کے دینی تصلب میں ہرگز کچھ کمی نہ تھی، بایں ہمہ مزاج میں کوئی تشدد نہ تھا۔ اعلی حضرت فاضل بریلوی قدس سرہٗ کے حرفاً حرفاً پاسدار تھے لیکن کسی کے دل آزاری کا رنگ و آہنگ آپ میں نہ دیکھا گیا، تقریر میں گھن گرج تو تھی مگر مردود شیطان کے الفاظ آپ کی زبان سے کسی نے نہ سنا ہوگا۔‘‘ (ص:90)
اور حافظ ملت کی یہ خوبی آپ کے اندر بطیب خاطر موجود تھی۔بایں سبب آپ کی تحریریں معتدل اور متوازن نظر آتی ہیں۔شدت پسندی اور غلو آپ کے مزاج سے کبھی آہنگ نہ ہوا، بلکہ مختلف مکاتب فکر کے درمیان توازن، نرمی اور حکمت کے ساتھ تعامل کی دعوت دینا آپ کا نمایاں اور اہم خاصہ تھا۔
علاوہ ازیں آپ کی تحریروں میں امت کا درد، دینی غیرت اور اصلاح کا جذبہ نمایاں ہے۔ بعض مقامات پر سخت لہجہ بھی اِسی درد مندی کا اظہار ہے، نہ کہ محض تنقید۔ آپ کی زبان سادہ، رواں اور عام فہم ہے، لیکن اس میں روحانیت اور تاثیر کی گہرائی موجود ہے۔ آپ تمثیل، تشبیہ اور حکیمانہ جملوں کے ذریعے مشکل مضامین کو آسان بناتے ہیں۔ گویا آپ ایک ایسے عالم و مصنف ہیں جن کی شخصیت میں روحانیت، علمیت، خطابت، اصلاح اور اعتدال کا حسین امتزاج پایا جاتا ہے۔ آپ صرف کتابی عالم نہیں بلکہ عملی رہنما، دردمند مصلح اور بیدار فکر قائد ہیں، جن کی تصانیف آج بھی اصلاحِ نفس، فکری بیداری اور دینی شعور کے لیے مؤثر ذریعہ بن سکتی ہیں۔
(مدیر ماہنامہ خضرراہ، سید سراواں)