ڈاکٹر جہاں گیر حسن مصباحی
مدارس اِسلامیہ؛ صدیوں سے اسلامی تعلیم، دینی شعور، اخلاقی تربیت اور رُوحانی نشو و نما کے مراکز رہے ہیں۔ برصغیر ہند وپاک میں خصوصاً مدارس نے نہ صرف دین کی حفاظت کی، بلکہ مسلمانوں کی ملی ومذہبی شناخت کو باقی رکھنے میں بھی اہم کردار ادا کیا۔ تاہم، وقت کے ساتھ دنیا میں تیزی سے سائنسی، تکنیکی اور فکری تبدیلیاں رونما ہو رہی ہیں جنھوں نے تعلیم کے ہر شعبے کو متأثر کیا ہے۔ چناں چہ ان حالات میں مدارس کا نظام تعلیم بھی اصلاحات کا متقاضی ہے، تاکہ یہ ادارے اپنے اصل مقاصد کو برقرار رکھتے ہوئے دورِ حاضر کے تقاضوں کو پورا کرسکیں۔
ہمیں یہ ازبر رہنا چاہیے کہ ہمارے اسلاف علما و صلحا محض دینی و مذہبی پس منظر نہیں رکھتے، بلکہ وہ جدید علوم و فنون، مثلاً سیاسیات ومعاشیات، طبابت و جراحت، صنعت وحرفت، سائنس وٹیکنالوجی وغیرہ کے لحاظ سے بھی اپنا ایک نمایاں اور مثالی پس منظر رکھتے ہیں۔ یہاں ہم ایک بات یہ بھی واضح کرتے چلیں کہ ہمارے اسلاف نے دین ودنیا دونوں میں کارہائے نمایاں انجام دیے ہیں۔ مثال کے طوپر علامہ فضل حق خیرآبادی رحمہ اللہ جامع معقولات ومنقولات تسلیم کیے جاتے تھے۔ اُنھیں انگریزی حکومت میں اعلی عہدے پر فائز ہونے کا موقع ملا، تو کیا علامہ فضل حق خیرآبادی کی یہ فائزیت، محض دینی علوم وفنون میں مہارت کی بنیاد پر تھی یا پھرعصری علوم وفنون میں بھی مہارت کی بنیاد پر؟ علاوہ ازیں اعلی حضرت فاضل بریلوی رحمہ اللہ کے سلسلے میں بھی یہ کہا جاتا ہے کہ آپ دینی ودُنیوی علوم و فنون کے ماہر و جامع تھے، تو سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ اُنھوں نے یہ علوم وفنون کہاں سے حاصل کیے؟ کیا وہ آکسفورڈ جیسے عصری اداروں سے مستفید ہوئے؟ جہاں تک ہمیں علم ہے، توایسی کوئی بات نہیں، بلکہ اُنھوں نے جو بھی دینی و دُنیوی علوم وفنون حاصل کیے وہ صر ف مدارس کی دَین ہے اور اُن اسلاف علما و فضلا کی مرہون منت ہے جنھوں نے دینیات وعصریات پر مبنی معقول نظام ونصاب تعلیم کے ذریعے اُن کی تعلیم وتربیت فرمائی۔ اُسی طرح صدرالشریعہ علامہ حکیم امجد علی رحمہ اللہ سے متعلق ہمیں یہ پڑھنے اور سننے کو ملتا ہے کہ اُنھوں نے علی گڑھ کے دینیات کے نصاب میں ایک مثالی کردار ادا کیا، جسے عصری تناظر میں پیش کرکے بین الاقوامی سطح پر مفید بنایا گیا، تو کیا اُن کی یہ علمی وفکری خدمات محض کتابوں اور بیانوں کی زینت بننے تک ہی محدود رہنا چاہیے؟ کیا مدارس نے اسلاف علما و فضلا کے ہمہ جہت دینی و دُنیوی تعلیمی نظریات وافکار کو اَپنے یہاں رائج کرنے پر کبھی غور وفکر کیا ہے؟
یہ تمام باتیں جہاں ایک طرف گزشتہ عہد کے مدارس کے نظام و نصاب تعلیم وتربیت کی دینی وعصری جامعیت پر رُوشن دلیلیں ہیں، تو وہیں دوسری طرف موجودہ عہد کے مدارس کے لیے لمحۂ فکریہ بھی ہے۔
موجودہ صورتِ حال: باوجودیکہ ماضی میں ہمارے مدارس دین ودُنیا دونوں اعتبار سے کافی مؤثرثابت ہوئے، لیکن عصر حاضر کے مدارس کا بڑا بُرا حال ہے کہ اُن میں آج بھی وہی پُرانا نصاب ونظام رائج ہے جو کئی صدیوں قبل کے حالات و ضروریات کے مطابق مرتب کیا گیا تھا۔ جب کہ آج دنیا میں ایک سے بڑھ کر ایک علم وفن کی دریافت کی جاچکی ہے۔ نت نئے علوم وفنون کا اضافہ ہو رہا ہے، مدارس آج بھی لکیر کا فقیر بنے ہوئے ہیں۔ بلاشبہ دینی تعلیم، قرآن، حدیث، فقہ، عربی زبان اور عقائد کی تعلیم نہایت اہم اور بنیادی ہے، لیکن دورِ حاضر میں دیگر علوم جیسے سائنس، ٹیکنالوجی، جدید زبانیں اور سوشل سائنس سے بے خبری ہمارے نوجوانوں کو عملی دنیا میں پیچھے ڈھکیل رہی ہے اور نہ صرف اُن کی قائدانہ صلاحیتوں کو ملیامیٹ کررہی ہے بلکہ اُن کی صلاحیتوں سے مستفید ہونے سے عوام وخواص کومحروم بھی کررہی ہے۔ صد افسوس!
جدید تقاضے:آج کا دور عالمگیریت (Globalization)، انفارمیشن ٹیکنالوجی اور جدید طرز پرتنقید وتجزیہ کا ہے۔ موجودہ عہد میں جدید تقاضے کی باتیں کریں، تو درج چیزوں کی طرف ذہن ازخود مبذول ہوجاتا ہے، مثلاً:
عصری علوم کی ناگزیریت:اسلامیات واخلاقیات کے ساتھ سائنس، ٹیکنالوجی، ڈاکٹری، انجینئرنگ، ریاضی، کمپیوٹر، معاشیات اور جدید زبانیں (بالخصوص انٹرنیشنل زبانیں) وہ بنیادی علوم ہیں جو کسی بھی طالب علم کو ملک ومعاشرے کا مفید شہری بنانے کے لیےلازم ہیں۔
تربیتِ افکار و اظہار: آج کے دور میں طوطا کی طرح صرف رٹنے رٹانے پر اِنحصار ناکافی ہے۔ طلبا کو تنقیدی وتحقیقی صلاحیت، قوت تجزیہ اور مؤثرانداز گفتگو سے مزین ومرصع کرنا زیادہ سود مند ہے۔ اِس کے لیے وقتاً فوقتاً طلبا کی کونسلنگ اور ورک شاپ کی شکل میں اُن کی ذہنی وفکری تربیت ہونی چاہیے، تاکہ وہ پختہ افکاراور عمدہ پیرایۂ اظہارکے حامل بن سکیں۔
تکنیکی مہارت: کمپیوٹر کی تعلیم، انٹرنیٹ کا مثبت اِستعمال اور ڈیجیٹل لٹریسی مدارس کے طلبا کے لیے وقت کی اہم ضرورت بن چکی ہے، اِس لیے اِن چیزوں پرتوجہ دینا مدارس کے لیے کافی مفید ثابت ہوسکتا ہے، لہٰذا اِن علوم سے طلبا کو ہم آہنگ کرنا بےحد اہم ہے۔
مابین المذاہب مکالمہ اور تحمل: عالمی سطح پر مختلف مذاہب کے درمیان گفتگو اور اِفہام و تفہیم کی ضرورت ہے۔ مدارس کو چاہیے کہ اپنے طلبا کو بین المذاہب تحمل وبرداشت، کلامی آہنگی اور اِعتدال کی تعلیم دیں، تاکہ وہ مخالفین تک بھی اپنے صالح خیالات وافکارآسانی سے پہنچا سکیں۔ بسا اوقات یہ دیکھنے میں آتا ہے کہ طلبا کی اچھی سے اچھی باتیں بھی بےہنگم انداز ِگفتگو، بےاِعتدالی اور عدم تحمل کے باعث اکارت ہوجاتی ہیں اور یوں تمام ترصلاحیتوں اور کوششوں کے باوجود ناکامی ہاتھ لگتی ہے۔
چند اِصلاحی تجاویز
موجودہ عہد کے پیش نظراصلاحی تجاویز تو کارے دارد، لیکن اجمالی طورپر چند تجاویز پیش ہیں، مثلاً:
۱۔تمام مکاتب فکر کے عظیم مدارس کو اِجتماعی طورپر ایک متحدہ نصاب ونظام تعلیم کی تشکیل کی طرف پیش قدمی کرنی چاہیے، جو دِینی علوم وفنون کے ساتھ عصری تقاضوں کو بھی پورا کرسکے۔
۲۔مدارس کا نصاب ۲۰۲۰ء کی جدید تعلیمی پالیسی کے عین مطابق رکھنا چاہیے، جو حسب ذیل ہے:
ث پہلا مرحلہ نرسری تا کلاس دوم، یہ پانچ سالہ مدت کارپرمشتمل ہے۔ اِس کی دوصورتیں ہوسکتی ہیں:
اوّل: نرسری تا کلاس دوم کی عصری تعلیم اور اِس سطح کی دینیات واخلاقیات کا انتظام مساجد ومکاتب میں ایک ساتھ ہو۔
دوم: بچےعصری تعلیم کسی اِسکول میں حاصل کریں اور دِینیات واخلاقیات کی تعلیم مساجد وکاتب سے حاصل کریں۔
ث دوسرا مرحلہ کلاس سوم تا پنجم (ابتدائیہ/پرائمری )، یہ تین سالہ مدت کار پر مشتمل ہے۔ اِس کو مدارس کے اندر نافذ کیا جاسکتا ہے۔ اِس کے تحت دینیات و اَخلاقیات اور اُردو کے ساتھ کھیل کود بھی شامل کرسکتے ہیں۔ علاوہ ازیں علاقائی زبان اور اِنگلش ہندی پر توجہ دی جاسکتی ہے۔
ثتیسرا مرحلہ کلاس ششم تا ہشتم (وسطانیہ/مڈل)، یہ بھی تین سالہ مدت کار پر مشتمل ہے۔ یہ مدارس کے لیے انتہائی مناسب و موزوں ہے۔ اِس مرحلے میں ممکنہ اسلامی تعلیمات شامل کرنے کے علاوہ اُردو-انگلش زبان اور عصری مضامین شامل کرنا چاہیے، تاکہ رائٹ ٹو اِیجوکیشن ایکٹ ۲۰۰۹ء کا کوئی مسئلہ کھڑانہ ہوسکے۔ واضح رہے کہ جدید تعلیمی پالیسی کے تحت ۱۴؍ سال کی عمر کے تمام بچوں کی تعلیم وتربیت حکومتی پالیسی کے مطابق بہرحال لازم ہے اوراِس میں کسی چوں چرا کی گنجائش نہیں۔
مدارس کی تعلیم میں حفظ قرآن بھی اہم مسئلہ ہے، تو ششم تا ہشتم ہی حفظ کا انتظام رکھیں اور اُس کے ساتھ ساتھ انگریزی، ہندی، حساب، سائنس وغیرہ کی تعلیم دیتے رہیں۔ پھر تکمیل حفظ پرایک سالہ خصوصی عصری نصاب پڑھا کرحفاظ کو آٹھویں (وسطانیہ/مڈل) پاس کرائیں، تاکہ جوحفاظ مزید تعلیم کے خواہش مند ہوں تو اُنھیں کسی رخنہ کا سامنا نہ کرنا پڑے۔
ثچوتھا مرحلہ درجہ نہم (فوقانیہ، مولوی/میٹرک) تا دوازدہم (عالمیت/انٹر)، یہ مرحلہ چار سالہ مدت کار پر مشتمل ہے اور یہ پالیسی مدارس کے لیے بہت ہی صبرآزما اور امتحان و آزمائش والا ہے۔ لیکن خوش آئند بات یہ ہے کہ یہ مرحلہ رائٹ ٹو اِیجوکیشن ایکٹ سے آزاد ہے، اِس لیے اِس مرحلے میں مدارس ایسے مضامین کا انتخاب واضافہ کرسکتے ہیں جو بچے کو عالمیت کے ساتھ مین اسٹریم انٹر کی تعلیم سے مربوط کرسکے۔
علاوہ ازیں اپنی سہولت کے پیش نظر مدارس، آٹھویں اوردسویں کے بعد دُو/چارسالہ عالمیت کا نصاب بھی خود بنا سکتے ہیں، جس میں حسب امکان عصری مضامین کی شمولیت ہو۔ لیکن چوں کہ ابھی تک ملک میں جدید تعلیمی نظام نافذ نہیں ہوا ہے اورابھی تک قدیم نظام تعلیم ہی رائج ہے، تو فی الحال درج ذیل صورتیں اختیار کی جاسکتی ہیں:
۱۔ جب تک نصاب متعین ومرتب نہ ہو، مدارس اپنے طلبا کے لیے مڈل، میٹرک اوراِنٹر کے امتحانات کو یقینی بنائیں۔ تاکہ آگے چل کر طلبا کسی نوع کی پریشانی میں نہ پڑسکیں۔ یعنی درجہ ہشتم (ثانیہ) کے طلبا کومڈل، درجہ نہم ودہم (ثالثہ- رابعہ) کے طلبا کومیٹرک اور درجہ یازدہم ودوازدہم (خامسہ-سادسہ) کے طلبا کو اِنٹر پاس کرنا لازم کردیں اور اِسکولنگ پاس کرنے کے بعد ہی ترقی دیں۔ طلبا کے لیے اُوپن اِسکولنگ بہترین متبادل ثابت ہوسکتا ہے۔ اِس کے علاوہ بھی دیگر حکومتی اداروں سے مدد لی جاسکتی ہے۔
۲۔ انٹر(خامسہ سادسہ /عالمیت) سے ملکی نظام تعلیم تین (آرٹ، کامرس، سائنس) خانوں میں منقسم ہوجاتا ہے، تو اِس کوبنیاد بناتے ہوئے مدارس، اسلامیات کے نام سے ایک چوتھے شعبے کا اضافہ کرسکتے ہیں۔ لہٰذا مدارس کوعالمیت کے لیے اپنا ایک مخصوص کورس ڈیزائن کرنا چاہیے، جس میں تفسیر، حدیث، اصول حدیث، فقہ، اصول فقہ، کلام، صرف ونحواور منطق و فلسفہ کے ساتھ اُن عصری مضامین کی شمولیت بالخصوص ہو، جن کی بدولت اِنٹر پاس کرنے میں کسی نوع کی کوئی دشواری پیدا نہ ہو۔ غرض یہ کہ عالمیت کے کورس کو اِنٹرکے مساوی رکھنا چاہیے۔
علاوہ ازیں یہ صورت بھی نکالی جاسکتی ہے کہ جوطلبا ذوق وشوق رکھتے ہوں، تواُنھیں عالمیت کے ساتھ اِنٹر(آرٹ، کامرس، سائنس) کرنےکی ترغیب دی جاسکتی ہے، کیوں کہ جب علما اِس میدان میں جائیں گے تو علمی انقلاب کے ساتھ دعوت وتبلیغ کی راہیں بھی ہموارہوں گی۔
چوں کہ اِنٹر تک پہنچتے پہنچتے طلبا اِسلامیات وعصریات کی بنیادی تعلیمات سے خاطرخواہ بہرہ مند ہوسکتے ہیں، اِس لیے اُنھیں یہ سہولت بھی فراہم کیا جانا چاہیے کہ وہ اپنی مرضی کے مطابق تعلیمی میدان کو اِختیار کریں۔ یعنی عالمیت/انٹر پاس افراد کو یہ اختیار ہونا چاہیے کہ یا تووہ فضیلت کی طرف قدم بڑھائیں یا پھراپنے ذوق وشوق کے مطابق کالجزکی طرف، اور ڈاکٹری، انجینئرنگ، اکنامس، بینکنگ وغیرہ کی دنیا میں اپنا مقام حاصل کریں۔
۳۔ بی اے (سابعہ ثامنہ/فضیلت) کی سطح پر تعلیمی نظام کی دونوعتیں ہوجاتی ہیں: (۱) موجودہ تعلیمی پالیسی کے مطابق تین سال کی مدت (۲) اور جدید پالیسی۲۰۲۰ء کے تحت چارسال کی مدت، لہٰذا جدید پالیسی جب نافذ ہوجائے تو اُس کے سال آخر میں اُصول تحقیق وتنقید کے مضامین کی شمولیت زیادہ مفید ثابت ہوسکتی ہے۔
اس سلسلے میں اگر قانونی چارہ جوئی کے بعد اگر یونیورسیٹیوں سے الحاق کی صورت نکلتی ہے اور فضیلت کو اگر ڈگری کا درجہ حاصل ہوجاتا ہے تو مدارس کا تعلیمی نظام بڑی آسانی سے مین اسٹریم ملکی تعلیمی نظام کا حصہ بن جائےگا اور یہ ایک انقلابی قدم ہوگا۔
چناں چہ اِن قدیم وجدید تعلیمی نظام کی صورت میں مدارس کی یہ کوشش ہونی چاہیے کہ اپنی فضیلت کی سند کو بی اے کے مساوی تسلیم کرائیں، یا پھر خواجہ معین الدین یونیورسٹی لکھنو، مولانا مظہرالحق یونیورسٹی پٹنہ وغیرہ سے الحاق کریں اور طلبا کے امتحانات اُن اداروں کے تحت دلانے کی صورت نکالیں۔ اگر ایسا ہوجاتا ہے، تومدارس کا تعلیمی نظام بڑی آسانی سے مین اسٹریم ملکی تعلیمی نظام کا حصہ بن جائےگا اور یہ انقلابی قدم ہوگا۔
اِس کے علاوہ حسب ذیل چند باتوں کو ملحوظ رکھنا بھی مدارس کے حق میں بےحد مفید ثابت ہوسکتا ہے، مثلا:
۱۔ اساتذہ کی تربیت: جدید تدریسی طریقوں اور ٹیکنالوجی کے اِستعمال اور طلبا کی ذہنی نشو و نما کے پیش نظر اَساتذہ کو بطورِ خاص ٹریننگ دی جانی چاہیے اور اُنھیں جدید اُصول تدریس وتربیت سے واقف کرانا چاہیے۔ جیسا کہ عصری اداروں میں جب تک بی ایڈ نہیں کرلیا جاتا اُس وقت تک بحیثیت اُستاذ کسی کی بحالی نہیں ہوتی۔ چناں چہ بی ایڈ کے طرز پر ہی بڑے مدارس اپنے یہاں اساتذہ کی یک سالہ ٹریننگ کا انتظام کریں اور ٹریننگ میں کامیابی کے بعد ایک سند جاری کریں اور اُسی بنیاد پر تمام مدارس میں اساتذہ رکھے جائیں، تو بہت حد تک تعلیمی نظام میں اصلاح ہوسکتی ہے اور طلبا دین ودنیا دونوں راہوں پر فخریہ آگے بڑھ سکتے ہیں۔
امتحانی نظام میں تبدیلی: رٹّا سسٹم اورمحض نصاب کی تکمیل کے بجائے ایک ایسا امتحانی نظام رائج کیا جائے، جس سے اِفہام وتفہیم، تجزیہ اور تخلیقی صلاحیتیں نکھر سکیں۔ آخرکیا وجہ تھی کہ ماقبل کے زمانے میں نصاب کی تکمیل کے بغیرطالب علم اِس قابل ہوجاتا تھا کہ بہتراِفہام وتفہیم کرلیتا تھا، نیزاُس کے اندر تجزیہ کرنے کی عمدہ صلاحیت پیدا ہوجاتی تھی اور تخلیقی صلاحیت بھی پختہ رہتی تھی!
جدید سہولیات کی فراہمی: مدارس میں کمپیوٹر لیب، لائبریری اور جدید تدریسی وسائل مہیا کیے جائیں، تاکہ طلبا جدید دنیا سے ہم آہنگ ہوسکیں۔ بلکہ کم سے کم ایک پرچے کا امتحان کمپیوٹر پر نشان زد (CBT Mode) کے طرز پر لیا جائے، تاکہ طلبا اگر کہیں عصری ادروں میں جائے اور اُسے کمپیوٹر ائز اِمتحان دینا پڑجائے، تو کسی اجنبیت اور گھبراہٹ کا احساس نہ ہو اوروہ بےلاخوف وخطر اپنا کام پورا کرسکیں۔
کاروباری اور فنی تعلیم: مدارس میں معاشی ہنر مندی کی تعلیم وتربیت پر بھی فوکس ہونا چاہیے، جیسے کمپیوٹر پروگرامنگ، الیکٹریکل، سلائی-کٹائی، اگریکلچر، باغبانی یا شجرکاری وغیرہ، یہ بہترین متبادل ہیں، مدارس میں اِن سب کو فروغ دینے کی ضرورت ہے، تاکہ وہ طلبا جو دِینی علوم سے زیادہ شغف نہیں رکھتے ہیں اُنھیں بیسک دینی تعلیم دینے کے ساتھ اِس طرح کی ہنرمندی سے مزین کیا جاسکتا ہے۔
اِس سے دوفائدے ہوں گے:
۱۔ ہمارے طلبا دین فروشی نہیں کریں گے۔
۲۔ دنیوی مشاغل میں رہتے ہوئے اپنے کرداروعمل سے دین کی خدمات بھی انجام دے سکیں گے۔
حاصل کلام یہ کہ مدارس کی اصل روح دین کی خدمت ہے اور یہ مقصد اپنی جگہ قائم رہے، لیکن اُس کے ساتھ ساتھ وقت کی ضرورت ہےکہ ان اداروں کو جدید خطوط پر اُستوار کیا جائے۔ اصلاحات کا مقصد دینی شناخت کو ختم کرنا نہیں، بلکہ اس کی افادیت کو عصرِ حاضر کے مطابق بڑھانا ہے۔ ایک متوازن نصاب، تربیت یافتہ اساتذہ، جدید وسائل اور ذہنی کشادگی مدارس کو نہ صرف موثر تعلیمی ادارے بنا سکتے ہیں بلکہ اُنھیں ملت کا رہنما اور ترقی کا ستون بھی بنا سکتے ہیں۔