ڈاکٹر جہاں گیرحسن
ریاست اودھ (لکھنو) قدیم وجدید ہندوستان کا ایک تاریخی شہر ہے۔ تہذیب و ثقافت اور زبان وادب دونوں اعتبار سے اِس شہر کوایک نمایاں مقام حاصل ہے۔شعروسخن کی دنیا میں جہاں ایک طرف ’’دبستان دہلی‘‘ کی اپنی خصوصیات ہیں، تو وہیں دوسری طرف ’’دبستان لکھنو‘‘ کے اپنے امتیازات ہیں۔ تاریخ ہند میں لکھنوکو نوابوں کا شہر بھی کہا جاتا ہے۔ یہاں کا نوابی کلچرچاردانگ عالم میں اپنی ایک جداگانہ شناخت رکھتی ہے۔ اِسی کے ساتھ روحانی وعرفانی پس منظر میں دیکھا جائے تو اِس شہر کو ’’دبستان مشائخ‘‘ کہنا بھی کچھ غلط نہ ہوگا۔ کیوں کہ جس طرح نوابوں اور اُدبا وشعرانے شہر لکھنو کوسجایا اور سنوارا، اُسی طرح روحانی پیشوایان ومشائخ عظام نے بھی اِس کو ایک تاریخی شہراورلائق التفات مرکزبنانے میں اہم اوربنیادی کردارنبھایا۔ بلکہ نوابوں اوراُدبا وشعرا کے بالمقابل مشائخ عظام نے کہیں زیادہ نمایاں اور بڑا کردار اَدا کیا۔ نوابوں اوراُدبا وشعرا نے تو محض اُنھیں ہی اپنا جانا اوراُنھیں ہی اپنایا، یا اُنھیں پر اپنی مہربانیوں کی برسات کیں جن لوگوں کواپنا طرفدار و ہمنوا پایا اور اپنے حق میں مفید پایا۔ لیکن مشائخ عظام نےبلا امتیاز وملت تمام فردبشر کے ساتھ خیرخواہانہ تعلق قائم رکھا، خواہ وہ محبین ہوں یا معاندین، خواہ وہ اُن کے حق میں مفید ہوں یا مضر۔ کیوں کہ مشائخ عظام یہ نہیں دیکھتے کہ سامنے والے کا تعلق کس گروہ سے ہے، کس طبقے سے ہے یا پھر وہ کس برادری سے متعلق ہے۔ بلکہ وہ تومحض اِس بات پر ایمان ویقین رکھتے ہیں کہ تمام مخلوق، اللہ سبحانہ کا کنبہ ہےاور مخلوق کی دلجوئی اور اُس کی خیرخواہی اللہ سبحانہ کو بےحد محبوب ہے۔ (مشکاۃ المصابیح، کتاب الآداب، حدیث: 4998)
چناں چہ اُنھیں مشائخ عظام میں ایک بڑا نام یکتائے روزگارقطب عالم حضرت مخدوم شاہ مینا لکھنوی قدس سرہٗ کا ہے، اُن کے مرید وخلیفہ میں ایک اہم نام وحیدعصر حضرت مخدوم شیخ سعدالدین خیرآبادی قدس سرہٗ کا ہے اور اُن کے مرید وخلیفہ میں ایک نمایاں نام فقید زمانہ حضرت مخدوم شاہ صفی محمدی قدس سرہٗ کا ہے۔ حضرت مخدوم شاہ صفی محمدی قدس سرہٗ ’سائیں پور‘ عرف ’صفی پور‘ کے باشندے تھے۔ مشہورومعروف سلسلۂ صفویہ آپ ہی سے منسوب ہے۔ بقول مولانا حسن سعید صفوی ازہری: سلسلۂ صفویہ کے تمام مشائخ اپنے آپ میں ایک عالم سمیٹے ہوئے تھے مگراُن میں سے بعض نے ایسا تاریخ ساز کارنامہ انجام دیا ہے، جن کے ذکرکے بغیر تاریخ صفویت نامکمل رہے گی۔ اُن میں سے ایک محرم اسرار سرمدی حضرت مخدوم شاہ خادم صفی قدس سرہٗ کی ذات ستودہ صفات ہے۔
خاندانی احوال: حضرت خادم صفی کے آبا واجداد کبار اہل اللہ میں شمارہوتے تھے اور اُن کے معاصرین اُن کے نام بڑے ہی ادب واحترام کے ساتھ لیا کرتے تھے ۔ یہ حضرات محض اعلی بشری اوصاف وکمالات کے جامع نہ تھے بلکہ سلوک ومعرفت اور روحانیت کے اعلی مقام پر فائز بھی تھے اور بندگان خدا میں بلند ترین درجات کے حامل تھے۔ اُن میں سے بعض کے احوال مختصراً درج ذیل ہیں، مثلاً:
حضرت شاہ بندگی شیخ مبارک: حضرت بندگی شیخ مبارک، حضرت خادم صفی کے جدالاجداد ہیں اور بلند پایہ بزرگ شخصیت کے مالک ہیں۔ شیخ وجیہ الدین اشرف لکھتے ہیں: اخترمنازل برکت، نیر بروج ارشاد و عنایت، حق تعالیٰ کی بارگاہ کے خاص بندے، ولی برحق حضرت شیخ مبارک حضرت مخدوم شاہ صفی کے بھانجے، اُن کے مرید وخلیفہ اور جانشین ہیں۔ آپ بہت بلند احوال اور نہایت رفیع و وسیع ہمت کے مالک ہیں۔ کریم ابن کریم ہونا آپ کے فضائل کی دلیل ہے۔ حضرت مخدوم شاہ صفی غیر شادی شدہ تھے،اِس لیےاُنھوںنے اپنی بہن سے آپ کو کم عمری میں ہی طلب فرمالیا تھا۔ حضرت مخدوم نے اپنے سایۂ عاطفت میں رکھ کر آپ کی پرورش کی اور علم ظاہری و معنوی سے بہرہ ور کرکے مرتبۂ کمال تک پہنچایا۔ (بحرزخار (فارسی)، لجّہ:۳،موج احوال شیخ مبارک،ص:۴۵۴)
وفات کے دن حضرت مخدوم صفی کا سر مبارک بندگی شیخ مبارک کی گود میں تھا۔ آپ کو اس عارف اسرارِ نامتناہی کی جدائی کا غم لاحق ہوا، رونے لگے، آنسوؤں کے چند قطرے مخدوم صاحب کے چہرۂ مبارک پر گرے، اُنھوں نے آنکھ کھولی، پوچھا: کیوں روتے ہو؟ آپ نے عرض کیا کہ حضور تو پوری زندگی غیر شادی شدہ اور مردانہ وار رُخصت ہورہے ہیں اور بندے کو اہل وعیال والا کیا، پھر بارگاہِ خداوندی میں حضور اقدس نے محض نان شبینہ اور لباس سترپوشی کے لیے جو دعا کی ہے اُس کا اثر تو بخوبی ظاہر ہے۔
مخدوم صاحب نے فرمایا: بابا! وہ دعا میں نے صرف اپنے حق میں مانگی تھی۔ تم کو آسمان کی وسعت کی طرح روٹی اور دریا کی مقدار شوربا عطا کیا ہے، کھاؤ اور کھلاؤ۔ چناں چہ ایسا ہی ہوا، اس وقت سے لے کر آج تک آپ کی اولاد میں وسعت معاش خوب خوب ہے، کسی بھی زمانے میں تنگدستی اور عسرت نہیں رہی۔ (بحرزخار (فارسی)، لجّہ:۳،موج احوال شیخ مبارک،ص:۴۵۴-۴۵۵) آپ کا وصال ۹۵۶ھ / ۱۵۴۹ء میں ہوا۔
حضرت شاہ بندگی شیخ محمد: حضرت بندگی شیخ محمد، حضرت بندگی شیخ مبارک قدس سرہٗ کے دوسرے صاحبزادے ہیں اور حضرت خادم صفی کے پڑدادا ہیں۔ آپ کی اولاد میں بکثرت باکمال اولیاء اللہ اور مشائخ طریقت گزرے ہیں۔ آپ کے صاحبزادگان میں شیخ عبدالرزاق اور شیخ قطب عالم صفوی کے نسبی و روحانی فرزندوں سے خانوادے کا نام خوب روشن ہوا، اوراِس روحانی سلسلے سے ایک عالم فیضیاب ہوا، بلکہ آج تک ہو رہا ہے۔
حضرت بندگی شیخ محمد کی اولاد میں حضرات شاہ نہال، شاہ عبدالحق، شیخ دانیال اور شیخ عبد الرزاق رحمہم اللہ تعالیٰ وغیرہ ایسے مشائخ گزرےہیں جواپنے زمانے کے منفرد وبےمثال درویش اوربافیض بزرگ کی حیثیت رکھتےہیں۔
حضرت شاہ محمد معصوم: حضرت شاہ محمد معصوم، حضرت خادم صفی کے جد اَمجد ہیں۔ حضرت شاہ محمد معصوم، حضرت شاہ غلام نبی قدس سرہٗ (م ۱۱۹۳ھ) کے مرید وخلیفہ تھے۔ اِس کے علاوہ آپ کوحضرت شاہ محمد عرف شہن میاں قدس سرہٗ (م ۱۲۰۴ھ) سے بھی اجازت وخلافت حاصل تھی۔ آپ کا وصال ۱۲۲۱ھ / ۱۸۰۶ء میں ہوا۔
حضرت شاہ عطائے صفی: حضرت شاہ عطائے صفی، حضرت خادم صفی کے والدبزرگوار ہیں۔ حضرت عطائے صفی ’بڑےمیاں‘ سے مشہور تھے۔ اپنے والد ماجد حضرت شاہ محمد معصوم کے مرید وخلیفہ تھے۔ تاحین حیات حضرت مخدوم شاہ صفی کے مزارپر حاضر باش رہے، خالق ومالک کی عبادت وبندگی اور مخلوق کی خدمت وخیرخواہی کو اپنا نصب العین بنائے رکھا اوراُسی حالت میں۱۲۵۶ھ کو آپ کا وصال ہوگیا۔ حضرت عزیزاللہ شاہ نےآپ کی یہ تاریخ وصال کہی ہے:
بخلد بریں عطائے صفی
حبّذا نیک مرد نیک اختر
گفت ہاتف عزیز تاریخش
دائماً در بہشت باد بفر
حضرت شاہ محمد معصوم اورحضرت عطائے صفی قدس سرہما کی قبوراَنورحضرت مخدوم شاہ صفی قدس سرہٗ کی درگاہ کے پیچھے اُتّرجانب واقع ہیں اورآج بھی مرجع خلائق خاص و عام ہیں۔ (عین الولایت، ص: ۱۴۵)
والدہ ماجدہ: حضرت خادم صفی قدس سرہٗ کی والدہ ماجدہ سے متعلق تفصیلات دستیاب نہیں ہیں۔ البتہ! اتنا ضرور ہے کہ آپ کی والدہ ماجدہ بھی بہت ہی نیک طینت، پاکیزہ صفت وپارساخصلت اور خدا رسیدہ تھیں۔ مزید آپ کی نیک بختی کا اندازہ اِس سے بھی لگایا جاسکتا ہے کہ آپ کے اصول وفروع یعنی والد بزرگوارشیخ علم الدین اور فرزند ارجمند شیخ مبارک سلوک ومعرفت کے اعلی مقام پر فائزتھے، جب کہ برادر عزیز مخدوم صاحب منبع الاولیاء تھے اور جن کے فیض کا دریا بشکل سلسلہ صفویہ آج بھی جاری وساری ہے۔
نسب نامہ: حضرت خادم صفی کا سلسلۂ نسب حسب ذیل ہے: حضرت شاہ خادم صفی بن شاہ عطائے صفی بن شاہ محمدمعصوم بن شاہ نہال بن شاہ عبدالحق بن شیخ دانیال بن شیخ عبد الرزاق بن شیخ محمد بن بندگی شیخ مبارک رحمہم اللہ تعالیٰ۔
علو مرتبت کی پیشین گوئی: حضرت مخدوم شاہ خادم صفی قدس سرہٗ کے بارے میں سلسلۂ صفویہ ہی کے ایک عظیم بزرگ غوث الدہر حضرت شاہ قدرت اللہ قدس سرہٗ نے یہ پیشین گوئی فرمائی تھی کہ ’’میرے بعد صفی پورمیں ایک چراغ روشن ہوگا، جس پرایک زمانہ شیفتہ اورپروانہ وارنثارہوگا، اس شمع ہدایت سے بہت سے طالبان مولیٰ مستفیض ہوں گے۔ وہ اپنا اور اپنے پیران طریقت کا نام روشن کرنے والا ہوگا۔‘‘ (تذکرہ مینائیہ دراحوال مشائخ صفویہ، ص:۱۵۸) اوردنیا نے اپنے سرکی آنکھوں سے دیکھا کہ آپ کی ذات بابرکت اِس پیشین گوئی کے عین مصداق ثابت ہوئی۔
پیدائش: ۱۲؍ رجب ۱۲۲۹ھ (۳۰؍ جون ۱۸۱۴ء) کو دوشنبہ کی رات صفی پور میں آپ پیدا ہوئے۔’ مولود اجل معظم جهان‘ (۱۲۲۹) آپ کی ولادت کا مادّۂ تاریخ ہے۔
ابتدائی احوال اور تعلیم و تربیت: ایام طفولیت ہی سے آپ کی طبیعت لہو ولعب کی طرف مائل نہیں تھی۔ البتہ! پرندے پالنے کا جوشوق تھا وہ ہمیشہ رہا۔ قرآن مجید کی تعلیم حضرت شاہ عبدالعزیز محدث دہلوی قدس سرہٗ کے شاگرد مولانا شیخ چراغ علی (مولوی شیخ چراغ علی صفی پوری، ایک عرصے تک دہلی میں رہے اور حضرت شاہ عبد العزیز محدث کے سامنے زنوئے تلمّذ تہہ کیا، قرآن مجید ان سے مکمل پڑھا۔ (مخزن الولایت: ص: ۷۸)) سے حاصل کی، اور مثنوی مولوی معنوی، سبع سنابل اور تصوف وسلوک کی دیگرکتابیں مولانا حکیم ہدایت اللہ صفی پوری (مولوی حکیم ہدایت اللہ صفی پوری، مخدوم زادگان میں سے تھے۔ علم حدیث میں مرزا حسن علی محدث لکھنوی (۱۲۵۵ھ) کے شاگرد رشید تھے۔ علوم عربیہ بالخصوص فقہ و حدیث اور طب میں کمال رکھتے تھے۔ مشہور زمانہ حکیم و طبیب تھے۔ ۱۲۸۳ھ میں آپ کا وصال ہوا۔ (مخزن الولایت: ۷۹ ، سوانح اسلاف: ۸۳)) سےپڑھیں۔ ہرعلم وفن میں کسی نہ کسی کواپنا استاذ بنایا۔ علم برائے عمل حاصل کیا، ہمیشہ اس کو واسطہ خیال کیا اوراَصل مقصد کوپیش نظررکھا۔
چوں کہ آپ پیدائشی ولی تھے اِس لیے اس کے آثار اَیام طفولیت ہی سے ظاہر ہونے شروع ہوگئے تھے۔ حضرت عزیزاللہ شاہ رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں: حضرت خادم صفی جس زمانے میں مکتب جایا کرتے تھے اُس زمانے میں حکومت کے ایک عامل (گورنر) نے کسی سبب تمام پیرزادگان کے مکانات پرپہرا بٹھادیا۔ آپ جب مکتب سے واپس ہوئے تو ایک سپاہی نے آپ کو بھی روک لیا۔آپ رونے لگے اور فرمایا: خداوند! یہ سپاہی مرجاوے۔ چناں چہ وہ اُسی رات فوت ہوگیا۔ (عین الولایت، ص:۸)
علمی مقام: حضرت شاہ خادم صفی محمدی خود فرماتے ہیں کہ ’’میں چاہتا تو عالم فاضل ہو جاتا مگر دل ادھر نہ آیا اور بقدر ضرورت [علم] حاصل کرنے کو کافی سمجھا۔‘‘(حوالہ سابق، ص:۸) لیکن باوجودیکہ آپ بظاہر عالم وفاضل نہیں تھے مگر بڑے بڑےعالم وفاضل آپ کے دربار گُہربار سے اپنی علمی وفکری تشنگی بجھاتے تھے۔ حضرت عزیزاللہ شاہ بیان کرتےہیں: ’’اگرچہ آپ نے عالموں کے مانند علم حاصل نہیں کیا مگر اشعار صوفیہ اور اقوال مشائخ وغیرہ کے معنوں میں ایسے نکات ارشاد فرماتے تھے کہ عالم بھی [دنگ] رہ جاتے۔ تمثیلاً ایک بیت اور اُس کا معنی لکھتا ہوں:
کور کورانہ مرو در کرب لا
تا نیفتی چوں حسین اندر بلا
’کرب‘ جنگل، ’لا‘ اشارہ ہے کلمہ طیب کا اور حرف ’تا‘ جو اِس بیت میں واقع ہے سب اُس کو ’تائے علت‘ سمجھتے ہیں اور اسی سے علّتین پیدا ہوتی ہیں۔ آپ ’تائے انتہائیہ‘ قرار دے کر فرماتے ہیں کہ جب تک حسین علیہ السلام کے مثل بلا (مصیبت) کو اِختیار نہ کرے تب تک کورانہ لَااِلٰہَ اِلَّااللہُ کے جنگل میں نہ جا۔ اور ہوسکتا ہے [کہ] کربلا میں نہ جا یعنی امتحان کی جگہ میں۔ اربابِ علم، انصاف سے دیکھیں کہ کیسے معنی لطیف بےتکلف ارشاد فرمائے۔‘‘ (حوالہ سابق، حاشیہ ،ص:۸)
مکارم اخلاق: آپ اخلاق نبوی ﷺ کے آئینہ دار تھے۔ اسی حسنِ اَخلاق کی وجہ سے غیروں نے بھی آپ کو تسلیم کیا اور اکثر راہِ راست پر آئے۔ آپ کی بارگاہ میں طالبین کی ایک بڑی جماعت ہمیشہ موجود رہتی، جس کی تعلیم و تلقین کو آپ اپنا دینی و منصبی فریضہ خیال کرتے ہوئے ہر طرح سے اُس کی کفالت بھی فرماتے۔ حاضر یا غائب کسی کی بُرائی نہیں کرتے تھے۔ نہ کسی پرغصہ ہوتے اور نہ کسی پر معترض ہوتے تھے۔ جوبھی آپ کے پاس آتا خوش ہوکر جاتا اور آپ کا مشتاق رہتا۔ معتقدین ومریدوں پر بھی ازحد مہربان تھےاور اُن کی خطاؤں سے چشم پوشی فرمایا کرتے تھے۔ اگر کوئی مرید کہیں جاتا تو اُس کا خیال رکھتے۔ کسی مرید کو مشقت میں نہیں ڈالتے۔
احکام شرعیہ کی پابندی:آپ ابتدائے عمر سے ہی احکام شرعیہ کے پابند تھے۔ کبھی کسی کبیرہ گناہوں کے مرتکب نہیں ہوئے۔ جب آپ سات سال کی عمرمیں پہنچے تو نماز کی پابندی شروع کردی تھی۔ ہمیشہ ہر مسنون و مستحب عمل کا پاس وخیال رکھتے تھے۔ عصائے مبارک اور تسبیح و عمامہ ہروقت آپ کے پاس رہتا تھا۔ دقیق مسائل شرعیہ کی نہایت تحقیق فرماتے تھے اور علم و آگہی کے باوجود علما سے اِستفسار ضرور فرماتے تھے۔ ابتدا سے ہی طلب مولیٰ کے جذبے سے سرشار تھےاور تاحین حیات یہ سرشاریت جوان رہی۔
آپ نہ صرف بذات احکام شرع کے پابند تھے بلکہ اپنے محبین و متوسلین میں بھی احکام شرع کی پابندی دیکھنا چاہتے تھے۔ چناں چہ فرماتے ہیں کہ جوشخص خلاف شریعت ہو اور وہ ہوا میں اُڑے تو بھی قابل اعتبار نہیں۔ پھر یہ بھی فرماتے ہیں کہ اگر مرید پایۂ طریقت سے گرے تو شریعت اُس کا مقام ہے، لیکن جب مرتبۂ شریعت سے بھی گرگیا تو اُس کا ٹھکانہ کہاں؟ مزید فرماتے ہیں کہ اگر کوئی ہزار روپے ہم کو نذر کرے، ہم راضی نہیں، اِلّا اُس شخص سے جو ہمارے کہے پر عمل کرے۔ گویا آپ تَامُرُوْنَ بِالْمَعْرُوْفِ اور تَنْھَوْنَ عَنِ الْمُنْکَرِ کی علمی تفسیر تھے۔
زہد وتقویٰ: آپ روپے پیسے کو ہاتھ سے نہ چھوتے مگر محفل سماع میں جب کوئی نذر دیتا تو کبھی اُس کے ہاتھ کو پکڑ کر قوال کے سامنے کر دیتے اور کبھی خود دست مبارک سے اٹھا کر دے دیتے، یا پیر ومرشد کو اور اُن کے بعد صاحبزادگان کو جب نذر دیتے تب ہی ہاتھ لگاتے۔ اکثر ایسا ہوتا کہ کوئی آتا اور نذرزیرقدم رکھ دیتا اور کوئی اٹھانے والا نہ ہوتا تھا۔ آپ بھی اٹھ کھڑے ہوتے اور کسی سے کچھ کہتے بھی نہیں۔ جو دیکھتا اٹھالے جاتا، لیکن اگر وہ ظاہر کردیتا تو معاف فرما دیتے تھے۔ آپ نہ دنیا داروں کی محفل میں جاتے اور نہ کسی کے گھر کا کھانا تناول فرماتے مگر جس کو محتاط سمجھتے۔ آپ کی غذا بھی بہت تھوڑی تھی۔
سلطان المشائخ خواجہ نظام الدین اولیا قدس سرہٗ کے طرز پرحضرت خادم صفی بھی توبہ کرانے اور بیعت لینے میں تاخیر نہ فرماتے۔ لیکن آخراَیام میں ایسا نہیں تھا، اخیر وقت میں بہت کم بیعت لیتےتھے اور فرمایا کرتے تھے کہ ’درویشی کی پہلی شرط یہ ہے کہ مرید کرنے کا حریص نہ ہو۔‘
منقول ہے کہ چودھری حشمت علی سنڈیلوی نامی گرامی تعلقہ دار اور بڑے رئیس تھے۔ اُنھوں نے حضرت خادم صفی کو بذریعۂ خط بیعت کی غرض سے دعوت دی۔ آپ نے بہ مصداق ’’اگر جنبد زمیں جُنبَد، قطب از جا نمی جُنبَد۔‘‘ (زمین جنبش کر سکتی ہے لیکن قطب اپنی جگہ پر مستحکم رہتا ہے۔) اُسی خط پر یہ دو شعر لکھ کر روانہ فرما دیے اور خود تشریف نہیں لے گئے:
کرا دماغ کہ از کوئے یار برخیزد
نشستہ ایم کہ از ما غبار برخیزد
ترجمہ: کس میں یہ حوصلہ کہ یار کے کوچے سے اٹھ سکے! ہم تو ایسے بیٹھے ہیں کہ ہمارا غبار ہی اٹھے گا۔
نہ نالے کے قابل نہ فریاد کے
پھنسے دام میں ایسے صیاد کے(نغمۂ صوفیہ، ص: ۱۵)
آپ دنیا سے اِس قدرعلاحدہ اور بے نیاز ہوئے کہ اپنے موروثی سرمایے سے بھی آپ کو کچھ علاقہ نہ رہا۔ ایک بار آپ کے والد نے شیشم کے کچھ درخت فروخت کیے اور آپ سے فرمایا کہ باغ جاؤ اور بتادو۔ آپ گئےتو، لیکن کسی اور کے باغ میں پہنچا آئے۔مشتری نےجب درخت کاٹنے کا ارادہ کیا تو باغ کا اصل مالک دوڑتا ہوا درگاہ میں گیا اور سارا ماجرا کہہ سنایا۔ آپ کے والد نے آپ نے دریافت کیا توفرمایا کہ میں اُسی کو اپنا باغ سمجھا۔ (عین الولایت، ص: ۸)
سلام میں پہل کرنا مسنون عمل ہے، چناں چہ آپ بھی سلام میں سبقت فرماتے۔ اپنی خواہش کے کھانے پکواتے، نہ کوئی لباس اپنی رغبت سے خریدتے تھے۔ بلکہ جو کچھ سامنے آتا کھا لیتے اور جوکچھ مل جاتا پہن لیتے۔ اگر اتفاقاً کبھی کوئی کپڑا خود بنواتے تو بہت ہی معمولی قیمت پر خریدتے۔ ({عین الولایت، ص:۹)
مجاہدات اوروظائف: چوں کہ دعائے سیفی (حرزِ یمانی ) آپ کے ورد میں تھی، اس لیے مچھلی اور بڑے گوشت سے بھی پرہیز فرماتےتھے۔ زندگی کے اکثر حصے مجاہدات و ریاضات اورتنگی میں گزارے۔ منقول ہے کہ آپ نے ابتدا میں بہت ہی مجاہدات وریاضات کیے۔ یہاں تک کہ خون تھوکنے لگے اور خون کا پیشاب آنا شروع ہوگیا۔رات کو بہت کم سوتےتھے اورکبھی سوتے بھی تو دیکھنے والوں کو پتا نہیں چلتا تھا۔ فوراً چشمان مبارک کھول دیتے تھے۔ (عین الولایت، ص:۸-۹)
حضرت خادم صفی خود ہی بیان فرماتے ہیں کہ مخدوم شاہ صفی قدس سرہٗ کے مزار پُرانوار پربارہ برس تک میںروزمراقب رہا۔ لیکن جب اسرارالٰہی سے کچھ پردہ نہیں اُٹھا تو ایک نصف شب میں اپنے پیرومرشد کی خدمت میں پہنچا اور عرض کی: ’’یہ شجرہ اور تسبیح لیجیے، جس بات کا میں طالب ہوں وہ آپ کے یہاں میسرنہیں ہے۔‘‘ یہ سن کر پیرومرشد نے میری پشت پرہاتھ پھیرا اور فرمایا: ’’ہم اِسی بات کے طالب تھے۔‘‘ پھر آنِ واحد میں بےنیاز کردیا اور صبح کومیں پھولے نہیں سماتا تھا۔
بیعت و خلافت: ایام طفولیت ہی میں حضرت شاہ غلام زکریا قدس سرہٗ نے حضرت خادم صفی کی ایک خدمت گزاری پرخوش ہوکر فرمایا تھا کہ ہم نے تمہاری ایک امانت برادرم حفیظ اللہ شاہ کے سپرد کردی ہے، جب تم سن شعور کو پہنچ جاؤگے توتمھیں مل جائے گی۔ چناں چہ جب آپ باشعور ہوئے توایک مرشد کامل کی تلاش ہوئی۔ اُس وقت صفی پور میں آپ کے حقیقی ماموں حضرت مخدوم محمد حفیظ اللہ شاہ قدس سرہٗ کا فیضان جاری تھا۔ اُن کی خدمت میں پہنچے اوربیس سال کی عمرمیں آپ نے اُن کے دست حق پرست پر بیعت کی۔ بیعت کے بعد قلبی کیفیت مزید بدل گئی، صرف یادِ الٰہی سے شغل رہا۔ اُسی زمانے میں چچازاد بہن سے آپ کا عقد مسنون بھی ہوگیا۔
لیکن ازدواجی زندگی میں مصروف ہونے کے باوجود طلب مولیٰ کے جذبےمیں کوئی کمی نہ آئی۔ مجاہدات و ریاضات کے پہلے ہی سے عادی تھے، مرشد کے حکم کے مطابق اس راہ میں مختلف قسم کی شدتیں برداشت کرنی پڑیں اور ایک دن ان تمام مجاہدات شاقہ کی تپش سے کندن ہو گئے ۔ بالآخر ماہ ذی قعدہ ۱۲۵۵ھ / جنوری ۱۸۴۰ء میں جمعہ کے روز مرشد گرامی حضرت حفیظ اللہ شاہ قدس سرہٗ نے تمام روحانی نعمتوں سے نوازا ،اورجملہ اجازت وخلافت سے سرفراز فرما کر مسند ارشاد پر فائز کیا ۔
آپ کی زندگی کایہ پہلو بڑا ہی قابل رشک ہے کہ جب حضرت مخدوم حفیظ اللہ شاہ قدس سرہٗ نے آپ کواجازت وخلافت سے سرفراز فرمایا، تو آپ نے اپنی تمام جائداد یہاں تک کہ ذاتی گھر بھی مرشد کو نذر کردیا اور خود مرشد کے عنایت کردہ گھرمیں رہائش اختیار فرمائی۔
سلسلہ بیعت : آپ کا سلسلۂ بیعت حسب ذیل ہے:
خادم صفی ازمحمد حفیظ اللہ شاہ از شاہ غلام پیر از شاہ افہام اللہ از شاہ عبداللہ از شیخ بھولن از شیخ زاہد از شیخ عبدالواحد از شاہ عبدالرحمٰن ازشیخ اکرم از شیخ مبارک از مخدوم شاہ صفی از شیخ سعد خیرآبادی از شاہ مینا از شیخ سارنگ از سیدراجو قتال از مخدوم جہانیاں جہاں گشت ازخواجہ نصیرالدین چراغ دہلی از خواجہ نظام الدین اولیا از خواجہ فریدالدین گنج شکر از خواجہ قطب الدین بختیار کاکی از خواجہ معین الدین قدست اسرارہم … تاامیرالمومنین سیدنا علی کرم اللہ وجہہ و حضور اکرم ﷺ
مرشد کا فیضان: ۱۲۷۷ھ کے بعد حضرت خادم صفی مسلسل بیمار رہے۔ ایام علالت میں پیرو مرشد کی عیادت بھی حاصل رہی۔ مرشد کی دعا کی برکت سے مکمل صحت یاب بھی ہوئے۔ اس کے شکرانے میں مرشد کے وصال (۱۲۸۱ھ) کے بعد مزار مبارک پر چادر پیش کی اور اپنے مرشد زادے حضرت امیر اللہ شاہ رحمۃ اللہ علیہ کوعمامہ، پیرہن اور نقد نذر کیا۔
مرشدِ برحق کے مرقد انور کی چادر پر یہ شعر نقش کرایا:
در بشر روپوش گشتہ آفتاب
فہم کن واللہ أعلم بالصواب
ترجمہ: بشر کے پردے میں آفتاب روپوش ہوگیا ہے، اس بات کو سمجھو، اللہ درستی کو سب سے زیادہ جاننے والا ہے۔
اسفار:ویسے توآپ تمام عمر’صفی پور‘ میں ہی رہے۔ البتہ! صرف شدید ضرورت کے تحت آس پاس کے چند ایک مقامات پر چھ-سات بارآنا جانا ہوا۔ ایام بیماری میں والدہ ماجدہ کے اصرارپرعلاج ومعالجے کی غرض سے لکھنؤ اور کان پورجانے کا اتفاق ہوا۔ کان پور سفر کے دوران جاجمئومیں حضرت مخدوم شاہ اعلیٰ جاجموی قدس سرہٗ کی درگاہ میں حاضر ہوئے۔ یہ بزرگ ، آپ کے اجداد میں آتے ہیں۔
خوارق وکرامات: حضرت مخدوم شاہ اعلیٰ جاجموی کی درگاہ پرجب آپ پہلی بار حاضر ہوئے تو خلاف عادت بہت ساری قبروں کا لحاظ نہ کیا اور اُن پر پاؤں رکھتے ہوئے داخل ہو گئے۔ معمول کے خلاف یہ عمل دیکھ کرلوگوں کوحیرت ہوئی۔ تھوڑی دیربعد آپ نے فرمایا کہ ان قبروں میں کوئی مدفون نہیں ہے۔ تحقیق کرنے پر معلوم ہوا کہ پُرانے زمانے میں اُمرا و وزرا، بزرگوں کی قبروں کے قریب دفن ہونے کی خواہش کرتے تھے۔ اُن کودور رکھنے کے لیے لوگوں نے بہت سی مصنوعی قبریں بنادی تھیں۔ (مخزن الولایت، ص: ۴۲)
کان پورمیں قیام کے دوران حضرت شاہ غلام رسول نقشبندی قدس سرہٗ سے ملاقات ہوئی۔ دونوں بزرگوں کے مابین پر لطف صحبت رہی۔ آخری ملاقات کے روز آپ نے حضرت شاہ غلام رسول نقشبندی قدس سرہ سے فرمایا کہ آج آپ کا گھر بے رونق نظر آ رہا ہے۔ انھوں نے فرمایا: گھر چوں کہ پُرانا ہو چکا ہے۔ مزدور اِس کی مرمت میں لگے ہیں۔ شکست و ریخت درست کر رہے ہیں۔ اسی لیے ایسا نظر آرہا ہے۔ جب حضرت اقدس اپنی قیام گاہ پر واپس تشریف لائے تو فرمایا: شاہ صاحب کی وفات کا وقت قریب ہے۔ چناں چہ اس کے دوسرے یا تیسرے روز حضرت شاہ غلام رسول قدس سرہٗ کا وصال ہوا۔ (حوالہ سابق، ص: ۳۲)
حضرت خادم صفی کی نگاہ میں بڑی تاثیر اور جاذبیت تھی۔ سید ارادت حسین اثناعشری محفل سماع میں ہنسے، آپ نے پلٹ کر دیکھا وہ فوراً تڑپنے لگے۔ محفل کے بعد تائب ہو کر مرید ہو گئے۔ اُن کے اعزّہ انھیں مجتہد تک لےگئےلیکن کچھ نہ ہوا۔ آخرمجتہد نے کہا کہ ان پر پڑھا ہوا جن سوار ہے ۔ (عین الولایت ،ص :۲۳- ۲۴) اِس طرح کے بے شمار واقعات آپ کے ذریعے رونما ہوتے رہتے تھے ۔
وصال: حضرت خادم صفی نے عمرکی صرف ۵۸ بہاریں ہی دیکھیں اوربروز اتوار ۱۳؍ رجب۱۲۸۷ھ/۹؍اکتوبر ۱۸۷۰ء میں اِس دارِفانی سے دارِباقی کی رحلت فرمائی۔ حضرت عزیزاللہ شاہ وصال کے احوال بیان کرتے ہیں: ’’سترہ اٹھارہ دنوں تک طبیعت ناساز رہی۔ اس درمیان انتہائی سخت کوائف رہے، اِلّا یہ کہ زبان مبارک سے ہُوَ مَعَکُمْ ہُوَ اَیْنَمَاکُمْ کے سوا کچھ اور سنائی نہیں دیا۔ آپ سب کی تسلی فرماتے رہے۔ رات بھرصبح کے منتظر رہے اور جب صبح میں وصال ہوا تو چہرۂ نورانی قابل دید تھاکہ
نازم بچشم خویش روئے تو دیدہ است
آپ پہلو پر استراحت فرما تھے کہ اچانک سیدھے ہوگئےاور سراَقدس کوسیدھا کرتے ہوئے قلب مبارک پرلَااِلٰہَ کہا اور اِلَّااللہُ کا ضرب مارا، اور اِنَّا لِلہِ وَ اِنَّا اِلَیْہِ رَاجِعُوْنَ کے معنی حل فرما دیے۔ (حوالہ سابق،ص: ۱۴) قطعہ تاریخ یہ ہے:
صبح یکشنبہ و ز رجب سیزدہم
گردید قیامتے ز ماتم برپا
در فکر شدم عزیز و گفتم تاریخ
شد مرشد ما از برما حیف از ما
آپ کا مزار مقدس صفی پور میں آج بھی مرجعِ خلائق ہے۔
جانشینی و تولّیت: آپ کے بعد حضرت خلیفۃ اللہ شاہ عرف شیخ امیر احمد آپ کے جانشین ہوئے۔ شاہ امیر احمد آپ کے داماد اور بھتیجے تھے۔ آپ نےاُن کے حق میں فرمایا تھا کہ وہ میرے فرزند، لخت جگر اور جان و مال کے مالک ہیں۔ (حوالہ سابق، ص: ۲۵) یہ آپ کے آخری خلیفہ تھے۔ آپ نے اپنے وصال سے صرف ۳؍ دن پہلے بروز جمعرات ۱۲۸۷ھ میں اُن کو اجازت و خلافت عطا کی اور اپنا جانشین مقرر فرمایا۔ ان کو ’خلیفۃ اللہ شاہ‘ کا خطاب بھی عنایت کیا۔ یہ صاحب وجد وسماع درویش تھے۔
حضرت شاہ امیر احمد کا وصال ۷؍ ذو الحجہ ۱۳۱۴ھ / ۱۸۹۷ء کو ہوا،اور حضرت عزیز صفی پوری نے درج ذیل تاریخ کہی (بیان التواریخ، ص: ۷۳):
جانشینِ مرشدِ ما رفت آہ
خوش برآمد جانِ او از کالبد
مصرعِ تاریخ بنوشتم عزیز
شاہ امیر احمد گلِ فردوس شد
۱۳۱۴ھ
حضرت شاہ امیر احمد کے بعد درگاہ شریف اور جائداد کی منتظم آپ کی دوسری اہلیہ انیسٌ بی بی رہیں۔ اُنھوں نے اپنے بھتیجے اور حضرت شاہ شمشاد صفی محمدی کے مرید وخلیفہ(آپ کا ذکر خیر ص: ۳۱۳) حضرت مواہب اللہ شاہ عرف سید خادم علی بن سید فرزند علی اور اُن کے چھوٹے بھائی سید ناظم علی کو اپنا وارث نامزد کیا تھا۔ لیکن سید خادم علی صاحب کی حیات کے آخری دنوں میں جب کچھ ناچاقی اور نا اتفاقی ہوئی تو اُن کے چھوٹے بھائی سید ناظم علی صاحب نے درگاہ کا انتظام و انصرام اپنے ہاتھوں میں لیا اور متولّی ہوئے۔
سید خادم علی صاحب نے اپنے صاحبزادے سید ضیا خاد م عرف نوابومیاں کو اپنا خلیفہ و جانشین مقرر کیا۔ سید خادم علی صاحب کی وفات ۲۲؍ رجب ۱۳۹۶ھ / ۱۹۷۶ء میں ہوئی اور اُن کے صاحبزادے حضرت نوابو میاں رحمہ اللہ کی وفات ۱۶؍ ذی القعدہ ۱۴۲۳ھ / ۲۰۰۳ء کو ہوئی۔ اب آپ کے بڑے صاحبزادے جناب سید ضیا عارف عرف ببو میاں آپ کے جانشین ہیں۔ آپ کی درگاہ شریف کے متولی سید لائق ناظم بن سید ناظم علی صاحب ہیں، جو معاملہ فہم، ذی شعور اور بہتر انتظامی صلاحیتوں کے مالک ہیں۔(تذکرہ مینائیہ دراحوال مشائخ صفویہ، ص:۱۷۱)
تعلیمات وفرمودات: حضرت خادم صفی قولاً و عملاً ہمہ وقت بندگانِ خدا کی خیر خواہی اور نفع رسانی پر آمادہ رہتے۔ باطنی ہمت، دعا تعویذ، مالی امداد اور زبانی ارشاد سے ہمیشہ لوگوں کی دلجوئی اور ہدایت کا سامان فراہم کرنا، آپ کی حیاتِ مبارکہ کا روشن ترین باب ہے۔ عوام الناس کے افہام و تفہیم کے پیش نظر آپ اکثر چیزیں بزبان ہندوی ارشاد فرماتے، فارسی اور اردو میں نسبتاً کم گفتگو فرماتے۔
۱۔اسرارحقیقت : اِس میں آپ کا عرفانی کلام بشکل دیوان جمع ہے۔
آپ کے ملفوظ کے دو مجموعے ہیں:
۲۔نغمۂ طریقت: اس کا تاریخی نام: نغمۂ صوفیہ( ۱۲۸۶ھ) ہے۔ اِسےآ پ کے مرید وخلیفہ مخدومی حضرت شاہ محمد شفیع قیس صفی پوری (م ۱۳۳۶ھ/ ۱۹۱۸ء) نے فارسی زبان میں مرتب فرمایاہے۔یہ ۱۳۲۴ھ / ۱۹۰۶ء میں قیصر ہند پریس الٰہ آباد سے شائع ہواہے۔
۳۔مخزن الولایت والجمال (۱۲۸۶ھ): اِسے شاہ محمد عزیز اللہ عرف منشی ولایت علی صفی پور ی(م ۱۳۴۷ھ / ۱۹۲۸ء) نے جمع کیا۔ یہ ۱۳۰۰ھ میں مطبع انوار محمدی، لکھنؤ سے بزبان فارسی طبع ہوا ہے۔ اِس کا اُردو ترجمہ پاکستان سے ۱۹۶۳ء میں شائع ہوا ہے۔ یہ اپنی نوعیت کا منفرد ولاجواب ملفوظ ہے۔ اس میں آپ کی سوانح کے ساتھ آپ کے خلفا کے بھی مختصر حالات درج ہیں۔ (تذکرہ مینائیہ دراحوال مشائخ صفویہ، ص:۱۶۶)
حضرت خادم صفی کے ملفوظات معرفتِ الٰہیہ کا خزینہ ہیں۔ بالاختصار آپ کے چند اِرشادات ’مخزن الولایت والجمال‘ (مؤلّفہ حضرت شاہ عزیز اللہ صفی پوری) سے نقل کیے جاتے ہیں:
ےکوئی شخص اگر آسمان میں اُڑے اور ذرہ برابر شریعت کی خلاف ورزی کرے تو وہ قابلِ اعتبار نہیں ۔ اس کے کشف و کرامت پر فریفتہ نہیں ہونا چاہیے۔
ے اگر مرید پایۂ طریقت سے گرا تو شریعت اس کا مقام ہے، اگر شریعت سے بھی گرا تو اُس کا ٹھکانا کہاں!
ے آخری زمانہ ہے، اب اگلوں سا وقت کہاں! برتن میں تلچھٹ باقی ہے اسے ہی چاٹ لینا چاہیے۔
ے زمانہ اللہ تعالیٰ کے بندوں سے خالی نہیں ہے، اس وقت بھی ایسے بہت سے بندے ہیں کہ جو وہ چاہتے ہیں وہی ہوتا ہے۔ البتہ! بہت نازک دور ہے، اب دن مثلِ رات تاریک ہیں، اگر کسی سے خرق عادت کا ظہور ہوا تو لوگ اسے جاں بہ لب کر دیں گے اور فرصت ہی نہ دیں گے۔
ے طالبِ صادق جب تک اللہ تعالیٰ کے بندوں میں سے کسی ایک کا تابع نہیں ہوگا، منزل مقصود تک نہیں پہنچے گا۔
ے رسمی مرید تو بہت ہوتے ہیں لیکن حقیقی مرید بہت کم ہوتے ہیں۔ حقیقی مرید وہی ہے جو بالکلیہ پیر کے نقش قدم پر ہو۔
ے مرید جو کچھ پیر کو کرتا دیکھے اس پر عمل نہ کرے بلکہ جو پیر کہے اس پر عمل کرے (یعنی مرید کو عزیمت پر عمل کرنا چاہیے، رخصت پر عمل شیخ کے حکم سے کرے )۔
ے مرید اگر ظاہری شکل و صورت بھی اپنے پیر کی طرح نہ کر سکا تو اُس سے آگے اور کیا ہو سکتا ہے!
ے مرید وہی ہے جس میں مرشد کی بو آتی ہو۔ شاخ میں جب تک قلم نہیں لگتی اس میں لذیذ پھل نہیں آتا۔
ے محض اسلامِ تقلیدی (یعنی نام کا اسلام) کام نہیں آتا ہے، جب تک کہ حقیقی ایمان حاصل نہ ہو جائے۔
ے طالب کو کشفِ صدر اور کشفِ قبر کے چکر میں نہیں پڑنا چاہیے، جتنا ہو سکے طلب خدا میں جد و جہد کرے کیوں کہ مَن لَہُ الْمَوْلٰی فَلَہُ الکُلُّ۔ (جس کا رب ، اُس کا سب۔)
ے بعض لَا (مقام نفی) میں رہ گئے اور بعض اِلَّا اللہُ (اثبات) میں، کوئی کوئی ہی حقیقت محمدی (ﷺ) تک پہنچ سکا، جس کی رسائی یہاں تک ہوئی وہی کامل ہے ورنہ وہ کمال سے بے بہرہ ہے۔
ے لوگ اس بات پر فخر کرتے ہیں کہ ہم شیخ زادے اور پیرزادے ہیں! در اصل یہی چیز راستے کی رکاوٹ ہوتی ہے۔
ے لوگ جو ہمارے پاس آتے ہیں نرمی اور مدارات کی وجہ سے آتے ہیں، اگر ایک دن بھی ان کی طرف نظرِ التفات نہ کروں تو کوئی نہ آئے۔
ے جن یا خبیث جو بھی ہو مقابلہ (سامنا) کرتا ہے، لہٰذا جس جگہ ڈر محسوس ہو وہاں پلٹ کر نہ دیکھے۔
مذکورہ بالا تعلیمات اگرچہ مختصر ہیں لیکن اپنے اندرسمندر کی سی گہرائی وگیرائی رکھتی ہیں اور عرفان وتصوف کے تمام رازہائے سربستہ کی امین وپاسدار ہیں۔ اِن تعلیمات میں نہ صرف پیران عظام اورمریدین دونوں کےلیے تازیۂ عبرت اورسبق ہیں کہ محض کرامات کا اظہارصاحبانِ طریقت ہونے کی دلیل نہیں ہے، بلکہ صاحبانِ شریعت ہونا اصل چیز ہے۔ پھریہ بھی تسلیم کہ ہم آخری دور سے گزررہے ہیں اوراگرچہ تلچھٹ ہی طرح لیکن صاحبانِ طریقت موجود ہیں، تو اُنھیں تلاش کرنے کی ضرورت ہے اور اُن کے صحبت بافیض استفادہ کرنے کی ضرورت ہےکہ مبادا کہیں یہ حضرات بھی اپنے انجام کو نہ پہنچ جائیں۔ اس پر بھی یقین رہے کہ یہ جہاں، اللہ والوں سے کبھی خالی نہیں ہوتا۔ البتہ! ایسے برگزیدہ شخصیات اپنے آپ کو روپوش رکھتے ہیں، کیوں کہ اگر وہ اپنے آپ کو ظاہر کردیں تو سارا زمانہ اُنھیں جاں بلب کردیں اور اُنھیں عبادت وریاضت کی خاطر موقع ہی نہ ملے، اِس لیے ہمیں اُن کی تلاش میں سرگرداں رہنا چاہیے اور کسی نہ کسی صاحب عرفان کے دامن سے وابستہ ضرور ہوجانا چاہیے۔ نیزاگرایسا ہوتویہ تعلق ورشتہ رسمی نہیں ہونا چاہیے بلکہ حقیقی ہونا چاہیے۔ حقیقی کامطلب یہ ہے کہ اگر کسی مرد صالح سے بیعت حاصل ہوجائے تو اُس کے نقش قدم کو بہرحال اپنے لیے وظیفۂ حیات بنالے۔ مزید یہ کہ مرید ہمیشہ عزیمت کا راستہ اختیار کرے اور اُس وقت تک رخصت کی راہ، اختیار نہ کرے جب تک کہ پیرومرشد کی طرف سے اجازت نہ مل جائے۔ کوشش کرے کہ باطنی طورپر بھی مرشد کی تقلید ہو، ورنہ کم سے کم اتنا ضرور ہوکہ ظاہری طورپر مرشد کا عکس اپنے اندر پیدا کرے، کیوں کہ اصل مرید وہی ہے جس کے اندر سے مرشد کی جھلک محسوس ہو۔ اُسی طرح محض رسمی ایمان سے کچھ نہیں ہوتا بلکہ ہرمسلمان کے اندر حقیقی ایمان کا ظہور لازمی ہے یعنی اُس کےاعمال وکردار اور اخلاق وطوار اُس کے مومن ہونے کی گواہی دیں۔
جولوگ راہِ سلوک کے مسافر بننا چاہتے ہیں اُنھیں اپنا سارا فوکس طلب مولیٰ پررکھنا چاہیے اور اُسی کے لیے جہد مسلسل اور عمل پیہم کرنا چاہیے۔ ورنہ اگر کشف و کرامات کے چکر میں پھنستا ہے تو پھراُس کا منزل مقصود (طلب مولیٰ) تک پہنچنا بڑا مشکل ہے۔ بعینہ سالکان طریقت کو نفی واثبات سے بھی آگے کی طلب رہنی چاہیے اور وہ حقیقت محمدیہ کی طلب ہے۔ کیوں کہ حقیقت محمدیہ تک رسائی ہی باکمال وباجمال ہونے کی دلیل ہے۔
علاوہ جو لوگ ’پدرم سلطان بود‘ کے پرستار ہیں وہ کبھی بھی منزل مقصود تک نہیں پہنچ سکتے کیوں کہ یہ سب سے بڑی روکاوٹ ہے، اس لیے ’پدرم سلطان بود‘ کا وظیفہ ترک کرے اور خود اپنی راہ تیار کرے۔ پھر جب کسی قابل اور لائق وفائق ہوجائے تو خود ستائی اور غرور وتکبر کی جگہ اپنے اندرعاجزی وانکساری کے اوصاف پیدا کرے اور اہل دنیا سے نرمی و مدارات کا معاملہ روا رکھے، تاکہ اُن کے ذریعے اللہ کے بندوں تک کما حقہ نفع پہنچ سکے، وہ خود اَحب العباد اِلی اللہ کے زُمرے میں شامل ہوسکے اور فظاً غلیظ القلب کی صف سے باہر نکل سکے۔ منجملہ یہ تمام خوبیاں جس بندے کے اندربھی مجتمع ہوجائیں تو بلاشبہ وہ دین ودنیا دونوںمیں سرخروہوگا۔ ان شاءاللہ
خلفا: حضرت بندگی شیخ مبارک قدس سرہٗ کے بعد جس طرح سے سلسلۂ صفویہ آپ کی ذات بابرکت سے شائع وذائع ہوا، کسی اور ذات سے اُس کی ایسی اشاعت نہیں ہوئی۔ آپ نے 42؍ نفوس قدسیہ کی تکمیل فرما کر اُنھیں اجازت وخلافت سے سرفرازفرمایا۔ آپ کے خلفا میں سب کے سب اپنے وقت کے کامل مرشداور رہنماکی حیثیت رکھتے ہیں، جن میں سے اکثر بزرگوں کے دست حق پرست پر ہزاروں کی تعداد میں لوگ تائب ہوئے اور اُن کے ذریعے طالبین مولیٰ نے بھی اپنے مقصد حیات تک رسائی حاصل کی ؎
کعبۃ العشاق باشد این مقام
ہر کہ ناقص آمد این جا شد تمام
یعنی یہ بارگاہ عشاق کا مرکز ہے، اس کے گرد جو بھی ناقص آیا اس کی تکمیل ہوئی۔