ڈاکٹر جہاں گیر حسن
اہل تصوف کی تاریخ میں سب سے پہلے جن صوفیائے کرام کے نام سرفہرست نظر آتے ہیں اُن میں حسن بصری (۱۱۰/۷۲۸)، محمدبن سیرین (۱۱۰/ ۷۲۸)، مالک بن دینار (۱۳۰/۷۴۷)، ابوحازم سلمہ بن دینار مخزومی (۱۴۰/۷۵۷)، ابوہاشم کوفی (۱۵۰/۷۶۷)، ابراہیم بن ادہم (۱۶۰/۷۷۷)، رابعہ بصریہ(۱۸۰/ ۷۹۶)، عبد اللہ بن مبارک (۱۸۱/۷۹۷)، معافی بن عمران (۱۸۵/۸۰۱)، فضیل بن عیاض (۱۸۷/ ۸۰۳)، شقیق بلخی (۱۹۴/ ۸۱۰) اورمعروف کرخی (۲۰۰/۸۱۵) نمایاں ہیں۔
گوکہ تصوف کے ابتدائی نقوش اصحاب صفہ، بلکہ خود رَسول کریم ﷺ اور عام صحابہ کرام کی زندگی میں بھی ملتے ہیں، اورحضرت اویس قرنی (۳۷ھ) کا نام بھی اِس سیاق میں آتا ہے، البتہ!عہد اوّل میں تصوف اور صوفیا کی اصطلاح قائم نہیں ہوئی تھی۔ لیکن عام مورخین کے بموجب: اِحسان واخلاص اُن ہستیوں کی زندگی کا لازمہ تھا، اِس لیے اُن کی موافقت میں متذکرہ بالا ہستیوں کو عرفی طور پر تاریخ تصوف کے’’ مردان اوّلین‘‘ میں شمارکیا جاسکتا ہے۔
امام قشیری نے لکھا ہے کہ تصوف اور صوفیا کی اصطلاح ۲۰۰ھ سے پہلے تک مروج ہوچکی تھی۔ گم رہی اور دنیا طلبی کے بازار میں حق پرست خواص اہل سنت اِس نام سے متعارف ہوئے۔ یہ خواص، عہد رسالت میں صحابی، بعد اَزاں تابعی اوراُس کے بعد تبع تابعی کے نام سے معروف تھے۔ (۱) ابن خلدون کے بقول: زہد و بے ریائی، جو تصوف کی بنیاد ہے، وہ صحابہ وتابعین میں بھی موجود تھی، لیکن دوسری صدی ہجری میں جب لوگوں کا میلان دنیا کی طرف بڑھا تو اُن زاہدین کے لیے صوفیا کی اصطلاح وضع ہوئی، جورسول اللہ ﷺ اور صحابہ وتابعین کے طریقے پرقائم تھے۔ (۲)
اصطلاحِ تصوف کے ساتھ حقائق ِتصوف کی اصطلاح سازی بھی ضروری تھی، اِس لیے علم الفقہ کے بالمقابل (Parallel) علم التصوف کی ایجاد عمل میں آئی، جس میں مجاہدہ، محاسبہ اور اَحوال و مقامات زیر بحث آئے۔ (۳) کتب تصوف کے پس منظر میں یہ بات بھی کہی جاتی ہے کہ جب اہل تصوف نے نا اہلوں کی کثرت دیکھی، تو اُنھوں نے اپنے اسرار و رُموز کو اہل تک پہنچانے اور نااہلوں سے محفوظ رکھنے کے لیے خاص اصطلاحات وضع کیں اور مخصوص زبان و پیرائے میں اپنے اسرار و معارف کو محفوظ رکھا (۴) اوراِس طرح تدوین تصوف کا عمل رفتہ رفتہ ترقی کرتا ہوا شیخ قشیری (۴۶۵ھ/ ۱۰۷۴ء) کے رسالہ قشیریہ، امام غزالی (۵۰۵ھ/ ۱۱۱۱) کی کتاب احیاء العلوم اور شیخ سہروردی (۶۳۲ھ/ ۱۲۳۴ء) کی تصنیف عوارف المعارف پر مکمل ہوئی۔ اس کے بعد تصوف محض علم سینہ نہیں رہ گیا، بلکہ مکمل طور سے علم سفینہ بھی بن گیا۔ (۵)
یہاں ایک سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ تصنیف تصوف کا آغاز کس عہد سے ہوا اور تصوف کی پہلی کتاب کون سی ہے؟ لہٰذا واضح رہے کہ تصوف جس کی اوّلین بنیاد اورجس کا بنیادی پیغام آخرت طلبی اور دنیا سے بےرغبتی ہے، یہ مضمون قرآن کریم میں اِس قدر کثرت سے وارد ہوا ہے کہ اِس کی مثال و نظیر پیش نہیں کی جاسکتی۔ اِسی پیغام کی ترسیل انبیا ومرسلین کا مقصود بھی تھا اور وہ اِسی لیے مبعوث بھی ہوئے تھے۔ (۶) قرآن کریم کے بعد احادیث، سیرت صحابہ وتابعین اور اقوال واعمال تبع تابعین تصوف کے اوّلین مصادر قرار پاتے ہیں۔ لیکن عام مورخین کے مطابق تیسری/نویں صدی میں تصوف جب عجم کی وادیوں میں پھیل رہا تھا اوردیگر فلسفوں اور خیالات سے اُس کا اختلاط ہو رہا تھا، اُس وقت تصوف پر باضابطہ لکھنے کی ضرورت محسوس ہوئی اور دیکھتے ہی دیکھتے تصوف کے مسائل و مباحث اور صوفیا ئے کرام کے احوال و کوائف سے متعلق کتابوں کا ایک ذخیرہ جمع ہوگیا۔ یہ کام تیسری/نویں صدی سے شروع ہوکر چوتھی/دسویں صدی میں اور زیادہ واضح ہوگیا۔ (۷)
دوسری صدی میں حسن بصری (۱۱۰/ ۷۲۸)، ابوہاشم کوفی (۱۵۰/۷۶۷)، ابراہیم بن ادہم (۱۶۰/۷۷۷)، رابعہ بصریہ (۱۸۰/ ۷۹۶)، فضیل بن عیاض (۱۸۷/۸۰۳) شقیق بلخی (۱۹۴/ ۸۱۰) اور معروف کرخی (۲۰۰/۸۱۵) جیسی مثالی صوفی شخصیات متعارف ومشہورنظر آتے ہیں۔ اِس عہد میں اگرچہ باضابطہ تصوف پر مبنی تصانیف نہیں ملتیں لیکن اِس کی بالکلیہ نفی بھی نہیں کی جاسکتی۔
اِس پس منظرمیں یہ کہنا حق بجانب ہوگا کہ پہلی اور دوسری صدی میں قولی وعملی اور مجلسی و تربیتی تصوف تو بہرحال موجود تھا۔ البتہ! تیسری/نویں صدی میں علم تصوف میں تصنیف و تالیف کا باضابطہ آغاز ہو ا، اوراِس صدی سے تصوف بحیثیت فن مدون ہونے لگا۔ اس صدی میں فقہا ومتکلمین کے بالمقابل صوفیائے کرام نمایاں طور پرسامنے آئے، مثلاً حارث محاسبی (۲۴۳ھ)، ابوالحسین نوری بغوی (۲۹۵ھ) اور جنید بغدادی (۲۹۸/ ۹۱۰) جیسے اکابر اِس عہد میں پیدا ہوئے اور عملی اظہار کے ساتھ تصوف کو علمی اور فنی شناخت ملی۔ اِس عہد میں تصوف پر بے شمار کتابیں امتیازی شان کے ساتھ وجود میں آئیں، جن میں حارث محاسبی کی کتاب الرعایۃ، آداب النفوس، التوہم فی احوال الآخرۃ اوررسالۃ المسترشدین، ابوالحسین نوری کی مقامات القلوب اور جنید بغدادی کی مولفات قابل ذکر ہیں۔
حارث محاسبی کو تیسری صدی ہجری کا عظیم صوفی مصنف تسلیم کیا جاتا ہے۔ آپ کی تحریروں سے اندازہ ہوتا ہے کہ آپ سب سے زیادہ حسن بصری سے متأثر ہیں۔ بعض مورخین نے آپ کو امام ابوالحسن اشعری کا پیش رو اور سنی علم الکلام کے بانیان میں بھی شمار کیا ہے۔ (۸) حجۃ الاسلام امام محمد غزالی نے بھی یہ اعتراف کیا ہے کہ آپ ’’علم المعاملہ‘‘ میں ’’حِبر الامۃ‘‘ ہیں۔ (۹) لطف کی بات یہ ہےکہ ’’احیاءالعلوم‘‘ زیادہ ترابوطالب مکی کی ’’قوت القلوب‘‘ پر مبنی ہے۔ جب کہ ’’قوت القلوب‘‘ خود محاسبی کی ’’کتاب الرعایہ‘‘ اور’’المسائل فی اعمال القلب والجوارح‘‘ سے مستفاد ہے۔ (۱۰)
حضرت ذوالنون مصری (۲۴۵ھ) بھی محتاج تعارف نہیں۔ آپ، حارث محاسبی (۲۴۳ھ) کے معاصر ہیں۔ آپ نے ہی اوّلاً احوال و مقامات پر گفتگو کا آغاز کیا۔ (۱۱) باوجودیکہ آپ، تالیفات کے میدان میں امتیازی شان کے حامل نہیں لیکن تعمیر شخصیت میں نمایاں مقام رکھتے ہیں۔ آپ کا ایک مختصر رسالہ ’’صفۃ المومن والمومنۃ‘‘ مومن کی شخصیت سازی میں بڑی اہمیت کا حامل ہے۔ (۱۲) ابوالحسین نوری (۲۹۵ھ) اور جنید بغدادی (۲۹۷ھ) بھی آپ کے معاصر صوفی ہیں۔ شیخ جنید بغدادی آپ کا بے حد احترام کرتے تھے۔ جب آپ کا انتقال ہوا تو اُنھوں نے کہا کہ آج نصف علم فنا ہوگیا۔ (۱۳)
جنید بغدادی ایک ممتاز ومنفرد نام ہے، جنھیں ’’امام الطائفتین‘‘ (تصوف و جماعت ِفقہا کا امام) کہا جا تا ہے۔ جنید بغدادی نے واضح کیا کہ تصوف عین شریعت اورروح شریعت ہے۔ وہ پابند شریعت ہے، شریعت سے باہر کی کوئی چیز نہیں ہے۔ سلطان العارفین بایزید بسطامی (۲۶۱/ ۸۷۵) بھی اُسی صدی کے صوفی بزرگ ہیں، جن کے ہم مشرب صوفیائے کرام کے نعرہائے مستانہ اور بعض مستصوفہ کی گمراہیوں کے سبب تصوف یک گونہ مطعون ہوگیا تھا۔ لیکن شیخ جنید بغدادی نے اصل بنیادوں پر تصوف کی نشاۃ ثانیہ کی اوراعتدال کی نمایاں راہ نکالی۔
تیسری/نویں صدی میں لکھی جانے والی صوفیانہ اور غیر صوفیانہ تحریروں کی ایک جھلک دیکھ کریہ اندازہ لگانا کچھ مشکل نہیں کہ اس عہد میں صوفیائے کرام کے ہاں تصنیف وتالیف کا رواج وچلن بہت ہی زیادہ تھا۔ پہلی اور دوسری صدی کے صوفیوں اور زاہدوں نے اگر بالعموم تصنیف و تالیف سے فاصلہ بنائے رکھا، تو اُس کے برعکس تیسری صدی کے صوفیائے کرام بالخصوص صاحبانِ قرطاس وقلم نظر آتے ہیں۔ تیسری صدی میں اہل تصوف کے ہاں موضوعاتی تبدیلی بھی آئی اوراُن کے موضوعات کا دائرہ وسیع بھی ہوا۔ قلبی احوال ومقامات پر گفتگو شروع ہوئی۔ نفس کی پیچیدگیاں زیر بحث آئیں۔ فنا و بقا پرخامہ فرسائی کی گئی۔ مسلم معاشرہ کہیں نہ کہیں عجمی ماحول اور یونانی افکار سے متأثر ہوا۔ اِس عمومی ظاہرے سے اہل تصوف بھی باہر نہیں تھے ۔ ایسا ہونا نہ صرف اُن کے لیے ممکن نہیں تھا، بلکہ جائز بھی نہیں تھا۔ اسلام کی عمومی تعلیمات میں یہ بات شامل ہے کہ اہل زمانہ کو جانا جائے اور اُن کی نفسیات، لفظیات، طبائع اور ضرورتوں کو مد نظر رکھ کر گفتگو کی جائے اور اُس کی رعایت تاریخ اسلام میں سب سے زیادہ اہل تصوف ہی نے کی ہے۔
شیخ احمد بن عاصم انطاکی (۲۲۰ھ) تیسری صدی کے پہلے بزرگ ہیں جن کے بارے میں مورخین نے لکھا ہے کہ اُنھوں نے مراقبۂ ذات اور اِحتساب نفس کی بنیاد رکھی جس پر حارث محاسبی (۲۴۳ھ) نے اپنی تعمیر مکمل کی۔ (۱۴) بایزید بسطامی بھی اُس عہد کے نامور صوفی ہیں۔ آپ کے شیخ ابوعلی سندی تھے جو عربی سے ناواقف تھے۔ اُنھوں نے ہی حضرت بسطامی کو وحدت سری سے متعارف کرایا۔ بعض مورخین نے اُن کے تصوف کو ’’وحدۃ الوجود‘‘ سے جوڑا ہے۔(۱۵) اگرچہ اُن کی حیثیت بھی بطور مصنف مسلم نہیں ہے، تاہم اُن کے اقوال واِرشادات اورخصوصاً شطحات نے بعد کے صوفی ادب کو بے پناہ متأثر کیا۔
ابوسعید احمد بن عیسیٰ خراز(۲۷۹ھ) سے متعلق کہا جاتا ہے کہ تصوف میں فنا وبقا کی گفتگو اور اُس کی عقلی تعبیرات کا آغاز اُنھوں نے ہی کیا ۔اُن کے رسالہ کتاب السر سے بغداد میں کافی ہنگامہ ہوا، جس کے بعد اُنھیں بغداد چھوڑنا پڑا۔ وہاں سے بخارہ اور پھر قاہرہ پہنچے، جہاں ذوالنون مصری اور جنید بغدادی سے ملاقاتیں ہوئیں۔ (۱۶) سہل تستری (۲۸۳ھ) مشہورصوفی مفسرہیں۔ تیسری صدی میں تفسیر تستری سے صوفی ادب میں تفسیر اشاری کی ابتدا ہوتی ہے۔ اِس کے ساتھ ہی آپ زبردست متکلم بھی تھے۔ آپ کی متکلمانہ آرا کو آپ کے شاگرد ابوعبداللہ محمد بن سالم (۲۹۷/۹۰۹) نے مرتب کیا، جس سے ایک منفرد تصوف آمیز کلامی مسلک سالمیہ کی بنیاد پڑی۔ (۱۷) سید الطائفہ شیخ جنید بغدادی (۲۹۸/۹۱۰) تیسری صدی کے وہ نامور اور مقبول صوفی، فقیہ اور متکلم ہیں، جن کا تصوف ابن تیمیہ اور دیگر ناقدین تصوف کے نزدیک بھی معتبرومسلّم ہے۔ (۱۸) اِس کی وجہ جنید بغدادی کا وہ اسلوب بیان ہے جوکتاب و سنت سے مؤکد ومؤید ہے۔ شیخ سری سقطی، شیخ حارث محاسبی اورشیخ ابوجعفرقصاب آپ کے شیوخ میں آتے ہیں۔ فواد سزکین نے آپ کے اسلوب نگارش کو اِنتہائی پیچیدہ اور تجریدی بتایا ہے، جس کو بعد میں حلاج نے مزید صیقل کیا۔ (۱۹)
المختصر ہم دیکھتے ہیں کہ تیسری/نویں صدی میں تصوف پر باضابطہ کافی کچھ لکھا گیا۔ تفسیر وحدیث اور فقہ وکلام کی طرح تصوف کی فنیت وانفرادیت مسلّم ہوگئی۔ مزید یہ کہ اس عہد میں صوفی ادب اس زمانے کے کلامی، فلسفیانہ، یونانی، ہندی، تجریدی اور منطقی اثرات سے بھی متأثر ہوا۔ صوفیائے کرام کے ہاں سریت اور پُراَسراریت کے ساتھ شطحات کا وجود بھی سامنے آیا اور اُن پر بحثیں بھی ہوئیں۔ اُس عہد کے صوفی ادب میں توحید وجودی کے ابتدائی نقوش بھی سامنے آئے اور اُس سے آگے بڑھ کر بعض بے شریعت صوفی میں حلول و اتحاد اور اِلحاد ولادینی کے اثرات بھی پیدا ہوئے، جن کا علمی رد شیخ جنید بغدادی جیسے اصول پسند اکابر نے کیا۔ اسی عہد میں تفسیر اشاری کی ابتدا ہوتی ہے، جس کا نقش اوّل حضرت سہل تستری کی تفسیر القرآن ہے، یعنی یہ دور صوفی ادب کا زرخیز اور پُر بہار دور ہے۔
چوتھی/دسویں صدی میں تصوف میں نیا انقلاب آیا۔ یہ انقلاب ابوالمغیث حسین بن منصور الحلاج (۳۰۹/ ۹۲۲) کے تختۂ دار سے وابستہ ہے۔ منصورحلاج تاریخ تصوف میں وحدۃ الوجودی تصوف کے سب سے بڑے علم بردار ہیں، جن کا الحاد اورعرفان ہمیشہ موضوع بحث رہےگا۔ ابن ندیم نے حلاج کی تالیفات میں۴۶ ؍ کتابوں کے نام شمار کرائے ہیں(۲۰)، جن میں کتاب الطواسین بڑی اہمیت کی حامل ہے۔ منصورحلاج کی لفظیات سے اندازہ ہوتا ہے کہ تیسری صدی کے اواخر اور چوتھی صدی کے اوائل میں تصوف میں رمزیت، وجودیت، شطحیت اورغنوسیت (Gnosis) اپنے شباب پر پہنچ چکی ہے۔ شیخ جنید بغدادی کی دعوتِ کتاب و سنت اور منصورحلاج کی مصلوبیت اُسی بڑھتے ہوئے اِبہام کو روکنے کی کوشش تھی جس سے عوامی غلط فہمیوں اور گمراہیوں کے ساتھ حلول واتحاد اور اِلحاد ولا دینی کی راہیں کھل رہی تھیں۔
چوتھی صدی کے ربع اوّل (تقریباً۳۲۰/۹۳۲) میں وفات پانے والے ایک معروف صوفی حکیم ترمذی بھی ہیں، جن کی کتاب ’’ختم الولایت‘‘ تصوف کی تاریخ میں سنگ میل کی حیثیت رکھتی ہے۔ اِس کتاب پر بھی بڑا ہنگامہ ہوا۔ کہا گیا کہ حکیم ترمذی انبیا پراَولیا کی فضیلت کے قائل ہیں۔ اِس کی وجہ سے اُن کی تکفیر ہوئی اوراُنھیں شہر بدرہونا پڑا۔ جب کہ سلمی اور سبکی نے اس میں تاویل کی راہ نکالی ہے اور یہ کہا ہے کہ لوگ اُن کا مدعا سمجھ نہیں سکے۔ (۲۱) اُن کے علاوہ ابن عربی اور دیگراکابر اہل تصوف اُن کے مداح ہیں۔ ماسینیون کے مطابق: اُنھوں نے یونانی عرفان کی سنی صوفی تفسیر اور عبادات و فرائض کی عقلی تعبیر کی۔ (۲۲) دیگر تصنیفات میں نوادر الاصول فی احاديث الرسول، المنہیات، الفروق، غرس الموحدین، الرياضۃ وادب النفس، غور الامور، المناہی، شرح الصلاۃ، الصلاۃ ومقاصدہا، المسائل المکنونۃ، کتاب الاکياس والمغترین، بيان الفرق بين الصدر والقلب والفواد واللب، العقل والہویٰ اورالعلل اہم ہیں۔
چوتھی صدی میں تصوف میں ایک نئی شروعات صوفی تذکروں سے ہوتی ہے۔ اِس سلسلے میں اوّلین نام شیخ ابوسعید بن اعرابی (۳۴۰/۹۵۲) کا لیا جا سکتا ہے۔یہ غالباً پہلے صوفی ہیں جنھوں نے’’ طبقات النساک‘‘ کے نام سے اہل تصوف کا باضابطہ تذکرہ لکھا، جس سے بعد کی تاریخ میں ابونعیم اصفہانی نے ’’حلیۃ الاولیاء‘‘ میں اور ذہبی نے ’’تذکرۃ الحفاظ‘‘ میں استفادہ کیا۔ پہلے آپ کا شغف حدیث، فقہ اور تاریخ سے تھا، بعد اَزاںتصوف سے متعلق ہوا۔ انھوں نے شیخ جنید بغدادی اور شیخ ابوالحسین نوری کی صحبتیں اٹھائیں۔
صوفی تذکرے کی طرف میلان کا باعث، تاریخ اور حدیث سے اُن کا سابقہ تعلق رہا ہوگا۔ حدیث، فقہ، تاریخ اور تصوف میں بھی متعدد کتابیں اُن کی یادگارہیں۔ وہ ایک عظیم محدث اور طریق جنیدی کے حامل صوفی تھے۔ اُن کی تصنیفات میں المعجم، تاريخ البصرۃ، الاختصاص، الاخلاص ومعانی علم الباطن، العمر والشيب، معانی الزہد واقوال الناس فيہ وصفۃ الزاہدين، المواعظ والفوائد وغیرہ شامل ہیں۔ (۲۳)
ایک دوسرے صوفی ابومحمد جعفر خلدی (۳۴۸/ ۹۶۹) نےتذکرہ اہل تصوف پر مشتمل ’’حکایات المشائخ‘‘ لکھی، جس کے اقتباسات ابونصر سراج کی کتاب ’’مصارع العشاق‘‘ میں ہیں۔ زہد و تصوف پر بھی اُن کی دو کتابیں موجود ہیں۔ اسی عہد میں ایک یمنی بزرگ ابوعبداللہ بن منیک ہیں جن کی طرف ’’اخبار‘‘ نامی کتاب منسوب ہے، جس میں صوفیوں کے اقوال و عبارات جمع ہیں۔ (۲۴)
ابوعبدالرحمٰن سلمی اور حاکم نیشاپوری کے شیخ ابوالعباس محمد بن الخشاب مخرمی (۳۶۱/ ۹۷۱) بھی اِسی چوتھے عہد سے تعلق رکھتے ہیں۔ تصوف پر ایک کتاب ’’حکایات‘‘ اُن سے بھی منسوب ہے، جس کے اقتباسات سلمی کی طبقات الصوفیہ میں موجود ہیں۔ (۲۵) ایک دوسرے صوفی ابوالفرج عبدالواحد بن بکر ورثانی (۳۷۲/ ۹۸۲) ہیں، جن کی کتاب ’’طبقات الصوفیہ‘‘ کا ذکر ملتا ہے۔ سلمی نے اپنی کتاب ’’طبقات صوفیہ‘‘ میں اُن سے بہت زیادہ استفادہ کیا ہے۔ ابونعیم اصفہانی اورامام قشیری کے ہاں بھی اس کتاب کے اقتباسات موجود ہیں۔ (۲۶) سلمی کے بعد ایک اورصوفی تذکرہ نگار اُستاذ ابوبکربن شاذان رازی (۳۷۶/۹۸۶) ہیں، جن کی کتاب ’’الحکایات الصوفیہ‘‘ سے سلمی نے خوب استفادہ کیا۔ (۲۷) گویا چوتھی صدی میں اہل تصوف کے تذکرے لکھنے- پڑھنے کا عام رواج ہوگیا تھا اور یہ فطری امر تھا کہ اس وقت تک اسلام اور تصوف پر تین صدیاں گزرچکی تھیں۔ اصول و فروع پر کافی بحثیں ہوچکی تھیں۔ علوم اسلامی اپنے کمال کو پہنچ چکے تھے۔ خارجی اثرات کی تاثیروتأثر کا عمل پورا ہوچکا تھا۔ چناں چہ مسلمانوں کے اندرقرون اولیٰ کے زاہدین وعارفین کے احوال سے باخبرہونے کا اشتیاق پیدا ہونا عین متوقع تھا۔
چوتھی/دسویں صدی ہی میں شیخ ابونصر سراج (۳۷۸/۹۸۸) کی کتاب اللمع ملتی ہے جواپنی نوعیت کی منفرد، معروف و مقبول اور تاریخی اہمیت کی حامل ہے۔منقول ہے کہ تصوف پر یہ پہلی جامع اور مکمل کتاب ہے، جوتصوف کو بطورایک علم کے پیش کرتی ہے اوراُس کے مختلف پہلوؤں سے بحث کرتی ہے۔ توحید ومعرفت، احوال ومقامات، تفسیرباطنی اوراُس کے آداب، مقام نبوت، عرفان صحابہ، آداب تصوف، ارشادات و مکتوبات مشائخ، صوفی شاعری، مراقبہ و مشاہدہ، صوفیانہ وصایا، سماع، وجد، کرامت، ہر طرح کے مباحث تصوف کا پہلی بار جامعیت کے ساتھ احاطہ کیا گیا ہے۔ اس میں کتاب و سنت سے اہل تصوف کے منہج استنباط کو پہلی بار بیان کیا گیا ہے۔ اس میں پہلی باراہل تصوف کی لفظیات سے بحث کی گئی ہے اور مصطلحات تصوف کی وضاحت کی گئی ہے۔ اسی طرح مصنف نے بسطامی کی شطحات کی جنیدی تشریحات سے استفادہ کرتے ہوئے صوفیوں کےشطحات پرعلمی گفتگو اوراُن کی تاویل بڑی تفصیل و تحقیق سے کی ہے۔ نیز ابن الاعرابی کی کتاب الوجد کے مباحث کو آگے بڑھایا ہے۔ عقائد اہل تصوف کی وضاحت اور اُس تعلق سے غلط فہمیوں کا ازالہ بھی سلیقے سے کیا گیا ہے۔ تاہم اُنھوں نے اس کتاب میں یونانی اورعجمی افکارومناہج سے اعراض کرتے ہوئے اصولی طور پر منہج جنیدی کی پیروی کی ہے اور ہر بات کو کتاب وسنت کی کسوٹی پر رکھا ہے اور شریعت سے منحرف مستصوفین کی خوب خبرلی ہے۔
چوتھی/دسویں صدی ہی میں ایک اور مایۂ ناز کتاب ’’ قوت القلوب‘‘ معرض وجود میں آئی۔ اس کے مصنف ابوطالب مکی (۳۸۶/۹۹۶) ہیں۔ یہ کتاب اللمع سے بھی زیادہ حسن ترتیب و تجزیہ کی حامل ہے۔ (۲۸) اِس کی دوسری خوبی یہ بھی ہے کہ تصوف کو زندگی بخشنے والی تاریخ تصوف کی سب سے معرکہ آرا کتاب احیاء العلوم بنیادی اعتبار سے اسی پر مبنی ہے۔ اس کی مقبولیت و محبوبیت کا یہ عالم ہے کہ آنے والی صدیوں میں محمد بن خلف بن سعید اندلسی (۴۸۵/۱۰۹۲)، درویش عبدالکریم بن علی (دسویں صدی عیسوی) اورحسین بن معن (۸۷۰/۱۴۶۶) نے مختلف ناموں سے اس کی تلخیص کی۔ (۲۹)
چوتھی/دسویں صدی کی آخری اورسب سے بڑی کتاب ’’التعرف لمذہب اہل التصوف‘‘ ہے، جو تاج الاسلام ابوبکر کلاباذی (۳۸۰/۹۹۰) کی ہے۔ یہ اپنے طرز کی پہلی اورمنفرد کتاب ہے۔ آربری ( J. Arberry) نے اس کا انگریزی ترجمہ کیا، جو۱۹۳۶ء میں کیمبرج سے شائع ہوچکی ہے۔ جب کہ ڈاکٹر عبدالحلیم محمود اور طہ عبدالباقی نے اس کی تحقیق کرکے قاہرہ سے ۱۹۶۰ء میں شائع کیا۔ بعد کے زمانے میں اہل تصوف نے اس کی متعدد شروحات لکھیں، جن میں اسمٰعیل بن محمد مستملی (۴۳۴/ ۱۰۴۳) کی نورالمریدین وفضیحۃ المدعین، اور علی بن اسمٰعیل قونوی (۷۲۷/۱۳۲۶) کی حسن التصرف فی شرح التعرف اہم ہیں۔ شیخ کی دیگر تصنیفات میں معانی الآثار/معانی الاخبار/ بحر الفوائد المسمیٰ بمعانی الاخبار کے مختلف مخطوطے بھی موجود ہیں۔(۳۰)
چوتھی/دسویں صدی کے چند اہم صوفی مصنفین اور اُن کی کتابیںیہ ہیں:
۱۔ابوبکر محمد بن داؤد پارسا (۳۴۲ھ)/اخبار الصوفیہ
۲۔ ابو حاتم محمد بن حبان تمیمی الدارمی بستی (۳۵۴ھ) /روضۃ العقلاء ونزہۃ الفضلاء
۳۔ ابو بکر محمد بن حسين بن عبد الله آجُری بغدادی(۳۶۰ھ) /اخلاق العلماء
۴۔ابو اللیث نصر بن محمد سمرقندی (۳۷۳) /تنبیہ الغافلین، بستان العارفین
۵۔ ابوالعباس احمد بن محمد نسوی صوفی (۳۹۶ھ) / طبقات الصوفیہ
چوتھی/دسویں صدی کی اہم کتب تصوف کے اجمالی تعارف و تجزیے سے یہ اندازہ ہوتا ہے کہ تیسری صدی میں خارجی اثرات کے سبب تصوف میں جو حد سے زیادہ رمزیت، شطحیت اور اِبہامیت پیدا ہوگئی تھی اور جس کے سبب ایک طرف باطنیت اور اِنحرافات کا دروازہ کھل رہا تھا اور دوسری طرف تکفیرمشائخ کا ماحول بنایا جارہاتھا، تویہ روش تیسری صدی کے اواخر میں شیخ جنید بغدادی کی دعوت کتاب وسنت اور تاویل اقوال و شطحات اور چوتھی صدی کے اوائل میں منصور حلاج کی مصلوبیت سے تقریباً رک سی گئی۔
اہل تصوف کا دوسرا عہد پانچویں/گیارہویں صدی سے شروع ہوتا ہے۔ اس صدی کے آغاز میں وفات یافتہ اہل تصوف میں عبدالملک خرکوشی (۴۰۷/۱۰۱۶) اورابوعبدالرحمٰن سلمی(۴۱۲/۱۰۲۱)بطور خاص قابل ذکر ہیں۔ خرکوشی اپنے رنگ کے منفرد صوفی تھے۔ اُن کا تعلق نیشاپور سے تھااور اُن کا شمار شافعی فقہا میں ہوتاہے۔ اہل تصوف کے حوالے سے’’ تہذیب الاسرار‘‘ اور’’ سیرالعباد والزہاد‘‘ لکھی۔ ’’کتاب البشارۃ والنذور‘‘ اور ’’شرف المصطفیٰ‘‘ بھی اُن کی یادگار ہیں۔(۳۱) علامہ خرکوشی بھی اہل تصوف کی اُسی روش سے متأثر نظر آتے ہیں جس کی ابتداگزشتہ صدی میں ہوئی تھی۔سلسلہ تصوف میں علامہ سلمی خراسانی بھی ایک بڑا نام ہے۔اُنھوںنے ایک طرف ’’تذکرۂ اہل تصوف‘‘ کو کمال بخشا تو دوسری طرف ’’تفسیر صوفی‘‘ کی بنیاد ڈالی۔ اُن سے پہلے ’’تفسیر تستری‘‘ کا ذکر ملتا ہے، جس کے مولف حضرت سہل تستری (۲۸۳/۸۹۶) ہیں جوتیسری صدی ہجری سے تعلق رکھتےہیں، مگر محققین کا خیال ہے کہ یہ کوئی باضابطہ تصنیف نہیں ہے، بلکہ مختلف آیات قرآنیہ سے متعلق حضرت سہل تستری کے اقوال کا مجموعہ ہے جسے ابو بکر محمد بن احمد البلدی نے جمع کیا ہے۔ (۳۲)اِس طرح خراسانی سلمی کو تصوف کا پہلا مفسر کہاجاسکتا ہے۔
اس عہد کے دوسرے ممتاز صوفی مورخ ومحدث مولف ابونعیم اصفہانی (۴۳۰/ ۱۰۳۸) ہیں، جن کی صوفیانہ ، مورخانہ اور محدثانہ عظمت مسلّم ہے۔ ابن خلکان نے اُن کا شمار اَکابرثقہ حفاظ ِمحدثین میں کیا ہےاور ’’حلیۃ الاولیاء‘‘ کو بہترین تصنیف قرار دیا ہے۔ یہ دس جلدوں پر مشتمل ہے اور عہد بہ عہد زاہدین و متصوفین کی تاریخ و تذکرہ کے ساتھ اُن کے اقوال اور مرویات کا مجموعہ ہے۔سبب تالیف سےمتعلق مولف لکھتے ہیں کہ ہمارا مقصداہل تصوف کی عظمت کی حفاظت اور اُن کے لباس میں چھپے مستصوفہ وملاحدہ کی باطل پرستی کا اظہار ہے۔ (۳۳)
پانچویں/گیارہویں صدی کےاہل تصوف کی تاریخ نامکمل رہے گی اگر شیخ علی ہجویری (۴۶۵/۱۰۷۳) کی تصنیف ’’کشف المحجوب‘‘ اوراُن کے استاذ امام ابوالقاسم قشیری (۴۶۵ھ/۱۰۷۴ء) کے ’’رسالہ قشیریہ‘‘ کا تذکرہ نہ ہو۔ تصوف کی اگر دس اہم کتابوں کی فہرست تیار کی جائے تو اُس میں یہ دونوں کتابیں نمایاں مقام کی حامل ہوں گی۔ ’’رسالہ قشیریہ‘‘ کے مولف امام ابوالقاسم قشیری ہیں، جن کو علامہ تاج الدین سبکی نے زینت اسلام، امام مطلق، بلند اقبال، نجم ثاقب، امام المسلمین، مقتدائے ملت، امام الائمہ، رہ نمائے سنت، شیخ المشائخ، استاذ جماعت، پیشوائے اہل تصوف اور جامع العلوم جیسے الفاظ والقاب سے یاد کیا ہے۔ (۳۴)
امام قشیری، صاحبِ طبقات الصوفیہ ابوعبدالرحمٰن سلمی کے تلامذہ میں آتے ہیں اوراُن کا شمار تصوف کے بڑے مصنفین میں ہوتا ہے۔ شاہ عبدالعزیز صاحب نے اُن کی مؤلفات میں ’’رسالہ قشیریہ‘‘ کے علاوہ اِن کتابوں کا بھی ذکر کیا ہے، مثلاً:۱۔ تفسیر قرآن، ۲۔ نحوالقلوب، ۳۔ لطائف الاشارات، ۴۔ کتاب الجواہر، ۵۔ کتاب احکام السماع، ۶۔ کتاب آداب الصوفیہ، ۷۔ کتاب عیون الاجوبہ، ۸۔ کتاب المناجات اور ۹۔ کتاب المنتہیٰ۔ (۳۵)
امام قشیری نے اِحیائے تصوف کے لیے قلم اٹھایا، تاکہ تصوف پر جو دَبیز پردے پڑچکے ہیں اُن کو اُٹھایا جائے اور تصوف کے روشن چہرے کی رونمائی ہو۔بقول شبلی نعمانی: امام غزالی سے پہلے تصوف میں سب سے زیادہ جامع اورعلمی پیرایے میں جو کتاب لکھی گئی تھی، وہ امام قشیری کا رسالہ تھا۔ (۳۶)
شیخ علی بن عثمان ہجویری نے بھی امام قشیری کے طرزپر روئےتصوف سے حجابات کو اُٹھانا ضروری سمجھا اور ’’کشف المحجوب‘‘ لکھا۔ داراشکوہ کے بقول: فارسی ادبیاتِ تصوف میں کوئی کتاب ’’کشف المحجوب‘‘ کا ہم پلہ نہیں لکھی گئی۔ (۳۷) خواجہ نظام الدین اولیا فرماتے ہیں: جس کا کوئی مرشد نہ ہو، وہ کشف المحجوب کا مطالعہ کرے مرشد کو پالےگا، میں نے خود بھی اس کا بہ تمام و کمال مطالعہ کیا ہے۔ (۳۸)
شیخ علی ہجویری نے ’’کشف المحجوب‘‘ کے علاوہ بھی متعدد کتابیں لکھی ہیں، جن کا ذکر خود اُسی کتاب میں موجود ہے، مگر وہ کتابیں آج کل ناپید ہیں۔ البتہ! صرف اِسی ایک کتاب سے اُن کی عظمت شان اور جلالت تصنیف وتالیف صاف ظاہروباہرہے۔ مولانا عبدالماجد دریابادی ’’کشف المحجوب‘‘ اور ’’رسالہ قشیریہ‘‘ کا ذکر کرتے ہوئے رقم طراز ہیں: کشف المحجوب تصوف کی قدیم ترین کتابوں میں ہے اور فارسی زبان میں تو اُس سے قدیم تر کسی کتاب تصوف کا راقم سطور کو علم نہیں۔ مصنف رحمۃ اللہ علیہ اُس میں اپنی متعدد ابتدائی کتابوں اور اپنی سکونت لاہور کا ذکر کرتے ہیں، جس سے معلوم ہوتا ہے کہ اس کتاب کی تصنیف آخری عمر (پانچویں صدی کے وسط) میں فرمائی ہے۔ …مخدوم ہجویری ایک محققانہ ومجتہدانہ انداز سے اپنے ذاتی تجربات، واردات، مکاشفات و مجاہدات وغیرہ کوبھی قلم بند کرتے جاتے ہیں اور مباحث سلوک پر رد وقدح کرنے میں بھی تامل نہیں کرتے۔ اُن کی کتاب کی حیثیت محض ایک مجموعۂ حکایات وروایات کی نہیں، بلکہ ایک مستند محققانہ تصنیف کی ہے۔ (۳۹)
پانچویں صدی ہی میں پیر ہرات شیخ الاسلام عبداللہ انصاری (۴۸۱/۱۰۸۹) ہیں جو ایک ممتاز صوفی، محدث، مورخ، زاہد اور مصلح ہیں۔ متعدد کتابیں یاد گارچھوڑی ہیں، جن میں ’’منازل السائرین‘‘ خصوصی اہمیت کی حامل ہے۔ علامہ ابن قیم جوزی نے اُس کی مفصل شرح ’’مدارج السالکین‘‘ کے نام سے لکھی۔’’ منازل السائرین‘‘ کے علاوہ دیگر کتابوں میں علم کلام کے رد میں ذم الکلام واہلہ، صفات باری میں الفاروق، کتاب الاربعین فی التوحید، کتاب الاربعین فی السنۃ اور سیرۃ الامام احمدبن حنبل بہت مشہورہیں۔ (۴۰)
منقول ہے کہ شیخ انصاری نے سلمی خراسانی کی طبقات الصوفیہ کا قدیم ہراتی زبان میں ترجمہ بھی کیا تھا، جس کا نام امالی/طبقات الصوفیہ رکھا۔ اُسی کا اضافی ایڈیشن علامہ جامی (۱۴۹۲ء) نے ’’نفحات الانس‘‘ کے نام سے تیار کیا۔ اس تعلق سے یہ بھی کہا جاتا ہے کہ یہ فارسی زبان میں پیرہرات کا ملفوظ ہے۔(۴۱) علاوہ ازیں اِس عہدِ تصوف میں ابوسعد احمد بن محمد انصاری مالینی (۴۱۲/۱۰۲۲) کی کتاب الاربعین فی شیوخ الصوفیہ، ابن سينا (۱۰۳۷/ ۴۲۸ ) کی کتاب الاشارات فی فصول التصوف (۴۲) اوراسمٰعيل بن محمد بخاری معروف بہ مستملی (۴۳۴ھ) کی فارسی زبان میں شرح التعرف لمذہب اہل التصوف (۴۳) خاصی اہمیت کے حامل ہیں۔
تاریخ تصوف ہی میں نہیں، بلکہ علوم اسلامیہ میں بھی پانچویں/گیارہویں صدی کی عظیم ترین شخصیت، حجۃ الاسلام امام محمد غزالی (۵۰۵/ ۱۱۱۱) کی ہے۔ یہی وہ عبقری شخصیت ہے جس کی کتاب ’’احیاء العلوم‘‘ اہل تصوف کا منشور بنی۔ تاریخ تصوف کا یہی وہ سنگ میل ہے، جو ماضی و حال دو حصوں میں منقسم ہوتے ہیں اور صحیح معنوں میں اُسی سے تصوف کےعہد ثانی کا آغازہوتا ہے۔
اخلاقیات پر اَب تک کا جو بھی لٹریچر تھا وہ یا تو فلسفیانہ تھا ، جو اہل مذہب کے فہم و ذوق سے پرے تھا، یا خالص مذہبی رنگ میں تھا، جوفلسفیانہ اورعقلیت پسند اَذہان کو متأثر کرنے سے قاصر تھا۔ پہلی صف میں فارابی کی آراء ’’المدینۃ الفاضلہ‘‘، ابن سینا کی کتاب ’’البروالاثم ‘‘ اور ابن مسکویہ کی کتاب ’’تہذیب الاخلاق‘‘ کو رکھا جا سکتا ہے، جب کہ دوسری صف میں حضرت حارث محاسبی کی کتاب ’’الرعایۃ لحقوق اللہ‘‘، ابوطالب مکی کی کتاب ’’قوۃ القلوب‘‘ اور راغب اصفہانی کی کتاب ’’الذریعۃ الیٰ مکارم الشریعۃ‘‘ کو۔
احیاء العلوم کی سب سے بڑی خصوصیت یہ ہے کہ یہ دونوں اسالیب کی جامع ہے، جس کا نتیجہ یہ ہے کہ بقول علامہ شبلی نعمانی: احیاء العلوم میں یہ خاص کرامت ہے کہ جس مضمون کو اَدا کیا گیا ہے، باوجودِ سہل پسندی، عام فہمی اور دل آویزی کے فلسفہ و حکمت کے معیار سے کہیں بھی اُترنے نہیں پایا ہے۔ یہی بات ہے کہ امام رازی سے لے کر ہمارے زمانے کے سطحی واعظ تک اُس سے یکساں لطف اٹھاتے ہیں اور اِستفادہ کرتے ہیں۔(۴۴) غزالی کی متصوفانہ کتابوں میں ’’احیاء العلوم‘‘ کے علاوہ یہ کتابیں بھی قابل ذکرہیں، مثلاً: ۱۔ کیمیائے سعادت، ۲۔ المقصد الاقصیٰ، ۳۔ اخلاق الابرار، ۴۔ جواہر القرآن، ۵۔ جواہر القدس فی حقیقۃ النفس، ۶۔ مشکاۃ الانوار، ۷۔ منہاج العابدین، ۸۔ معراج السالکین، ۹۔ نصیحۃ الملوک،۱۰۔ ایہا الولد،۱۱۔ بدایۃ الہدایۃ، ۱۲۔ مشکاۃ الانوار فی لطائف الاخیار وغیرہ۔
چھٹی/بارہویں صدی کے معروف داعی و مصلح اورمرشد و رہبر شیخ عبدالقادر جیلانی ہیں، جو پانچویں صدی کی نصف ۴۷۰/۱۰۷۸ میں پیدا ہوئے اور ۵۶۱/۱۱۶۶ میں تقریباً نوے (۹۰) سال کی عمر میں اپنے مالک حقیقی سے جا ملے۔ شیخ عبدالقادر جیلانی، امام غزالی سے تقریباً ۲۰ سال چھوٹے ہیں۔ بقول مورخین: تاریخ کا یہ حسن اتفاق دیکھیے کہ جب امام غزالی ۴۸۸ھ میں ۳۸ سال کی عمرمیں تلاش حق میں بغداد چھوڑ رہے تھے، اُسی سال شیخ جیلانی ۱۸؍ سال کی عمر میں تلاش علم کے لیے بغداد میں داخل ہورہے ہیں۔ (۴۵)
اصلاحات کے باب میں اگر امام غزالی کی حیثیت تھیوری کی ہے، تو شیخ جیلانی کی پریکٹیکل کی۔ تاریخ تصوف میں اول الذکر اگرعملی تصوف کا تاج دار ہے تو ثانی الذکر تربیتی تصوف کا سلطان۔ ایک طرف امام غزالی نے عملی اصلاح کے میدان میں بڑا کارنامہ انجام دیا تو دوسری طرف شیخ جیلانی نے بھی متعدد اصلاحی کتابیں بطوریادگارچھوڑی ہیں، جن میں غنیۃ الطالبین، الفتح الربانی، فتوح الغیب اورالفیوضات الربانیہ کافی معروف و مشہورہیں۔
تاریخ تصوف میں بعض کتابیں ایسی بھی لکھی گئیں، جن کی حیثیت، متن کے اعتبار سے بلند ترہے، اُن میں شیخ عبدالقاہر ابو نجیب سہر وردی(۵۶۳/۱۱۶۸)کی کتاب ’’آداب المریدین‘‘ سرفہرست ہے۔ شیخ ابو نجیب سہروردی ہی کے بھتیجے اور تلمیذ شیخ شہاب الدین سہروردی (۶۳۲/۱۲۳۴) ہیں، جن کی کتاب ’’عوارف المعارف‘‘ آداب المریدین کی شرح وتفصیل اوربعد کے اہل تصوف کے لیے دستورالعمل کی حیثیت رکھتی ہے۔ یہ کتاب ہندوستانی ادبیات تصوف پر بہت اثر انداز رہی ہے۔ بابا فرید ، جو ہندوستان میں چشتیت کے ارکان اربعہ میں شامل ہیں، یہ کتاب اُن کے نصاب ِتصوف کا حصہ تھی۔ اپنے ممتاز مرید و خلیفہ شیخ نظام الدین اولیا اور دوسرے خلفا کو اُسے پڑھایا بھی ہے۔ چناں چہ بعد کی تصنیفات تصوف میں اس کے کثرت سے حوالے ملتے ہیں۔ اگرہم یہ کہیں تو شاید حق بجانب ہوگا کہ’’ آداب المریدین‘‘ چھٹی صدی کی اور’’عوارف المعارف‘‘ ساتویں صدی کی تصوف کے باب میں سب سے بڑی کتابیں ہیں۔
بلاشبہ فلسفی اور رَمزی تصوف نے تصوف کے عہد اوّل میں حسین بن منصور الحلاج (۳۰۹/ ۹۲۲) کو دار ورسن تک پہنچا دیا، تو شیخ بسطامی (۲۶۱/ ۸۷۵) اور امام ترمذی (تقریباً۳۲۰/۹۳۲) جیسے کتنوں کو تکفیر کے گھاٹ اُتار دیا، جس کے بعد یہ سلسلہ ایک طرح سے رک سا گیا۔ لیکن حقیقت یہ ہے کہ یہ چنگاری کبھی بجھی نہیں۔کیوںکہ ساتویں /تیرہویں صدی میں شیخ ابن عربی (۶۳۸/ ۱۲۴۰) نے ’’فصوص الحکم‘‘ اور ’’فتوحات مکیہ‘‘ جیسی تصنیفات کے ذریعے اِس چنگاری کو شعلہ جوالہ بنا دیا ، جس کے نتیجے میں کہیں امام المکاشفین کے لقب سے سرفراز ہوئے، تو کہیں امام الملحدین جیسے کلمات سے نوازے گئے۔ لیکن اس میں کوئی شک نہیں کہ ابن عربی کی تصنیفات نے تصوف کو رَمزیت، معرفت اور جدال کے نئے دور میں داخل کردیا۔ نظریۂ وحدۃ الوجود، شیخ کی طرف منسوب ہوا اور اِس نظریے کے سبب وہ انتہائی ممدوح اور اِنتہائی مذموم بھی ٹھہرے۔
گویا شیخ ابن عربی تاریخ تصوف میں وہ اہم موڑ کی حیثیت رکھتے ہیں، جن کے بعد نمایاں طورپر دو راہیں نکلیں: ایک حمایت تصوف والی اور دوسری مخالفت تصوف والی۔ یا دوسرے لفظوں میں یہ کہا جائے کہ ایک وہ طبقہ جس نے جنید و بایزید اورجیلانی وابن عربی سمیت تصوف کو ایک کل کی شکل میں قبول کیا،جب کہ دوسرے نے تصوف کو دو حصوں میں تقسیم کردیا:(۱) اسلامی تصوف، جس کا سرا جنید بغدادی اور شیخ جیلانی پر ختم ہوجاتاہے اور(۲)غیر اِسلامی تصوف، جس میں بسطامی اور ابن عربی جیسے مستانوں کی ضربیں، فلسفات اور شطحات ہیں۔
اِس درمیان چند اِشاری تفسیریں بھی سامنے آئیں، اِس ضمن میں عہد اوّل میں پہلا نام حضرت سہل تستری (۲۸۳/۸۹۶) کی تفسیر تستری اور دوسرا نام ابوعبدالرحمٰن سلمی (۴۱۲/ ۱۰۲۱) کی حقایق التفسیر(تفسیرسلمی) ہے۔ عہد ثانی کی اہم تفسیرات اشاری میں شیخ روزبہان بقلی (۶۰۶/ ۱۲۰۹) کی تفسیر ’’عرائس البیان‘‘ بھی بڑی اہمیت کی حامل ہے۔ یہ ایک مقبول ترین تفسیر اشاری ہے۔ اس کے اندر مصنف نے تفسیر ظاہری سے بالکلیہ اعراض کیا ہے۔ اس عہد کی دیگر تفاسیر میں شیخ نجم الدین دایہ (۶۵۴/ ۱۲۵۶) اور شیخ علاءالدولہ سمنانی (۷۳۶/ ۱۳۳۶) کی مشترک اور وقیع تفسیر ’’التاویلات النجمیہ‘‘ بھی بہت ہی اہم ہے۔ یہ پانچ ضخیم جلدوں میں ہے، جن میں چارجلدیں شیخ نجم الدین دایہ کی ہیں، جو سورۂ ذاریات کی آیت نمبر ۱۸؍ پر ختم ہوجاتی ہیں، جب کہ پانچویں اورآخری جلد شیخ علاء الدولہ سمنانی کی ہے۔ اِس عہد کی تیسری تفسیر اشاری شیخ ابن عربی (۶۳۸/ ۱۲۴۰) کی ہے، جس کا انتساب التفسیر والمفسرون کے مولف کے مطابق حتمی نہیں ہے۔ (۴۶)
غرض یہ کہ تاریخ تصوف کا عہد ثانی، اخلاقی وتربیتی جہت سے شیخ سہروردی (۶۳۲/ ۱۲۳۴) کی عوارف المعارف، فلسفی جہت سے شیخ ابن عربی (۶۳۸/ ۱۲۴۰) کی فتوحات و فصوص، اور تفسیری جہت سے عرائس البیان اور التاویلات النجمیہ پر مکمل ہوجاتا ہے۔
ساتویں/تیرہویں صدی میں قاضی حمید الدین ناگوری کی تصنیف ’’طوالع الشموس‘‘ اور’’العشقیہ‘‘، بابا صاحب کے خلیفہ شیخ جمال الدین ہانسوی کی ’’الملہمات‘‘، سلوک و طریقت کے باب میں صوفی حمید الدین سوالی کی ’’اصول الطریقۃ‘‘، شرح و تعلیق کے ضمن میں ’’عوارف‘‘ پر بابا صاحب کی تعلیقات، مکتوبات کے ذیل میں صوفی حمید الدین سوالی کے مکاتیب اور ملفوظاتی ادب میں خواجہ عثمان ہارونی کا ملفوظ ’’انیس العارفین‘‘ مرتبہ خواجہ صاحب، خواجہ صاحب کا ملفوظ ’’دلیل العارفین‘‘ مرتبہ حضرت قطب صاحب، صوفی حمید الدین سوالی کا ملفوظ’’ سر الصدور‘‘ مرتبہ فرید بن عبد العزیز سوالی، بابا صاحب کا ملفوظ ’’اسرار الاولیاء‘‘مرتبہ شیخ بدر الدین اسحاق اور شیخ صدرالدین ملتانی (۶۸۴/۱۲۸۶) کا ملفوظ ’’کنوزالفوائد‘‘ مرتبہ خواجہ ضیاء الدین اہمیت کے حامل ہیں۔
آٹھویں/چودہویں صدی میں عرفان وحقائق کے ذیل میں شیخ محمد نظام الدین بہرائچی (۷۷۲ھ/ ۱۳۷۰ء) کی تصنیف المحجوب فی عشق المطلوب اور شیخ علی جاندار دہلوی کی خلاصۃ اللطائف، سلوک و تربیت میں شیخ ضیاء الدین بدایونی (۷۵۱/ ۱۳۵۱) کی سلک السلوک اور چہل نامہ، حضرت شمس الدین یحیٰ (ف:۷۴۷ھ/۱۳۴۶ء) کی شمس المعارف اورشیخ رکن الدین کاشانی کی شمائل الاتقیاء، شروحات میں سید علی بن شہاب ہمدانی (۷۸۶/۱۳۸۴)، شیخ ابوالحسن شرف الدین دہلوی (۷۹۵/۱۳۹۳) اور شیخ شمس الدین بن شرف دہلوی (۷۹۷/۱۳۹۵) کی شروح فصوص الحکم، شیخ شرف الدین یحیٰ منیری (۷۵۶ھ/ ۱۳۵۵ء) کی شرح الرسالۃ المکیہ اور شرح آداب المریدین، مکتوبات کے ذیل میں بوعلی شاہ قلندر (۷۲۴/ ۱۳۲۴) ،حکیم صدر الدین دہلوی(عہد خلجی) اور شیخ شرف الدین یحیٰ منیری، اور ملفوظات کے ذیل میں حضرت سلطان جی (۷۲۵ھ/ ۱۳۲۵ء) کے ملفوظات فوائد الفواد، افضل الفوائد، تحفۃ الابرار وکرامۃ الاخیار، مجموع الفوائد، انوار المجالس جن کی ترتیب علی الترتیب شیخ حسن علا سجزی، امیر خسرو، عزالدین دہلوی، عبدالعزیز دہلوی اورمحمد ابن اسحاق دہلوی نے کی ہے، نیز حضرت برہان الدین غریب (۷۳۸ھ/ ۱۳۳۸ء) کے ملفوظات نفائس الانفاس، احسن الاقوال، غریب الکرامات، بقیۃ الغرائب اور اخبار الاخیار، جن کی ترتیب بالترتیب شیخ رکن الدین کاشانی، شیخ حماد الدین کاشانی، شیخ محمد بن عماد الدین کاشانی، شیخ مجد الدین کاشانی اور شیخ حمید الدین قلندر نے کی ہے۔ (۷۸) حضرت خواجہ نصیر الدین چراغ دہلی (۷۵۷/ ۱۳۲۶) کی خیرالمجالس اور صحائف السلوک، شیخ شرف الدین یحیٰ منیری (۷۵۶ھ/ ۱۳۵۵ء) کی معد المعانی، فوائد رکنی، لطائف المعانی، منح المعانی، خوان پر نعمت اور زاد الفقیر، اور سید جلال الدین شاہ بخاری (۷۸۵ھ/ ۱۳۸۳ء) کی خزینۃ الفوائد الجلالیہ مرتبہ شیخ احمد بن یعقوب اور جامع العلوم مرتبہ شیخ علاؤالدین دہلوی اہم ہیں۔
ساتویں اور آٹھویں صدی ہجری میں خواجہ نظام الدین اولیا کا ملفوظ ’’فوائد الفواد‘‘ اور اُن کےاور شیوخ و خلفا کے احوال پر مشتمل کتاب ’’سیر الاولیاء‘‘ بڑی اہمیت کی حامل ہیں۔ فوائد الفواد کو برصغیرہندوپاک میں تصوف کا سنگ میل سمجھا جاتا ہے۔ اسی طرح خواجہ نصیر الدین محمود چراغ دہلی کے ملفوظات ’’خیرالمجالس‘‘ اور’’صحائف السلوک‘‘ بھی بہت ہی اہم ہیں۔ آٹھویں صدی کےصاحب تصنیف مشائخ میں حضرت شرف الدین یحیٰ منیری اور حضرت جلال الدین بخاری امتیازی حیثیت کے مالک ہیں، بلکہ صحیح معنوں میں انہی حضرات سے ہند وپاک میں علمی تصوف کی تاریخ شروع ہوتی ہے۔ اُن کے قلم سیال نے علم تصوف کو غیر معمولی عروج بخشا۔ تصنیف و تالیف، شرح و بیان اور مکتوب و ملفوظ کا ایک نہ ختم ہونے والاسلسلہ چل نکلا۔ نویں/پندرہویں صدی پراُس کے مثبت اثرات مرتب ہوئے، جسے صحیح معنوں میں علم تصوف کا عہد عروج کہا جاسکتا ہے۔
نویں/پندرہویں صدی میں مخدوم اشرف کچھوچھوی (۸۰۸ھ/۱۴۰۵ء) کی تصنیف مرآۃ الحقائق اور کنزالدقائق، حضرت بندہ نواز گیسو دراز(۸۲۵ھ/۱۴۲۲ء) کی اسماء الاسرار، حدائق الانس، رسالۃ فی بیان المعرفۃ، رسالۃ فی شرح تعبیر الوجود بالازمنۃ الثلاثۃ، رسالۃ فی اشارات اہل المحبۃ، رسالۃ فی تفسیرِ رایتُ ربی فی احسن صورۃٍ، شیخ علی مہائمی (۸۳۵/۱۴۳۲) کی النور الاظہر فی کشف سرالقضاء والقدر، اور الضوء الازہر فی شرح النورالاظہر اور اجلۃ التائید فی شرح ادلۃ التوحید، شیخ مسعود بیگ دہلوی (۸۳۶/ ۱۴۳۳) کی التمہیدات اور مرآۃ العارفین، شیخ حسین بن معز بلخی (۸۴۴/۱۴۴۰) کی الحضرات الخمس، اُن کے صاحب زادے شیخ حسن بن حسین بلخی (۸۵۵/ ۱۴۵) کی لطائف المعانی فی الحقائق اور کاشف الاسرار شرح الحضرات الخمس، شیخ ابوالفتح کالپوی (۸۶۲ھ/ ۱۴۵۸ء) کی کتاب المشاہدۃ اورشیخ محمدبن جعفر مکی (۸۹۱ھ/ ۱۴۲۶) کی بحر المعانی، دقائق المعانی، حقائق المعانی اور پنج نکات بہت ہی نمایاں ہیں۔ نویں صدی ہی کی کتب تصوف میں احسان وسلوک کے حوالے سے شیخ اشرف جہاں گیر کچھوچھوی کی تصنیف بحر الاذکار، فوائد الاشرف، اشرف الفوائد، بشارۃ الذاکرین، تنبیہ الاخوان، ارشاد الاخوان، بشارۃ المریدین، حجۃ الذاکرین، شیخ نور الدین احمد چشتی (۸۱۸/ ۱۴۱۵) کی مونس الفقراء اورانیس الغرباء، حضرت بندہ نواز گیسوکی کتاب فی آداب السلوک، رسالۃ فی بیان الذکراور رسالۃ فی الاستقامۃ علی الشریعۃ، شیخ عبداللہ شطاری (۸۳۲ھ/ ۱۴۲۹ء) کی مختصر فی الطریقۃ الشطاریۃ، شیخ یوسف ایرچی (۸۳۴/۱۴۳۱) کے قلم سے منہاج العابدین کا فارسی ترجمہ، شیخ قوام الدین لکھنوی (۸۴۰/۱۴۳۷ ) کی ارشاد المریدین، معیار التصوف اوراساس الطریقۃ، شیخ حسام الدین مانک پوری (۸۵۳ھ/ ۱۴۴۹ء) کی انیس العاشقین، شیخ محمد بن قاسم اودھی (۸۹۶/ ۱۴۹۰) کی آداب السالکین اور سید خواجگی کروی (۸۹۸/۱۴۹۲) کی مراد مرید قابل ذکر ہیں۔
نویں/پندرہویں صدی کی شروحات تصوف میں سید اشرف کچھوچھوی کی شرح فصوص الحکم اور شرح عوارف المعارف، شیخ حسین بن محمد بن یوسف گلبرگوی (۸۱۲/۱۴۰۹ کی شرح الملتقط اور شرح السوانح، خواجہ بندہ نواز کی شرح عوارف ،شرح قشیریہ، شرح آداب المریدین، شرح السوانح از علی شیر شطاری، شرح تمہیدات از عین القضاۃ ہمدانی، شرح الرسالۃ از ابن عربی، شرح التعرف اور حاشیہ برقوت القلوب اور شیخ علی مہائمی کی شرح عوارف اور فریدالدین عراقی کی کتاب اللمعات کا عربی ترجمہ، جام جہاں نما کا عربی ترجمہ مرآۃ الحقائق اوراُس کی شرح بہت نمایاں ہیں۔
اِس عہد کے مکتوباتی و ملفوظاتی ادب میں سید اشرف کچھوچھوی، شاہ نورالحق پنڈوی (۸۱۸/۱۴۱۵) شیخ فتح اللہ اودھی (۸۲۱/۱۴۱۸)، شیخ حسین بن معز بلخی (۸۴۴/۱۴۴۰) اور شیخ حسام الدین مانک پوری کے مکتوبات اورشیخ اشرف سمنانی کا ملفوظ لطائف اشرفی مرتبہ شیخ نظام الدین یمنی، شیخ حسین بن معز بلخی کا ملفوظ گنج لایخفی، شیخ احمد بن عبداللہ مغربی (۸۴۹/۱۴۴۵) کا ملفوظ تحفۃ المجالس مرتبہ شیخ محمود بن سعید ایرچی، شیخ حسام الدین مانک پوری کا ملفوظ رفیق العارفین مرتبہ فرید بن سالار عراقی اور محمد بن علا منیری کا ملفوظ مناہج الشطار اَہم ہیں۔
نویں/پندرہویں صدی کے صاحبانِ لوح وقلم صوفی علما میں سید اشرف کچھوچھوی (۸۰۸ھ/۱۴۰۵ء)، حضرت بندہ نواز گیسو دراز (۸۲۵ھ/ ۱۴۲۲ء) اورشیخ علی مہائمی (۸۳۵/۱۴۳۲) زیادہ مشہور اور مقبول ہیں اور حضرت سید اشرف کچھوچھوی کی لطائف اشرفی کو سب سے زیادہ مقبولیت حاصل ہے۔ تاہم اس عہد کا صوفی ذخیرہ بہت ہی گراں قدر ہے۔ اس ذخیرے کا بڑا حصہ اب بھی تشنۂ تحقیق ہے۔ گزشتہ دورکے بالمقابل عہد حاضر میں تصوف کے حوالے سےاہل علم اورارباب خانقاہ کی دلچسپی بڑھی ہے اور بہت کچھ کام ہوا ہے۔ شیخ سعد الدین خیرآبادی (۹۲۲ھ/۱۵۱۶ء) کی ’’مجمع السلوک‘‘ علم تصوف کے اسی عہد شباب کی تصنیف ہے۔ اس کے مقدمے سے پتا چلتا ہے کہ انھوں نے ۸۸۹ھ یعنی نویں/پندرہویں صدی کے اواخرمیں مجمع السلوک کی تصنیف شروع کی تھی۔ (۴۷) اِس کے مطالعے سے معلوم ہوتا ہے کہ شیخ سعد نے اپنی اس تصنیف میں تمام جدید و قدیم اور ہندی وغیر ہندی مصادر و مآخذ سے بھرپور اِستفادہ کیا اورعلمی بحث و تحقیق کے ذریعے دستیاب صوفیانہ مواد کا عطر مجموعہ کشید کرنے کی قابل رشک کوششیں کی ہیں۔
خلاصہ کلام یہ کہ دسویں صدی تک تاریخ تصوف کا یہ ایک اجمالی خاکہ ہے، جومستقل طورپرتحقیق وتفتیش کا متقاضی ہے۔ اِس مختصر سی تحریر میں تصوف سے متعلق ذخیرۂ شعریات کو چھیڑنے سے گریز کیا گیا ہےکہ یہ مختصر سی تحریر اُس کا متحمل نہیں۔ تاہم اِس اجمالی وسرسری تحریرسےعلم تصوف کے آغاز تدوین سے عہد عروج تک کی ایک سرگزشت قارئین کی نگاہوں میں ضرور آجائے گی۔
ث ث ث
مراجع ومآخذات
1۔الرسالۃ القشیريۃ، ۱/۳۴، دارالمعارف، قاہرہ
2۔تاریخ ابن خلدون،۱/۶۱۱،دارالفکر، بیروت ۱۹۸۸ء
3۔تاریخ ابن خلدون، ۱/۶۱۳، دارالفکر، بیروت ۱۹۸۸ء
4۔ الرسالۃ القشيريۃ، باب تفسیر الفاظ تدور بین ہذہ الطائفۃ، دارالمعارف، قاہرہ
5۔تاریخ ابن خلدون:۱/۶۱۳، دارالفکر، بیروت ۱۹۸۸ء
6۔(احیاءالعلوم، المہلکات، ذم الدنیا)
7۔Sufism: The Formative Period, Ahmad T. Karamustafa, Edinburg University Press, 2007, P:84
8۔تاریخ التراث العربی، جلد اول، جز چہارم، فواد سزکین، مترجم: محمود فہمی حجازی، ص: ۱۱۳،جامعۃ الامام محمد بن سعود الاسلامیۃ، ریاض،۱۹۹۹ء
9۔احیاء علوم الدین:۳/۲۶۴، دار المعرفۃ، بیروت
10 ۔امام محاسبی کی کتاب العقل و فہم القرآن پر حسین قوتلی کا تفصیلی مقدمہ،دارالفکر ۱۹۷۱، ۸۸
۱۱۔التصوف :الثورۃ الروحیۃ، ۲۱۲، بحوالہ مقدمہ حسین قوتلی، کتاب العقل و فہم القرآن للمحاسبی ،دارالفکر ۱۹۷۱،ص:۶۱
12۔امام محاسبی کی کتاب العقل و فہم القرآن پر حسین قوتلی کا تفصیلی مقدمہ،دارالفکر ۱۹۷۱
13۔سیر اعلام النبلاء/ ذہبی:۱۴/۷۳،موسسۃ رسالہ، ۱۹۸۵ء
14۔ تاریخ التراث العربی، جلد اول، جز چہارم، فواد سزکین، مترجم: محمود فہمی حجازی، ص:۱۱۰،جامعۃ الامام محمد بن سعود الاسلامیۃ،ریاض،۱۹۹۹ء
15۔تاریخ التراث العربی، جلد اول، جز چہارم، فواد سزکین، مترجم: محمود فہمی حجازی، ص:۱۲۵،جامعۃ الامام محمد بن سعود الاسلامیۃ،ریاض،۱۹۹۹ء
16۔تاریخ التراث العربی، جلد اول، جز چہارم، فواد سزکین، مترجم: محمود فہمی حجازی، ص:۱۲۷،جامعۃ الامام محمد بن سعود الاسلامیۃ،ریاض،۱۹۹۹ء
17۔تاریخ التراث العربی، جلد اول، جز چہارم، فواد سزکین، مترجم: محمود فہمی حجازی، ص:۱۲۹،جامعۃ الامام محمد بن سعود الاسلامیۃ،ریاض،۱۹۹۹ء
18۔مجموع الفتاوی:۵/۴۹۲،مجمع الملک فہد لطباعۃ المصحف الشريف، المدينۃ النبویۃ، المملکۃ العربیۃ السعودیہ،۱۹۹۵ء
19۔تاریخ التراث العربی، جلد اول، جز چہارم، فواد سزکین، مترجم: محمود فہمی حجازی، ص:۱۳۱،جامعۃ الامام محمد بن سعود الاسلامیۃ،ریاض،۱۹۹۹ء
20۔ الفہرست / ابن ندیم،ص:۲۳۸،دار المعرفۃ، بیروت، ۱۹۹۷ء
21۔طبقات الشافعیۃ الکبریٰ/السبکی، ۲/۲۴۶، ہجر للنشر والتوزیع، مصر، ۱۴۱۳ھ
22۔تاریخ التراث العربی، جلد اول، جز چہارم، فواد سزکین، مترجم: محمود فہمی حجازی، ص:۱۴۳،جامعۃ الامام محمد بن سعود الاسلامیۃ،ریاض،۱۹۹۹ء
23۔کتاب اللمع/ابونصر سراج، اردو ترجمہ،سیداسرار بخاری، کا پیش لفظ از سیدفاروق القادری،ص:۱۹، تصوف فاؤنڈیشن، لاہور، ۲۰۰۰ء
24۔تاریخ التراث العربی، جلد اول، جز چہارم، فواد سزکین، مترجم: محمود فہمی حجازی، ص:۱۵۸،جامعۃ الامام محمد بن سعود الاسلامیۃ،ریاض،۱۹۹۹ء
25۔تاریخ التراث العربی، جلد اول، جز چہارم، فواد سزکین، مترجم: محمود فہمی حجازی، ص:۱۵۹،جامعۃ الامام محمد بن سعود الاسلامیۃ،ریاض،۱۹۹۹ء
26۔تاریخ التراث العربی، جلد اول، جز چہارم، فواد سزکین، مترجم: محمود فہمی حجازی، ص:۱۶۴،جامعۃ الامام محمد بن سعود الاسلامیۃ،ریاض،۱۹۹۹ء
27۔تاریخ التراث العربی، جلد اول، جز چہارم، فواد سزکین، مترجم: محمود فہمی حجازی، ص:۱۶۷،جامعۃ الامام محمد بن سعود الاسلامیۃ،ریاض،۱۹۹۹ء
28۔ The Kitab al-Luma fi l-Tasawwuf by Abu Nasr al-Sarraj, Introduction by R. A. Nicholson, p: xiii, E. J. Brill, London, 1914
29۔تاریخ التراث العربی، جلد اول، جز چہارم، فواد سزکین، مترجم: محمود فہمی حجازی، ص:۱۷۰،جامعۃ الامام محمد بن سعود الاسلامیۃ،ریاض،۱۹۹۹ء
30۔تاریخ التراث العربی، جلد اول، جز چہارم، فواد سزکین، مترجم: محمود فہمی حجازی، ص:۱۷۴،جامعۃ الامام محمد بن سعود الاسلامیۃ،ریاض،۱۹۹۹ء
31۔تاریخ التراث العربی، جلد اول، جز چہارم، فواد سزکین، مترجم: محمود فہمی حجازی، ص:۱۷۷،جامعۃ الامام محمد بن سعود الاسلامیۃ،ریاض،۱۹۹۹ء/الاعلام للزرکلی:۴/۱۶۳
32۔ التفسیر والمفسرون، ڈاکٹر محمد سید حسین ذہبی، ۲/۲۸۲، مکتبہ وہبہ، قاہرہ
33۔مقدمہ حلیۃ الاولیاء
34۔طبقات الشافعیۃ،علامہ تاج ة الدین سبکی،۵/۱۵۳
35۔ تصوف اسلام، عبدالماجد دریابادی، ص:۳۶،دارالمصنفین، اعظم گڑھ،یوپی، بحوالہ بستان المحدثین مولفہ شاہ عبدالعزیز محدث دہلوی، ص:۷۶، لاہور
36۔الغزالی، علامہ شبلی نعمانی، ص: ۱۵۸، مطبعہ معارف، اعظم گڑھ، ۱۹۲۸ء
37۔تصوف اسلام، عبدالماجد دریابادی، ص:۳۶،دارالمصنفین، اعظم گڑھ،یوپی، بحوالہ سفینۃ الاولیاء، ۱۶۴
38۔تصوف اسلام، عبدالماجد دریابادی، ص:۳۶،دارالمصنفین، اعظم گڑھ،یوپی، بحوالہ درر نظامی، مرتبہ شیخ علی محمود جاندار، نسخۂ قلمی مملوکہ سید علیم الدین خادم درگاہ سلطان المشائخ
39۔تصوف اسلام، عبدالماجد دریابادی، ص:۳۷،۳۸،دارالمصنفین، اعظم گڑھ،یوپی
40۔الاعلام للزرکلی:۴/۱۲۲، دار العلم للملایین،۲۰۰۲ء
41۔تصوف برصغیر میں،ص:۴۳۹، خدابخش اورینٹل پبلک لائبریری، پٹنہ، ۱۹۹۲ء، مقالہ: تصوف اسلامی پر ایک ہندوستانی کتاب لطائف اشرفی، از وحید اشرف
42۔ابجد العلوم:۱/۳۲۹، دار ابن حزم،۲۰۰۲ء
43۔ہدیۃ العارفین اسماء المولفین وآثار المصنفین:۱/۲۱۰،اسماعيل بن محمد امين بغدادی، دار احیاء التراث العربی،بیروت
44۔الغزالی، علامہ شبلی نعمانی، ص: ۵۲، مطبعہ معارف، اعظم گڑھ، ۱۹۲۸ء
45۔تاریخ دعوت وعزیمت: ۱/۱۹۷، مجلس تحقیقات و نشریات اسلام، لکھنؤ، ۲۰۱۰ء
46۔التفسیر والمفسرون،ڈاکٹرمحمدسید حسین ذہبی:۲/۲۹۵، مکتبہ وہبہ، قاہرہ
47۔ مجمع السلوک، شاہ صفی اکیڈمی، سید سراواں، ۲۰۱۶ء