ڈاکٹر جہاں گیر حسن
برصغیر ہند وپاک میں مدارس کی تاریخ عموماً دو اِنتہاؤں کے درمیان معلّق رہی ہے۔ ایک طرف وہ ’’سرکاری دستاویزات‘‘ ہیں جو صرف اعداد وشمار، عمارات کی پیمائش اور چند نامور شخصیات کے تذکرے تک محدود ہوتی ہیں، اور دوسری طرف وہ ’’مناقب و القاب‘‘ ہیں جوعقیدت کے غلو میں ادارے کے حقیقی انسانی اور تعلیمی گوشوں کو اُوجھل کر دیتی ہیں۔ لیکن زیرِنظر کتاب اِن دونوں روایتی اسلوب سے ہٹ کر ایک تیسرا راستہ اختیار کرتی ہے، جسے ہم ’’تہذیبی تاریخ نگاری‘‘ کہہ سکتے ہیں۔ یہ کتاب محض ’’الجامعۃ الاشرفیہ‘‘ کے در و دیوار کی داستان نہیں ہے، بلکہ اس مٹی سے پھوٹنے والے شعوروخرد کی تاریخی وتہذیبی روداد ہے۔ مصنف نے جس طرح ’’الجامعۃ الاشرفیہ‘‘ کو اپنے ’’خوابوں کا شہر‘‘ قرار دیا ہے، وہ اپنے قاری کو یہ باور کراتا ہے کہ ایک بڑا تعلیمی ادارہ صرف کلاس رومز کا مجموعہ نہیں ہوتا، بلکہ ایک ایسی اقلیم وسلطنت ہوتا ہے جہاں انسان کے فکری و قلبی زاویے تشکیل پاتے ہیں۔
حضرت شاہ عبدالعزیز محدث دہلوی سے اعلیٰ حضرت فاضل بریلوی تک برصغیر کے مسلمانوں کی مذہبی اور علمی تاریخ میں 1924ء ایک نمایاں لکیر کے طورپر سامنے آتا ہے۔ کیوں کہ اِسی عہد سے ہندوستانی مسلمان فکری طور پر منقسم ہونا شروع ہوئے۔ مصنف نے کتاب کے ابتدائی حصے میں جس دیانت داری سے شاہ اسماعیل دہلوی کی ’’تقویۃ الایمان‘‘ اور اُس کے نتیجے میں پیدا ہونے والے اِرتعاش کا ذکر کیا ہے، وہ اس کتاب کے معروضی (Objective) ہونے کا پختہ ثبوت ہے۔’’سنی صوفی روایت‘‘ جسے عرفِ عام میں ’’بریلوی فکر‘‘ سے تعبیر کیا جاتا ہے، اورجسے علمی محاذ پر مضبوط ومستحکم کرنے کا سہرا فاضل بریلوی رحمہ اللہ کے سر بندھتا ہے، مصنف نے بجا طور پر اُن کے اُسلوب کے ’’خونخوار و برق بار‘‘ ہونے کا تذکرہ کیا ہے، جو اُس عہد کی دفاعی ضرورت تو ہو سکتی تھی، لیکن اِس بات سے بھی انکار ممکن نہیں کہ برق باری سے متصف متذکرہ اُسلوب وانداز سے علمی وفکری کام کے بجائے ’’مناظراتی کلچر‘‘ کو زیادہ فروغ حاصل ہوا۔ یہی وہ نکتہ ہے جہاں سے حافظ ِملت حضرت شاہ عبدالعزیز مبارک پوری رحمہ اللہ کا اصل علمی وعملی سفر شروع ہوتا ہے۔
حافظ ِملت رحمہ اللہ کی شخصیت اِس کتاب کا وہ روشن مینار ہے جس کے گرد پوری تاریخ طواف کرتی ہے۔ اُن کا کمال یہ تھا کہ اُنھوں نے بروقت یہ محسوس کرلیا کہ صرف تقریر اور مناظرہ قوم کی تقدیر نہیں بدل سکتا۔ چناں چہ اُنھوں نے ’’ردّ وتردید‘‘ کے بجائے ’’تعمیروتشکیل‘‘ کو اپنا شعار بنایا۔ مبارک پور جیسے غیرمعروف قصبے میں ایک ایسے ادارے کی بنیاد رکھنا جو آج عالمی سطح پر ’’سنی فکروعمل کا آکسفورڈ‘‘ کہلاتا ہے، یہ کوئی معمولی واقعہ نہیں۔
مصنف نے 1934ء سے1972ء تک کے واقعات کو جس ترتیب سے بیان کیا ہے، اُس سے یہ خصوصی جانکاری نکل کر سامنے آتی ہے کہ کسی بھی ادارے کو پروان چڑھانے کے لیے سب سے پہلے ’’اَنا‘‘ کو قربان کرنا پڑتا ہے، اوریہ کہ ادارے اخلاص اوراُصول پسندی سے بنتے ہیں۔ جب انتظامیہ نے حافظ ِ ملت کے کام-کاج میں رکاوٹ ڈالنے کی کوشش کی، تو اُنھوں نے لڑنے-بھڑنے اور اُلجھنے کے بجائے بڑی ہی خاموشی سے ہجرت کا اِرادہ کیا، اور یہی وہ لمحہ تھا جب مبارک پور کی عوامی طاقت نے اُنھیں ’’اختیاراتِ کلی‘‘ سونپ دی، اور یوں ’’الجامعۃ الاشرفیہ‘‘ کی نشاۃِ ثانیہ کی راہیں ہموار ہوئیں۔
اِس کی وضاحت مصنف کی اِس عبارت سے بخوبی ہوتی ہے:
’’ شوال1352ھ مطابق جنوری 1934ء میں حافظ ملت مولانا عبد العزیز مراد آبادی بحیثیت صدر المدرسین ارض مبارک پورکی سرزمین پر قدم رنجہ ہوئے اور مولانا مظفر حسن ظفر ادیبی کے گھر پر اقامت اختیار کی۔ طلبا کی بڑھتی ہوئی تعداد کے پیش نظر مدرسہ اشرفیہ پرانی بستی کی عمارت ناکافی تھی، اس لیے علامہ ادیبی کے والد شیخ محمد سعید انصاری، چچا حافظ محمد رفیع اور ماموں جناب شیخ محمد امین انصاری و شیخ محمد عمر انصاری وغیرہ نے گولہ بازار میں واقع اپنے اپنے حصے کی زمین اسی سال یعنی ستمبر 1934 ء / جمادی الاخریٰ 1353ھ کو دینی تعلیم کے لیے وقف کردی اور اس کے ساتھ ہی ’’باغ فردوس‘‘ (1353ھ) کے تاریخی نام کے ساتھ ’’دارالعلوم اہل سنت مدرسہ اشرفیہ مصباح العلوم‘‘ کا سنگ بنیاد رکھ دیا گیا۔ گویا حافظ ملت کے وارد مبارک پور ہونے کے ساتھ ہی تعلیمی انقلاب کا آغاز ہوگیا۔ ‘‘
’’1968ء میں امین صاحب کا انتقال ہوا اور اُن کی جگہ شیخ محمد عمر انصاری نے لی۔ شیخ محمد عمر با ہمہ جاہ وجلال، شیخ محمد امین کے صحیح جانشین ثابت نہ ہوسکے، نتیجۃً حافظ ملت اور کمیٹی کے بیچ ایک سرد جنگ شروع ہوگئی۔ حافظ ملت اہل سنت کے لیے ایک مثالی ادارہ قائم کرنا چاہتے تھے، لیکن انہیں شکوہ تھا کہ کمیٹی نے اس کے لیے انہیں مطلوبہ اختیار وآزادی نہیں دی ہے۔ یہ معاملہ آگے بڑھا تو حافظ ملت استعفا کے لیے تیار ہوگئے، انہیں بہ مشکل تمام راضی کیا گیا اور کمیٹی میں بعض اصلاحات کی گئیں۔ یہ اصلاحات بھی ناکافی ثابت ہوئیں اور اسی لیے حافظ عبد الرؤوف بلیاوی، مولانا شفیع مبارک پوری اور علامہ ارشد القادری کی ٹیم نے حافظ ملت کے حکم سے بلرام پور کی سرزمین کو متبادل میدان عمل کے طور پر منتخب کرلیا۔ وہاں ایک صاحب آراضی دینے کے لیے بھی تیار ہوگئے۔ چنان چہ اگلے سال پھر حافظ ملت نے مبارک پور سے رخت سفر باندھنے کی تیاری کرلی۔ ان کا کہنا تھا کہ میری عمر کا آخری پڑاؤ ہے اور اس رسہ کشی میں، میں اپنے خواب کو زمین پر نہیں اتار پاؤں گا۔ جب اس کی خبر اہل مبارک پور کو ہوئی تو سخت ہنگامہ ہوا اور مسلمانان مبارک پور کسی قیمت پر حضرت حافظ ملت کو کھونے کے لیے تیار نہیں ہوئے۔ چناں چہ کمیٹی کے خلاف صداے احتجاج بلند ہوئی اور 1971ء میں نئی کمیٹی اور نئے دستور کے ساتھ حافظ ملت کو اختیارات کلی تفویض کرتے ہوئے انھیں سربراہ ادارہ کے منصب پر فائز کردیا گیا۔ بس کیا تھا، اگلے ہی سال 5؍ 6؍ 7؍ مئی 1972ء کو حافظ ملت نے قصبے سے باہر ایک وسیع آراضی پر تعلیمی کانفرنس کی اور ’’الجامعۃ الاشرفیہ‘‘ کا سنگ بنیاد رکھ دیا گیا۔
1934ء میں حافظ ملت کے وارد مبارک پور ہونے کے بعد 1972ء کا یہ مرحلہ اُس تعلیمی سفر کا دوسرا سب سے بڑا ٹرننگ پوائنٹ تھا۔‘‘
کتاب کا ایک اہم اور جاندار حصہ1999ء کی اسٹرائیک کی بےلاگ روداد ہے۔ یہ حصہ مدارس کے داخلی نظام پر ایک ایسی جرأت مندانہ کھڑکی کھولتا ہے جو عام طور پر بند رہتی ہے۔ انتظامیہ کا یہ فیصلہ کہ ’’دستارِ فضیلت‘‘ کے لیے شش ماہی امتحان پاس کرنا لازمی ہے، ایک بہترین تعلیمی اصلاح تھی۔ لیکن اِسٹوڈینٹس کا ردِّ عمل ظاہر کرتاہے کہ مدارس میں ’’روایت پسندی‘‘ اپنی جڑیں کس قدر گہری رکھتی ہے۔ جہاں اِسٹوڈینٹس کا اپنی بیویوں کو طلاق دینے کے حلف نامے پر دستخط کرنا ایک دہلا دینے والا واقعہ ہے، وہیں محدث کبیرعلامہ ضیاء المصطفیٰ قادری کی سحربیانی اور منطقی گفتگو نے جس طرح احتجاج کا رُخ موڑا، وہ دینی مدارس میں قیادت کے اثر و رسوخ کی بہترین مثال ہے۔ اِس سے ایک طرف یہ ظاہر ہوتا ہے کہ جب جذبات، علم پر غالب آ جائیں تو شعور کی حدیں ٹوٹ جاتی ہیں، تووہیں دوسری طرف محدث کبیر کا کردار اَہل مدارس کے لیے چشم کشا ایک سبق معلوم پڑتا ہےکہ بڑے سے بڑے منفی اقدام کو بھی حکمت ودانائی سے مثبت انجام تک پہنچایا جاسکتا ہے۔ اِس کشمش ِحالات میں بھی مصنف کا کردار نمایاں ہے اوروہ ہمیشہ ایک ’’متوازن مبصر‘‘ کی حیثیت سے سامنے آتا ہے، جو بھیڑ کا حصہ بھی ہے اور اپنی انفرادیت کا محافظ بھی۔
مصنف نے ’’الجامعۃ الاشرفیہ‘‘کے انتظامی ڈھانچے کو تین رِیاستی ستونوں (منتظمہ، مقننہ، عدلیہ) سے تشبیہ دی ہے اور ایک نئی بحث چھیڑنے کی کامیاب اور اَنوکھی کوشش ہے، مثلاً: بی ایس سی (علیگ) ہونے کے باوجود سربراہِ اعلیٰ حضرت شاہ عبدالحفیظ کی سادگی ودرویشی اورروایتی اقدار سے اُن کی وابستگی ’’الجامعۃ الاشرفیہ‘‘ کو ایک توازن فراہم کرتی ہے۔ ناظمِ اعلیٰ حاجی سرفراز مبارک پوری کی جمالیاتی حس اِس علمی ودینی قلعے کے حسن میں چار چاند لگاتی ہے۔ اس وقت کے پرنسپل علامہ محمد احمد مصباحی کو ’’بے تاج بادشاہ‘‘ قرار دینا اُن کی علمی ہیبت وجلال اور اصلاحی جرأت کا اعتراف ہے۔ اُنھوں نے’’الجامعۃ الاشرفیہ‘‘ کو اُس وقت سنبھالا جب تعلیمی انحطاط کا خطرہ تھا، لیکن اس کے باوجود اُسے جدید علمی آہنگ سے روشناس کرایا۔ صدرُ الافتاء حضرت مفتی نظام الدین رضوی کی معتدل ومتوازن علمی وفکری روش نے مسلکی غلو کے بجائے فقہی بصیرت کو عام کیا۔
’’الجامعہ الاشرفیہ‘‘ کی عمارات، سبز گنبد اور باغات کا ذکر مصنف کے ذوقِ جمال کا اعلی نمونہ ہے، جو اُن کے حسن تخیلات وقلمی پُرکاری کی مثال پیش کرتا ہے۔ یہ حصہ بتاتا ہے کہ اسلام میں جمالیات (Aesthetics) کی کیا اہمیت وافادیت ہے۔ ایک طالب علم جب ایسے پُرشکوہ ماحول میں رہتا ہے، تو اُس کی شخصیت میں ایسی خود اعتمادی پیدا ہوتی ہے جو اُسے دنیا کے سامنے فخرسےسر اُٹھا کر گفتگو کرنے کا حوصلہ دیتی ہے۔
کسی بھی تعلیمی ادارے کی تاریخ صرف اُس کی عمارتوں، اساتذہ اور امتحانی نتائج سے عبارت نہیں ہوتی، بلکہ اُن فکری تحریکوں سے عبارت ہوتی ہے جو طلبہ کے شعور میں انقلاب برپا کرتی ہیں۔ برصغیر کی عظیم دینی درسگاہ ’’الجامعۃ الاشرفیہ‘‘ مبارکپور، طویل عرصے تک اپنے سحر انگیز خطبا اور شعلہ بیان مقررین کی وجہ سے جانی جاتی رہی۔ وہاں کی فضاؤں میں تقریر کا غلغلہ تو تھا، لیکن قرطاس و قلم کی خاموش حکمرانی ابھی اپنا راستہ تلاش کر رہی تھی، اورایک دن یہ جستجو بھی اپنے اختتام کو پہنچی، جب2001ء میں’’بہارِادب‘‘کے بینرنے ادارے میں ایک ’’تحریری انقلاب‘‘ پیدا کیا۔ مصنف اورچند پُرعزم نوجوانوں نے ’’ن والقلم‘‘ کا ایک ایسا صورپھونکا جس نے طلبا کو تقریر وخطابت کے عارضی جوش سے نکال کر تحریر کے پائیدار ہوش سے آشنا کیا۔ اس روداد میں جہاں علمی و ادبی سرگرمیوں کا تذکرہ ہے، وہیں ان نفسیاتی اور سماجی رکاوٹوں کا بھی بیان ہے جو ہر نئی تحریک کے راستے میں حائل ہوتی ہیں۔ ششماہی امتحان کے ناکام نتائج پر ملنے والے طعنے ہوں یا بالا دست جماعتوں کے طلبا کی جانب سے ہونے والی طنز و تعریض۔ لیکن ’’لوح و قلم‘‘ کے سپاہی تمام تر آزمائشوں سے گھبرانے کے بجائے مزید منظم ہوئے۔ ’’شاہین‘‘، ’’جہاں نما‘‘، ’’کرانتی‘‘ اور ’’ہیرالڈ‘‘ وغیرہ نامی وال میگزین نے جنم لیا اورجہاں ایک طرف تحریر کے مبتدیوں نے انگلی پکڑ کر چلنا سیکھا وہیں دوسری طرف اُن کی مخفی صلاحیتیں تپ کرایک دن کندن بن گئیں۔
یہ’’ الجامعۃ الاشرفیہ‘‘ کی ادبی وتحریری تاریخ کا وہ عکس ہے جو آنے والی نسلوں کو یہ سبق دیتار ہےگا کہ ’’لوح وقلم‘‘ کی حکمرانی قائم کرنے کے لیے سخت کوشی، صبروضبط اور ایک منظم مشن کی ضرورت ہوتی ہے۔
حالاں کہ ’’الجامعۃ الاشرفیہ‘‘ میں اِس سے پہلے بھی بعض طلبا کی طرف سےادبی تحریکیں چلائی گئی تھیں، مثلاً: عزیزی ہاسٹل میں پابندی کے ساتھ موقع بہ موقع مشاعرے ہوتے تھے، جس کے روح رواں سید اولاد قدسی اُڑیسوی ہوا کرتے تھے۔ تقریباً دوسال تک پابندی سے جداریے بھی نکالے گئے تھے، جس میں مولانا مقبول احمد سالک مصباحی کا اہم رول رہا۔ بالخصوص جب وہ ندوہ سے واپس ہوئے تو اِس سلسلے میں ایک انقلابی قدم اٹھانے کی کوشش کی، مگر بدقسمتی سے وہ حالات کے شکار ہوگئے اور سال دوسال کے اندرہی اُنھیں ’’الجامعۃ الاشرفیہ‘‘ کو خیرباد کہنا پڑگیا۔ اِس ضمن میں ڈاکٹر سید شمیم احمد گوہر الہ آبادی، علامہ بدرالقادری گھوسوی، مولانا مبارک حسین مراد آبادی بھی قابل ذکر ہیں، لیکن چوں کہ یہ سب ادبی تحریکیں انفرادی رہیں، اِس لیے دیرپا ثابت نہ ہوسکیں اور نہ ہی کسی انقلاب کا پیش خیمہ ثابت ہوسکیں۔
’’فقد کفر‘‘ کے تحت مصنف نے ایک متنازعہ بحث کو بھی چھیڑرکھا ہے۔ واضح رہےکہ یہ مسئلہ اوّل روزسے ہی ایک نازک اور حساس ترین موضوع کی حیثیت رکھتا ہے۔ بالخصوص برصغیر کے مذہبی تناظر میں، جہاں مسلکی اختلافات کی بنیاد پر فتاویٰ کی ایک طویل تاریخ موجود ہے، وہاں حق اور اعانتِ حق کے درمیان توازن قائم کرنا ایک مشکل ترین علمی فریضہ ہے۔ ’’فقد کفر‘‘ اُسی کٹھن راستے پر چلنے والے اہل علم و دانش کی فکری جدوجہد اور اُن کے روشن خیالات کا ایک خوب صورت مرقع ہے، جس سے یہ چند بنیادی نکات مترشح ہوتے ہیں، مثلاً:
1۔اِس باب میں علامہ ظفر ادیبی کی ایسی گفتگوپیش کی گئی ہے جس کی روشنی میں ابن بطوطہ سے مروی شیخ ابن تیمیہ سے متعلق ایک مشہور واقعے کی تردید بھی ہوتی ہے اوریہ واضح بھی ہوتا ہےکہ علمی میدان میں صرف مشہور روایات پر تکیہ کرنے کے بجائے تاریخی شواہد (Historical Evidence) اور زمانی ومکانی مطابقت کو پیشِ نظر رکھنا کتنا ضروری ہے۔ ایک سچے عالم کا بھی یہی اُصول ہونا چاہیے کہ وہ جذبات وغلوسے بالاتر ہو کر تحقیق وتمحیص کا دامن تھامے رکھے۔
2۔ اِس باب کا سب سے جاندارواہم پہلو’’ حسام الحرمین‘‘ اور ’’من شک فی کفرہ…‘‘ سے متعلق کلامی اُصول وضوابط کی وہ معتدل تشریح ہے جو علامہ ظفر ادیبی اور مفتی عبید الرحمن رشیدی کے مکالموں کی روشنی میں سامنے آتی ہے کہ کسی کی عبارت میں کفر کا احتمال ہونا اور اُس کے کفر کا یقینی ہونا دو الگ الگ چیزیں ہیں۔ جب تک کسی عبارت کا کفری ہونا ’’آفتابِ نیم روز‘‘ کی طرح واضح نہ ہوجائے، احتیاط کا دامن ہرگزنہیں چھوڑنا چاہیے۔ کیوں کہ شرعی اطلاع اور اِنشراحِ صدر تکفیر کے لیے بنیادی شرائط ہیں۔
3۔اِسی باب میں مصری ڈاکٹر عبد القادر نصار اور ڈاکٹر طاہر القادری کی تحریروگفتگو کی روشنی میں یہ نکتہ نمایاں کیا گیا ہے کہ علمی ابحاث میں اختلافِ رائے کی گنجائش بہرحال موجود رہنی چاہیے۔ اعلیٰ حضرت فاضل بریلوی رحمۃ اللہ علیہ کے اصل موقف (احتیاطِ تکفیر) کو اُن کے متبعین ومعتقدین کے تشدد آمیز رویوں سے ممتاز کرنا اِس گوشے کا ایک بڑا علمی کارنامہ ہے، اوریہ بھی بتانا مقصود ہے کہ ’’مسلکِ اعلیٰ حضرت‘‘ دراصل ’’دلیل اوراحتیاط‘‘ سے عبارت ہے، بلا سوچے سمجھے تکفیری مشین گن چلانے سے نہیں۔
علاوہ ازیں اِس باب میں مصنف نے کمال مہارت سے اُس تاریخی حقائق سے بھی پردہ اُٹھایا ہے جب ’’حسام الحرمین‘‘کی تصدیق کے نام پرعلامہ ظفر ادیبی کو’’ الجامعۃ الاشرفیہ‘‘ کی سخت جدائی جھیلنی پڑی اور ایک ادارے نے اپنا ایک لائق وفائق فرزند کھو دیا، جس کا خمیازہ نہ صرف ادارہ کو برداشت کرنا پڑا تھا بلکہ اُس کے باعث جماعت اہل سنت آج تک سخت خسارے سے دوچار ہے۔ دراصل یہ حصہ نونسل طلبا اور علما وفضلا کو یہ باور کرانے کی ایک کامیاب کوشش ہے کہ اُنھیں مسلکی تشدد کے بجائے علمی دیانت اور وسعتِ قلبی کا مظاہرہ کرنا چاہیے اور اِخراج وتشدد آمیزتردیدی رَویے کے بجائے داخلے اورقبولِ تاویل پر فوکس رکھنا چاہیے۔ نیز دِین متین کی حفاظت محض فتوے بازی سے نہیں، بلکہ فہم و فراست، حکمت وجدال احسن اور علمی وفکری دلائل وبراہین سے کرنا چاہیے۔ ورنہ بصورتِ دیگر ہرزمانے میں ہم لوگ اپنی جماعت کےانمول ہیریے کھوتے رہیں گے اور یوں ہی سخت ملی ومذہبی خسارےاُٹھاتے رہیں گے۔
اِن تمام نشیب وفراز، حسن وجمال اور متنی شگفتگی و سلاست کے بعد بھی کتاب میں بعض مقامات اور گوشوں میں حذف و اضافے کی بڑی گنجائش نکلتی ہے جوکتاب کو مزید بہتر اور جامع دستاویز بنانے میں معاون ثابت ہوسکتی ہے،مثلاً:
1۔جہاں تک حذف وتخفیف کی بات ہے، تو یہ مناظراتی تذکروں میں ناگزیر ہے۔ اگرچہ یہ تاریخ کا حصہ ہے، لیکن بعض مقامات پر قدیم مناظروں کی تفصیلات طویل ہوگئی ہیں۔ موجودہ عہد میں جہاں مکالمہ (Dialogue) کی ضرورت ہے، وہاں اُن تفصیلات کو مختصر کرکے ’’نتائج‘‘ پر زیادہ توجہ دی جانی چاہیے۔بعض مقامات پر ’’حافظ ملت کی آمد‘‘ اور ’’مبارک پور کی تاریخ‘‘ کا تذکرہ مختلف عنوانات کے تحت دہرایا گیا ہے۔ اُن سب کو یکجا کرکے تکرار ختم کی جا سکتی ہے۔ نیزاگرچہ یہ ایک آپ بیتی کا اُسلوب ہے، لیکن تاریخی حقائق بیان کرتے وقت ’’خونخوار قلم‘‘ یا ’’باغِ فردوس کی خاک کے بوسے‘‘ اور ’’سینے کی سوزش‘‘ جیسے جوشیلے و جذباتی اور اِستعاراتی الفاظ کوبطورتجزیہ تھوڑا معتدل ومتوازن کیا جا سکتا ہے۔ ’’فلاپ شو‘‘ یا تویکسر محذوف کردینے کے قابل ہے یا پھر اُس پر ایک گہری نظر ڈالنے کی ضرورت ہے، تاکہ اُس کا منفی پہلو مزید گہرا نہ سکے اور جماعتی وداخلی لڑائی، دوسروں کے لیے چٹخارے کا سبب نہ بن سکے۔ اُسی طرح کتاب کو اور بھی بہتر علمی دستاویز بنانے کے لیے بیانیہ (Narrative) کو تھوڑا اورمعروضی اور سنجیدہ انداز میں پیش کیا جاسکتا ہے۔ علاوہ ازیں مصنف نے عمارات اور سبز گنبد کا ذکر بہت ہی محبت سے کیا ہے، اِس لیے پُرانی اور نئی عمارتوں کی چند تصاویر بھی کتاب کے حسن میں اضافہ کریں گی۔
2۔جہاں تک اضافے کی بات کی جائے تو ادارتی نصابِ تعلیم (درسِ نظامی) اور اُس میں وقت کے ساتھ ہونے والی تبدیلیوں (مثلاً انگریزی، سائنس، میڈیکل، باغبانی، ایگریکلچر اور کمپیوٹر کی شمولیت) پر ایک مستقل باب ہونا چاہیے۔ اُسی کے ساتھ ’’الجامعۃ الاشرفیہ‘‘ کے تحت چلنے والے طالبات کے مدارس کا تذکرہ ناگزیر ہے۔ یہ بتانا ضروری ہے کہ روایتی سنی معاشرے میں خواتین کی تعلیم کے لیے اشرفیہ نے کیا کردار ادا کیا۔ مصباحی برادران آج پوری دنیا میں پھیلے ہوئے ہیں۔ لہٰذا برطانیہ، امریکہ اورافریقہ میں اُن کی تبلیغی و تعلیمی خدمات کا ایک اجمالی جائزہ کتاب کی افادیت واہمیت کو عالمی سطح پر مسلم بنا دےگا۔ علاوہ ازیں جن اہم اعلام واشخاص کا ذکر آیا ہے، اُن کا مختصر تعارف حاشیے میں دینا نئے قارئین کے لیے بےحد مفید ہوگا۔ پھرچوں کہ اِس کتاب کو عام قاری بھی پڑھے گا، اِس لیےمشکل الفہم اور ذومعانی الفاظ کی افہام وتفہیم کے لیے بھی حاشیہ (Footnotes) کا اضافہ ضروری ہے۔
منجملہ یہ کتاب صرف ایک یاد داشت نہیں، بلکہ ایک عہد کا نوحہ بھی ہے اورمستقبل کا نقشہ بھی۔ یہ ’’رودادِ چمن‘‘بھی ہے اور ’’آئینہ خانہ‘‘ بھی۔ یہ جہاں ماضی کی عظمتوں کا قصیدہ ہے، وہیں مستقبل کے معماروں کے لیے ایک سبق بھی کہ ادارے صرف اینٹ پتھر سے نہیں، بلکہ اصولوں، قربانیوں اور دور اندیش قیادت سے بنتے ہیں۔ یہ ہمیں بتاتی ہے کہ ’’الجامعہ الاشرفیہ‘‘ جیسے ادارے کسی ایک فرد کی جاگیر نہیں بلکہ پوری قوم کی امانت ہیں۔
علاوہ ازیں مصنف نے اپنے ’’قصۂ ناتمام‘‘ کو جس حسن اورخوب صورتی سے ’’عہدِ واثق‘‘ تک پہنچایا ہے، وہ قابلِ صد ستائش اور لائق مبارک باد ہے۔ یہ تحریر اُن تمام افراد کے لیے مشعلِ راہ ہے جو مدارس کے نظام میں اصلاح اور تعمیر کے خواہش مند ہیں۔ بلکہ مستقبل کے مؤرخ کے لیے بھی یہ کتاب ایک ایسا بنیادی مآخذ(Primary Source) ثابت ہوسکتی ہے، جس کے بغیر بیسویں صدی کے ہندوستانی مسلمانوں کی مذہبی وادارتی تاریخ ادھوری رہے گی۔