ڈاکٹر جہاں گیر حسن
ماہِ محرم کا چاند طلوع ہونا محض ایک نئے کیلنڈر کا آغازِ باب نہیں ہے، بلکہ یہ امتِ مسلمہ کے لیے ایک عظیم الشان فکری، روحانی اور اخلاقی بیداری کا پیغ بھی ہے۔ اسلامی سال کی بنیاد کسی بادشاہ کی تخت نشینی یا کسی دنیوی سلطنت کی فتح پر نہیں رکھی گئی ہے، بلکہ ہجرتِ مدینہ جیسے عظیم الشان واقعے پر رکھی گئی ہے۔ وہ ہجرت جو حق اور باطل کے درمیان واضح لکیر کھینچتی ہے اور مسلمانوں کو اِیثار وقربانی اوراقامت دین کے لیے جد وجہد کا درس دیتی ہے۔
آج جب کہ ایک بار پھر سے نیا اسلامی سال شروع ہوچکا ہے، تو ایک مسلمان ہونے کی حیثیت سے ہمارا طرز ِعمل کیا ہونا چاہیے؟ یہ انتہائی قابل غور پہلو ہے۔ اِس سلسلےمیں ہماری معمولی سی چوک بھی ہمیں ناقابل تلافی نقصان سے دوچار کرسکتی ہے۔
یہ ایک زندہ قوم کی علامت ہوتی ہے کہ وہ ہرنئےعہد کی آمد پر اِحتساب نفس کے ساتھ کچھ نئے اور پختہ عزم وارادے کی تشکیل کرتی ہے اور پھر اُس کو عملی جامہ پہنانے کا اپنے آپ سے عہد وپیمان کرتی ہے،مثلاً:
1۔ احتسابِ نفس: نیا سال شروع ہوتے ہی سب سے پہلا قدم، گزرے ہوئے سال کا محاسبہ ہونا چاہیے کہ ہم نے پچھلے365؍ دنوں میں کیا کھویا اور کیا پایا، ہم سے کہاں چوک ہوئی اور کیا چوک ہوئی، اورہم اپنی کوتاہیوں اور فروگزاشتوں کی بھرپائی کیسے کرسکتے ہیں۔ اِس تعلق سے امیرالمومنین حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ نے بڑی پیاری بات فرمائی ہے کہ اپنا محاسبہ کرو اِس سے پہلے کہ تمہارا حساب وکتاب لیا جائے، اور اپنے اعمال کا وزن کرلو اِس سے پہلے کہ تمہارے اعمال تولے جائیں۔ بےشک اگر تم آج ہی اپنا محاسبہ کرلو، تو کل قیامت میں تم پر تمہارا حساب زیادہ آسان اور ہلکا ہوگا۔ اُس بڑے پیشی کے دن (قیامت ) کےلیے تیارہوجاؤ، جس دن تم اللہ کے سامنے پیش کیے جاؤگے اور تمہارا کوئی بھی راز، راز نہیں رہ پائےگا (بلکہ ظاہرہوجائےگا اور سامنے آجائےگا)۔(مسنداحمد، حدیث:633)
لہٰذا اَصل دانش مند وہی ہے جو اپنے نفس کو قابو میں رکھےاور موت کے بعد کی زندگی کے لیے تیاری کرے۔ پھر یہ بھی فکر کرے کہ اُس نے گزشتہ دنوں میں کتنے گناہ کیے جن سے توبہ کرنی ہے، اور کتنی نیکیاں کیں جن پر شکر ادا کرنا ہے۔
2۔ نعمت کی قدرکاعہد: ایک سال کا گزر جانا اِس بات کی علامت ہے کہ ہماری زندگی سے مہلت کا ایک بڑا حصہ ختم ہو گیا ہے اور ہم اپنی موت/ قبر کے ایک سال مزید قریب ہو چکے ہیں۔ نیا سال آتے ہی ہمارا یہ پختہ عہد ہونا چاہیے کہ ہم آنے والے وقت کا ایک ایک لمحہ اللہ تعالیٰ کی رضا اور اِنسانیت کی خیرخواہی میں گزاریں گے اور سستی و کاہلی کو خود پر حاوی نہیں ہونے دیں گے۔ جناب محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم فرماتے ہیں کہ صحت اور فراغت دوایسی نعمتیں ہیں جن سے اکثر لوگ دھوکا اور چکما کھاجاتے ہیں۔ (صحیح بخاری، حدیث:6412)
لہٰذا ہمیں یہ عہد کرنا ہے کہ ہم اپنی صحت وفراغت کا استعمال صحیح سمت اور صحیح مصرف ہی میں کریں گے اور کسی بھی خیرونفع جوئی کےمعاملے میں غفلت و سستی کو ہرگزجگہ نہیں دیں گے۔
4۔ ترکِ گناہ کا عہد: اِسلامی سال ہمیں یہ بھی یاد دِلاتا ہے کہ اگر دین و ایمان کی خاطر گھربار، جان ومال، آل واولاد اور خویش واقارب سبھی کچھ چھوڑنا پڑجائے تو بھی پیچھے نہیں ہٹنا چاہیے۔ انبیائےکرام علیہم السلام نے ترک وطن اور ہجرت پر بالخصوص عمل کیا اور ہمیشہ دین وایمان کی آبیاری فرمائی۔ اِس ترک و ہجرت کا ایک نمایاں پہلو یہ بھی ہے کہ ہروہ چیز چھوڑ دی جائے جس سے اللہ تعالیٰ نے منع فرمایا ہے، نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا ارشادِ مبارک ہے کہ ’’حقیقی مہاجر وہ ہے جو اُن چیزوں کو چھوڑ دے جس سے اللہ تعالیٰ نے منع فرمایا ہے۔‘‘ (صحیح بخاری،حدیث:10)
چناں چہ نئے سال کی آمد پر ہمارا بڑا عہد یہ ہونا چاہیے کہ ہم اپنے اندر کی بُرائیاں جیسے: حسد، کینہ، چھل، کپٹ، جھوٹ، غیبت، چغلی، حرام کمائی اورحقوق اللہ و حقوق العباد کی پامالی سے بہرحال دور رہیں گے اور تقویٰ و پرہیزگاری کی زندگی اختیار کریں گے۔
4۔ خیر خواہی کا عزم: یہ خیر خواہی کیا ہے اور کس کے لیے خیرخواہی کی جانی چاہیے؟ تو اِس کی وضاحت اِس حدیث پاک سے ہوتی ہے جس میں فرمایا گیا ہے کہ’’۔دین خیرخواہی کا نام ہے۔ اَصحابِ کرام نے دریافت کیا: یارسول اللہ!کس کےلیے خیرخواہی؟ اِس کے جواب میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے یہ ارشاد فرمایا: اللہ تعالیٰ کے لیے، اُس کی کتاب کے لیے، اُس کے رسول کے لیے، مسلمانوں کے امیروں کیے لیے اور عام مسلمانوں کے لیے۔‘‘ (صحیح مسلم، کتاب الایمان، حدیث:196)
اللہ تعالیٰ کے لیے خیر خواہی یہ ہے کہ انسان، اللہ پر سچے دل سے ایمان لائے، اس کے ساتھ کسی کو شریک نہ ٹھہرائے، اخلاص کے ساتھ اُس کی عبادت کرے اور بہرحال اُس کی نافرمانی وغضب سے بچے۔ قرآن مجید کے لیے خیر خواہی سے مراد قرآن پاک کو اللہ کا سچا کلام ماننا، اُس کی تلاوت کرنا، اُس کے احکامات پر عمل کرنا اور اُس کے پیغام کو دوسروں تک پہنچانا ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے لیے خیر خواہی یہ ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی تصدیق کی جائے، آپ سے سچی محبت کی جائے، آپ کی سنتوں اور طریقوں پر عمل کیا جائے اور آپ کے لائے ہوئے دین کی حمایت میں دل وجان سے کھڑا رہا جائے۔ مسلم حکمرانوں کے لیے خیرخواہی سے مراد اچھے کاموں میں اُن کا ساتھ دینا، حق پر اُن کی معاونت کرنا، ناحق پر ہوں تو نرمی و حکمت کے ساتھ اُن کی اصلاح وتفہیم کرنا، اورعام لوگوں کے لیے خیر خواہی یہ ہے کہ تمام انسانوں کے لیے وہی پسند کیا جائے جواِنسان اپنے لیے پسند کرتا ہے۔ کسی کو دھوکہ نہ دے، کسی کی غیبت نہ کرے، غریبوں اور محتاجوں کی مدد کرے، ہرطرح کے نقصان سے خود بھی بچےاوردوسروں کو بھی بچائےاورتمام تر ن اورخیر کی طرف خود بھی قدم بڑھائے اور دوسروں کو بھی اُس کی طرف رہنمائی کرے۔
مزید برآں دین کے لیے خیرخواہی یہ بھی ہے کہ اسلام کی روح کو سمجھاجائے۔ دین، صرف چند عبادات کے مجموعے کا نام نہیں ہے، بلکہ اُن عبادات کا اصل وحقیقی مقصد اِنسان کے اندر اخلاقی حسن اور اِنسانیت وہمدردی کا جذبہ پیدا ہونا ہے۔ چناں چہ اگر ایک شخص نمازی اور پرہیزگار تو ہے لیکن وہ دوسرے انسانوں کا بُرا چاہتا ہے، لوگوں کو دھوکہ دیتا ہے یا وہ اپنےدل میں بدگمانی رکھتا ہے، تو اُس نے ابھی تک دین کی حقیقی روح کو نہیں سمجھا ہے۔
اِسی کے ساتھ اگر کسی معاشرے میں یہ سوچ عام ہو جائے کہ ’’دین مکمل خیر خواہی ہے‘‘ توحسد و کینہ اور کدورتیں اور نفرتیں سبھی یکسرختم ہو جائیں گی۔لوگ ایک دوسرے کی ٹانگ کھینچنے کے بجائے ایک دوسرے کو آگے بڑھنے میں مدد دیں گے۔ ایک دوسرے کا سہارا بنیں گے۔ کاروبار، سیاست ومعیشت اور خاندانی معاملات میں دیانت داری کا مظاہرہ کریں گے اور اِس سےماحول ومعاشرت میں بہرصورت امن وسکون پیدا ہوگا۔ اِس طرح اگر ہم اپنے اندر صدق وخیرخواہی کی صفات پیدا کر لیتے ہیں، تو گویا ہم نے دین کے بڑے حصے پر عمل کرلیا۔
مزید’’دین مکمل خیر خواہی کا نام ہے‘‘ کے پیش نظرہمیں اپنے عہد میں بطورِ خاص اِس طرح کے الٰہی فرمودات اور نبوی اِرشادت کو بھی ملحوظ رکھنا ہوگا، جن میں فرمایا گیا ہے:
1۔بےشک مسلمان مسلمان بھائی ہیں تو اپنے دوبھائیوں میں صلح کراؤ۔ (الحجرات:10)
2۔جب سالن پکاؤ تو شوربا بڑھا لو، اور اُس میں سے ایک ایک چمچہ پڑوسیوں کوبھی بھجوا دیا کرو۔ (ابن ماجہ، ح: 3362)
3۔جو چھوٹوں پر شفقت اور بڑوں کی عزت وتکریم نہیں کرتا وہ ہمارے طریقےپر نہیں۔ (سنن ترمذی، حدیث:1919)
4۔ حضرت جریربن عبداللہ فرماتے ہیں کہ میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے اِس بات پر بیعت کی کہ میں ہرمسلمان کے ساتھ خیرخواہی کروں گا۔ (صحیح مسلم، حدیث:65)
آج جب نیا اسلامی سال شروع ہو چکا ہےاورمسلم اُمت کو تاریخ کے مشکل ترین دور کا سامنا ہے۔ ایسے میں ہمارا عہد یہ بھی ہونا چاہیے کہ ہم آپسی فرقہ واریت، مسلکی منافرت اور عملی واخلاقی منافقت کو ختم کریں گے۔ ایک دوسرے کے دست و بازو بنیں گے۔ اپنے مظلوم بھائیوں کےحق میں مخلصانہ دعائیں کریں گے اور ہرایک سطح پراُن کے ساتھ ہر ممکن تعاون اور صدق وخیرخواہی سے کام لیں گے۔
الحاصل نیا اسلامی سال صرف مبارکباد کے پیغامات بھیجنے یا تعطیل وخوشی منانے کا دن نہیں ہے۔ یہ تجدیدِ ایمان کا موقع ہے۔ آئیں، اس نئے سال کی ابتدا اِس عہد کے ساتھ کریں کہ ہم، اپنی نمازوں کی حفاظت کریں گے۔ اُسوۂ حسنہ کو اپنی زندگی کا حصہ بنائیں گے۔ پڑوسیوں، غریبوں، یتیموں اور مسکینوں کا سہارا بنیں گے، اُنھیں نفع پہنچائیں گے، اپنی صفوں میں صلح واِتحاد قائم کریں گے، ناحق سے کبھی سمجھوتہ نہیں کریں گے، بلکہ اُس کے خلاف حسینی کردار نبھائیں گے، اور اپنی زندگی کا ہر عمل اِس فکر واِحساس کے ساتھ کریں گے کہ ہمیں ایک دن اپنے رب کے حضور جواب دہ ہونا ہے۔ یہی وہ جذبہ ہے جو ہمیں احتسابِ نفس، پختہ عزم اور خیرخواہی و نفع رسانی کی ترغیب وتحریک دیتا ہے اور ہمارے اندر ایک زِندہ تبدیلی وانقلاب کاصور پھونکتا ہے۔
اللہ تعالیٰ اِس نئے ہجری سال کو اُمتِ مسلمہ کے لیے امن و سلامتی اورعروج و سرخروئی کا سال بنائے اور ہمیں اپنے عہد پر قائم رہنے کی توفیق عطا فرمائے۔ (آمین)