• جمعرات. اپریل 16th, 2026

اُجالے یادوں کے

Byhindustannewz.in

اپریل 16, 2026


خاکہ نگار: ڈاکٹرحلیمہ فردوس
صفحات:172، قیمت: 200؍روپے
سال اشاعت : ستمبر2024، باراوّل
ناشر: حلیمہ فردوس، 414، A1، گنگا بلاک، این جی وی،کورمنگلا، بنگلور، پن کوڈ:560047
تبصرہ نگار: ڈاکٹر جہاں گیر حسن، شاہ صفی اکیڈمی، سید سراواں، کوشامبی(یوپی)


ڈاکٹر حلیمہ فردوس دنیائے ادب میں محتاج تعارف نہیں ہے۔ علمی وادبی چمنستان گلبرگہ سے تعلق ہے۔ متعدد کتابوں کے منصفہ ہیں۔ طنزومزاح میں بالخصوص کمال ودسترس کی حامل ہیں۔ اُن کی حالیہ و تازہ تصنیف خاکوں کا مجموعہ ’’اُجالے یادوں کے‘‘ منظر عام پر آئی ہے ۔ ہمارے مطالعے کی میز پر اُن کی یہی تازہ مجموعہ ہے۔ جہاں تک ہم نے اِسے مطالعہ کیا، تو پایا کہ ’’اُجالے یادوں کے‘‘ خاکوں کا ایک ایسا مجموعہ ہے جو مختلف شخصیات کے کردار، فن اور اثرات کو مصنف کی ذاتی یادوں اور گہرے مشاہدات کی روشنی میں پیش کرتا ہے۔ یہ محض خاکے نہیں بلکہ ایک جذباتی، تہذیبی اور ادبی دستاویز ہے جو متذکرہ ہستیوں کی انفرادیت کو اُجاگر کرتی ہے جن سے مصنف اور اُن کے حلقہ احباب کا کافی گہراتعلق رہا۔
زیرنظرخاکوں کے مجموعے کے عنوانات سے واضح ہوتا ہے کہ مصنف نے متنوع وباکمال شخصیات کو اپنےخاکے کا موضوع بنایا ہے اور نقوش راہِ سے لبریز اُن کی زندگی کے مختلف گوشوں کو بڑی ایمانداری، دیانت داری اور ایک خاص محبت والفت کے ساتھ صفحات قرطاس پر اُتارا ہے۔ یہ مجموعہ کل اٹھارہ خاکے اور چند مضامین پر مشتمل ہے۔
کتاب کا آغاز ’’میں نے خاکے کیوں لکھے؟‘‘ سے ہوتا ہے جو خاکہ نگار کی غرض وغایت، انتخاب اشخاص اوراُن سے ان کی علمی وفکری اور جذباتی وابستگی کا جواز فراہم کرتا ہے اور اسلوب نگارش کی طرف رہنمائی بھی کرتا ہے۔ بقول خاکہ نگار:’’ میرے خاکوں کا محور ذی وقار معروف شخصیات ہی نہیں ہم کفو، ہم نفس اور رفتگان بھی ہیں۔ بیشتر خاکوں کی فضا ماضی کی یادوں سے معطر ہے۔… اُن خاکوں کی ابتدا کبھی زندگی وموت کے فلسفے سے تو کبھی بدلتے اخلاقی اقدار اور کبھی شہروں کی جغرافیائی تبدیلی کے ذکر سے ہوتی ہے۔ تمہید کے بعد چشم دید واقعات، مشاہدات اور تجربات کی بنیاد پر صاحب خاکہ کی مرقع کشی کی گئی ہے۔…ان خاکوں میں بیانیہ طرز اظہار کے علاوہ مکالماتی انداز اور کہیں خود کلامی بھی ملتی ہے۔‘‘(ص:7) یوں مجموعے میں شامل خاکوں کے مطالعے سے یہ اندازہ ہوجاتا ہے کہ مصنف خاکہ نگاری کے فن کا شعوروادراک بخوبی رکھتےہیں۔ خاکے یہ احساس کرائے بغیر نہیں رہتے کہ خاکہ نگارکاقلم محض تصویر نہیں کھینچتا اورمحض اسکیچ نہیں بنایا بلکہ منتخبہ شخصیات کے روحانی و باطنی عکس کو بھی سامنے لاتا ہے۔
اِس مجموعے کا بڑا حصہ ایسی شخصیات پر مشتمل ہے جنھوں نے علمی فکروفن، زبان وادب اور تدریسی پیشے میں گہرا بےمثال اثر چھوڑاہے، مثلاً: ’’شجرسایہ دار: پروفیسر محمد ہاشم علی‘‘، ’’خالد سعید: سادہ لوح پروفیسر‘‘ اور’’ڈاکٹر صغریٰ عالم: پیار و محبت کی امین‘‘ وغیرہ خاکے اِس بات کےغماز ہیں کہ خاکہ نگارنے اساتذہ اور علمائے فن کی نہ صرف قلمی تصویر اُتارا ہے بلکہ اُن سے ملنے والے عبرت آموز اسباقسے بھی روشناس کرانے کی عمدہ کوشش کی ہے۔ گویا یہ خاکے ایک بےنظیرمعلّم واستاذ کے تدریسی اثرات پرروشنی ڈالنے کے ساتھ اُن کی فہم وبصیرت اورتجربے وتربیتی پہلوؤں کوبھی پیش نظر رکھا ہے۔ چناں چہ ’’شجر سایہ دار: پروفیسر محمد ہاشم علی‘‘ کو ایک مربی معلّم کی رحمت وشفقت، رہبری ورہنمائی اور سرپرستی ونگہداشت کابہترین استعارہ کہا جاسکتا ہے، اوربقول مصنف:’’میں نے ہمیشہ ایک مہربان شوہر، شفیق باپ اور فرض شناس استاد کے روپ میں پایا۔‘‘
’’میرے شاعر چاچا: حمید الماس‘‘ اور’’مدیر اعظم غازی طنز و مزاح: سید مصطفی کمال‘‘جیسےخاکے فنونِ لطیفہ سے وابستہ افراد کی نمائندگی کرتے ہیں، جن میں موضوع سخن شخصیات کے فکروفن، عادات وطواراور اُن کی شخصیت وعبقریت کے نئے اور اُنہونی گوشوں کونمایاں کیا گیا ہے۔’’قصہ خوش طبع فقرہ باز سرجن: ڈاکٹر اسلم سعید کا‘‘ یہ خاکہ ایک طبیب اور سرجن کے حس ظرافت ومزاح، حاضرجوابی اور ہنرمندی کے امتزاج سے ہم آہنگ وہم آغوش کرتا ہے، جس سے یہ احساس ہوتا ہے کہ عظیم شخصیات اپنے پیشے سے ہٹ کر بھی کتنی دلچسپ ہوسکتی ہیں۔ بقول مصنف:’’ڈاکٹر اسلم سعید اپنی اس (کٹیلی گفتگو) کمزوری کے باوجود خوش طبع واقع ہوئے ہیں۔ طنزومزاح ان کی رگ رگ میں سرایت کرگیا ہے۔ ان کی سرکاری ملازمت کی ابتداء سنٹرل جیل گلبرگہ سے ہوئی تھی۔ ان سے کسی دوست نے خیریت دریافت کرتے ہوئے سوال کیا:’’اسلم صاحب! آج کل آپ نظر نہیں آرہے ہیں۔ کیا بات ہے؟ انھوں نے برجستہ کہا:’’جیل کی ہوا کھا رہا ہوں۔‘‘
اِس مجموعے کے کچھ خاکوں میں شدید جذباتی وابستگی اور محرومی کا احساس نمایاں ہے، مثلاً:’’کس سے خالی ہوا جہاں آباد‘‘ اور ’’ایک روشن دماغ تھا نہ رہا‘‘ یہ دونوں خاکے باعظمت وناقابل فراموش مرحوم شخصیات کی شیریں یادوں کے سہارے لکھے گئے ہیں جن کے ساتھ خاکہ نگارناقابل بیان کی حد تک مربوط رہے ہیں۔ متذکرہ شخصیات کی رحلت ورخصت سے خاکہ نگار کی حیات مستعار میںایک وحشت ناک خلا کا احساس ہوتا ہےاوراُن شخصیات کے چلے جانےکے باوجود اُن کی یادیں اورباتیں اور اُن کے حسن معاملات بصد شوق اُنھیں تڑپاتے رہتے ہیں۔ گویا اِن خاکوں میں خاکہ نگار کا قلم، حزن وملال کی شدت کے ساتھ فکر و فن اورپرویزیٔ تخیل کو آشکارہ کرتا ہے۔ اِس سلسلے میں بالترتیب یہ جملے دیکھے جاسکتے ہیں:’’عظیم ہستیاں مختصر سی زندگی میں کارہائے نمایاں انجام دے کر عالم بالا کی جانب لوٹ جاتی ہیں۔ اُن کے گزرجانےسے ایک خلا سا پیدا ہوتا ہے۔‘‘ ’’آج خود نمائی کے دور میں عظیم، ماہر، دانشور جیسے الفاظ کا مفہوم بدلتا جارہا ہے۔ ایسے میں ایک روشن دماغ اور سچے ادیب کا اٹھ جانا ادب، سائنس اور مذہب کا خسارہ ہے۔‘‘
’’عظیم الدین عظیم: ایک آہنی پیکر‘‘ یہ خاکہ ایک ایسی شخصیت کا خاکہ ہے جو اِستقامت، مضبوط ارادے اور محنت ومشقت کا نمونہ تھی، یہ خاکہ و تذکرہ ایک مثبت اورانتہائی حوصلہ بخش پیغام دیتا ہےکہ’’عظیم صاحب کی امانت داری، نفاست پسندی اور سلیقہ مندی ان کی شخصیت کی پہچان تھی۔ وقت کے پابند عظیم الدین عظیم نے اردو مجلسوں کی روایت بدل ڈالی تھی۔‘‘ ’’بساط حیات کا مہرہ:حافظ کلیم اللہ‘‘ یہ عنوان ایک فلسفیانہ گہرائی رکھتا ہے جویہ بتاتا ہے کہ یہ خاکہ محض ایک شخص کاعکس زندگی نہیں بلکہ زندگی کی بساط پر اُس کے مشقت انگیزکردارمشینی طرزحیات اور انجام کا حوب صورت تجزیہ ہےکہ کشمکش حیات نے ایک حافظ قرآن کوکمپیوٹر آپریٹر بنادیا۔…ایک مشین کی طرح کام کرنے والا شخص کمپیوٹر کام کرتے کرتے وہیں ڈھیرہوگیا۔ اس کی انگلیاں ساکت ہوگئیں اور سانس کی تار ٹوٹ گئی۔‘‘
اِس مجموعے میں قابل ذکرخواتین پرمشتمل خاکے بھی شامل ہیں اور بڑے ہی ادب واحترام اور خلوص ومحبت سے اُن کے نقوش حیات کے اسکیچ تیار کیے گئے ہیں۔ اِس ضمن میں بعض خاکے کچھ ایسے کرداروں کو پیش کرتے ہیں جن کے مختلف رنگ وروپ ہیں اور بڑے ہی پُرکشش ہیں، مثلاً:’’بشیر النساء: پیکر خلوص‘‘، جن کی شخصیت ملکوں ملکوں ڈھونڈنے والی نایاب ہستی تو نہیں، البتہ! شہروں شہروں تلاش کرنے کے باوجود ایسی پُرخلوص شخصیت کا ملنا محال ہے۔ ’’اردو ادب کی مہاجر زادی: پروفیسر شمیم علیم‘‘، بقول مصنف:مہجری ادب میں بادِ شمیم کی طرح طراوت بخشنے والی ہستی کانام ہے شمیم علیم۔ ’’ڈاکٹر صغریٰ عالم: پیارومحبت کی امین‘‘، صغریٰ عالم کی شاعری میں لفظ محبت کو کلیدی حیثیت حاصل ہے۔ ان کے نزدیک لفظ محبت زندگی کو سمجھنے کا وسیلہ ہے۔ ’’فوزیہ چودھری کی کہانی…‘‘، ایک مکالماتی تحریر ہے جو فوزیہ اور حلیمہ کے سہارے آگے بڑھتی ہےاور ہردوخواتین کی حیات کا نقشہ کھینچتی ہے۔غرض کہ یہ سبھی خاکے نہ صرف موضوع سخن خواتین کی کامیابیوں کی داستان ہیں، بلکہ اُن کی ذاتی وطبعی عادات اور جدوجہد پر بھی روشنی ڈالتے ہیں، جن سے بہ آسانی نفع بخش سبق حاصل کیا جاسکتا ہے ۔
مزید برآں’’نرم دل گفتگو، گرم دم جستجو: پروفیسر لئیق صلاح‘‘،’’خانوں میں بٹی ہوئی پیاری شخصیت: کہکشاں تبسم‘‘ ، ’’خالد سعید: سادہ لوح پروفیسر‘‘، ’’مدیر اعظم غازیٔ طنزومزاح…‘‘، ریاض احمداورقسمت کے کھیل‘‘ اور’’قلمی چہرے‘‘ قابل مطالعہ خاکے ہیں جن سے خوش اخلاقی اور باطنی حمیت ومروت کی عطربیز خوشبوئیں اڑتی محسوس ہوتی ہیں، نیز ایسی ہستیوں کی نمائندگی ملتی ہے جن کے پیشہ ورانہ زندگی اور سماجی کرداروعمل مختلف ہونے کے باوجود ایک سبق آموز اکائی میں ڈھلتے ہوئے معلوم پڑتے ہیں۔ علاوہ ازیں ’’عکس درعکس‘‘، ’’حلیمہ فردوس‘‘، ’’کچھ یادیں کچھ باتیں‘‘ اور’’ ڈاکٹر حلیمہ فردوس: درس سے درک تک‘‘ ایسے مضامین ہیں جن سےمصنف کی شخصیت اور عبقریت اور خد وخال واضح ہوتے ہیں کہ بحیثیت معلّم وادیب ایک نمایاں شخصیت کے مالک ہیں اور علمی وفکری سطح پر شرف قبولیت حاصل ہونے کے ساتھ سماجی و گھریلو سطح پر بھی اُنھیں خاصی مقبولیت حاصل ہے۔
غرض یہ کہ ’’اُجالے یادوں کے‘‘ میں حسن تنوعات ووسعت موضوعات کا خوب صورت اجتماع دیکھنے کو ملتا ہے اور اس کے پردے میں حیاتِ اِنسانی متنوع جہات سے  آشنائی ہوتی ہے۔ بالخصوص شاعر، ڈاکٹر، پروفیسر، معلم، ایڈیٹر اور گھریلو خواتین پر مشتمل خاکے قابل ذکر ہیں، جن سے اِس جموعے کے دائرۂ کار کے وسیع ہونے کا احساس ہوتا ہے۔ اِسی کے ساتھ مجموعےمیں شامل خاکے ایک طرف مصنف کی ظاہری وباطنی تعلقات کے بین گواہ ہیں، تودوسری طرف اُن کی یادوں کی حلاوت کےدل فریب نظارے بھی پیش کرتے ہیں۔ یہ خاکے محض تعریف ومدح کے الفاظ و جملے نہیں ہیں، بلکہ باکمال شخصیات کی روح کی گہرائی میں جھانکنے کی ایک انوکھی کوشش ہے۔ چند ایک فروگذاشتوں جیسے: ’جملوں کی طوالت، غیرضروری الفاظ کی کثرت، مرعوبیت اورغلوآمیزعقیدت‘ سے صرف نظر کرلیا جائے، تو بلاشبہ یہ مجموعہ، اردو ادب میں صنف خاکہ نگاری کومزید تقویت دے سکتا ہے اور قارئین کو ایک دلفریب اور بامعنی فکری وتخیلاتی سفرپر لے جانے کا بہترین وسیلہ بن سکتا ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے