ڈاکٹرجہاں گیرحسن
آج کے تیز رفتار معاشرتی حالات میں، جہاں ہر شخص اپنی ذات میں گم ہے، ’’گھرانہ‘‘ کا تصور کافی حد تک دھندلا سا ہوگیا ہے۔ کبھی یہ لفظ ایک مضبوط رشتے، محبت اور سکون کی علامت ہوا کرتا تھا، لیکن اب یہ صرف ایک چھت کے نیچے رہنے والے چند بےحس افراد کا مجموعہ بن کر رہ گیا ہے۔
ایسے ہی ایک کہانی ہے احمد صاحب کے گھرانے کی۔ احمد صاحب اور اُن کی اہلیہ فریدہ بیگم، اپنے دو بچوں، علی اور سارہ کے ساتھ ایک خوب صورت مگر بے روح مکان میں رہتے تھے۔ مکان ہرطرح کی جدید سہولیات سے آراستہ تھا، لیکن وہاں دلوں کو جوڑنے والی کوئی شے موجود نہیں تھی۔
احمد صاحب صبح سویرے اٹھتے، نہاتے دھوتے، ناشتہ کرتے اور اپنے کام پر نکل جاتے۔ شام کو تھکا ماندہ آفس سے لوٹتے اور اپنے کمرے میں بند ہو جاتے۔ اُن کی زندگی مشین کی دھوری بن کر رہ گئی تھی۔ ادھر فریدہ بیگم بھی اپنی گھریلو ذمہ داریوں میں مصروف رہتیں، اگرفرصت ملتی بھی، تو اُن کا زیادہ تر وقت سوشل میڈیا پر گزرتا۔ اُنھیں گھر سے زیادہ باہر کی دنیا کی خبروں میں دلچسپی تھی۔
احمد صاحب کا بیٹا علی، کالج میں پڑھتا تھا اور وہ بھی اپنی خود ساختہ دنیا میں مگن تھا۔ وہ بھی زیادہ تر وقت اپنے دوستوں کے ساتھ یا پھر آن لائن گیمز کھیلنے میں گزارتا۔ اُس کے پاس بھی گھر والوں سے بات کرنے کی فرصت نہیں تھی۔ جب کہ احمد صاحب کی بیٹی سارہ اسکول جاتی اور واپسی پر وہ بھی ٹی وی یا موبائل فون سے چمٹی رہتی۔ وہ اپنے گڈوں اور گڑیوں سے بھی زیادہ الیکٹرانک ڈیوائسز میں دلچسپی رکھتی تھی۔
رات کو کھانے کی میز پر بھی گہری خاموشی چھائی رہتی۔ ہر کوئی اپنے موبائل فون میں مصروف ہوتا، یا اپنے ہوائی خیالات میں گم۔ گفتگو نہ کے برابر ہی ہوتی تھی۔ اگر کبھی فریدہ بیگم پوچھ لیتیں کہ’’آج کا دن کیسا رہا؟‘‘ تو جواب میں احمد صاحب صرف ’’ٹھیک‘‘ یا ’’اچھا‘‘ کہہ دیتے اور بات ختم ہو جاتی۔
ایک دن، فریدہ بیگم کی والدہ، جمیلہ بیگم اُن کے گھر آئیں۔ وہ ایک تجربہ خاتون تھیں، جو رِشتوں کی قدر جانتی تھیں۔ جمیلہ بیگم نے آتے ہی محسوس کرلیا کہ گھر میں سب کچھ ہے سوائے رشتوں کے لمس کے۔
جمیلہ بیگم نے پہلے علی اور سارہ سے قربتیں بڑھائیں، اُن کے ساتھ کھیلتیں اور اُنھیں کہانیاں بھی سناتیں۔ اُدھر وہ باورچی خانے میں فریدہ بیگم کا ہاتھ بھی بٹاتیں اور احمد صاحب سے کہتیں کہ وہ بھی کچھ وقت فریدہ کے ساتھ گزار لیا کریں۔
آہستہ آہستہ، جمیلہ بیگم کی موجودگی نے گھر کا ماحول بدلنا شروع کر دیا۔ رات کو کھانے کی میز پر آپس میں بات چیت کا دور چلنے لگا۔ علی اور سارہ نے اپنے دن کے واقعات بتانے شروع کردیے۔ احمد صاحب بھی اپنے کام اور آفس کے بارے میں بہت ساری باتیں شیئر کرنے لگے۔ فریدہ بیگم نے بھی اپنا زیادہ تروقت سوشل میڈیا کی بجائے اپنے گھر والوں کو دِینا شروع کر دیا۔
ایک شام جمیلہ بیگم نے سب کو اِکٹھا کیا اور کہا کہ ’’گھرانہ، صرف اینٹوں، سیمنٹ اور گارے سے نہیں بنتا، یہ رشتوں کی بنیاد پر بنتا ہے۔ گھرانہ وہ ہوتا ہے جہاں سبھی مل جل کر رہتے ہیں، ایک دوسرے کا خیال رکھتے ہیں، آپس میں دکھ سکھ بانٹتے ہیں اور ایک دوسرے کی خوشیوں میں شریک ہوتے ہیں۔ اگر یہ سب نہ ہو تو پھر گھرانہ، گھرانہ نہیں رہتا۔‘‘
جمیلہ بیگم کی باتوں نے سب کو بڑامتأثر کیا۔ احمد صاحب اور فریدہ بیگم نے محسوس کیا کہ وہ کتنی بڑی غلطی کر رہے تھے۔ اب وہ اپنے بچوں کو وقت دیتے، اُن کی باتیں سنتے اور اُن کے ساتھ زیادہ سے زیادہ وقت گزارنے کی کوشش کرتے۔ علی اور سارہ بھی اپنے والدین کے کافی قریب آگئے تھے۔
وہ گھرجو اَجنبیت کا شکار ہوچکا تھا آج واقعی ایک ’’گھرانہ‘‘ بن چکا تھا۔ جہاں محبت، الفت اور سکون کا بسیرا تھا۔ احمد صاحب اور فریدہ بیگم کے ساتھ علی اور سارہ نے بھی اِس بات کو بخوبی محسوس کرلیا تھا کہ سوشل میڈیا کی اِس دوڑ میں مادّی چیزیں تو حاصل کی جا سکتی ہیں، لیکن رشتوں کاحقیقی لمس نہیں۔
