• اتوار. جولائی 5th, 2026

اصغر گونڈوی کی شاعری میں صوفیانہ آہنگ

Byhindustannewz.in

جولائی 5, 2026

ڈاکٹر جہاں گیر حسن

اصغر گونڈوی، اُردو شاعری کے اُس سنہرے عہد سے تعلق رکھتے ہیں، جس میں تصوف، محض ایک فلسفہ نہیں، بلکہ ایک جیتا جاگتا تجربہ بن کر، سامنے آتا ہے۔ چناں چہ اُسی تجربے کو اَصغر نے، اپنی شاعری میں، انتہائی جمال وکمال کے ساتھ برتا ہے۔ اصغرگونڈوی، وہ باکمال شاعر ہیں، جنھوں نے، غزل کے روایتی حسن و عشق کو، تصوف کے آبِ طہور سے غسل دے کر، اُسےصرف پاک وصاف ہی نہیں کیا۔ بلکہ اُسے ایک حیاتِ جاوداں بھی بخش دی ہے۔ نتیجتاً جناب اصغر، اُردو غزل کے اُن منفرد، اور مایہ ناز شعرا کی صف میں، ممتاز ونمایاں، نظر آتے ہیں، جن کے کلام کی خوشبو سے، اُردو ادب کا دامن ہمیشہ معطر رہےگا۔
اُردو شاعری میں تصوف کوئی نئی بات نہیں۔ خدائے سخن میر تقی میر سے لے کر، جانِ سخن مرزا اَسد اللہ خان غالب تک، ہر بڑے شاعر نے، صوفیانہ اسرار ومعارف کو برتا ہے۔ لیکن اصغر گونڈوی کا معاملہ، اُن تمام شعرا سے یکسر منفرد، اور جداگانہ ہے۔ اُن کے ہاں، تصوف، کوئی گدڑی، یا اُونی لباس نہیں، یا محض، ایک روایتی مضمون نہیں، بلکہ وہ خود راہِ تصوف کے شہسوار بھی تھے اور بحرتصوف کے غواص بھی، چناں چہ وہ، تصوف کو، محض خلوت نشینی پر محمول نہیں کرتے۔ بلکہ اُسےعینِ زندگی، حرکت وعمل، مزاحمت، اور نشاطِ روح کا سرچشمہ قرار دیتے ہیں۔
عام طور پر، صوفیانہ شاعری کو سن کر، انسانی ذہن میں، دنیا بیزاری، دکھ-درد ، اور تنہائی کا احساس اُبھرتا ہے۔ لیکن اصغر نے اِس نظریے کو بدل کر رکھ دیا ہے۔ اُن کے ہاں، تصوف میں ایک خاص نوع کا ’نشاط‘ اور’ انبساط و سرور‘ پایا جاتا ہے۔ وہ غمِ دنیا پر آنسو بہانے والے شاعر نہیں۔ بلکہ کائنات کے ذرّے ذرّے میں، حسنِ الٰہی کا جلوہ دیکھ کر، جھوم اٹھنے والے صوفی شاعر ہیں، اور یہی سبب ہے کہ، فانی بدایونی سے، فکری ہم آہنگی کے باوجود، اُن سے جداگانہ معلوم ہوتے ہیں۔ کیوں کہ فانی کے ہاں، حزنیہ فضائیں اور مایوسیاں ہیں، توجناب اصغر کے ہاں، طرب ونشاط انگیزیاں ہیں۔
مرتے مرتے نہ کبھی، عاقل و فرزانہ بنے
ہوش رکھتا ہے جو اِنسان، تو دیوانہ بنے
شعر میں رنگینیٔ جوشِ تخیّل چاہیے
مجھ کو اصغرؔ کم ہے عادت، نالہ و فریاد کا
اصغر گونڈوی کی غزلوں میں، ’حسن‘ اور ’عشق‘ کے الفاظ بھی بار بار آتے ہیں، لیکن اُن کا حسن، دنیوی جمالِ جہاں آرا تک، محدود نہیں، اور نہ ہی اُن کا عشق، عشق مجازی کی حدوں میں مقید ہے۔ وہ حسنِ حقیقی، یعنی اللہ تعالیٰ کی ذات کے اسیر ہیں۔ وہ کائنات کی ہرمادّی شے کو اُسی ایک سچے حسن کا عکس وپرتو اور مظہر مانتے ہیں۔
ہے سراپا حسن، وہ رنگیں ادا، جانِ بہار
حسن پر حسن تبسم، صبح خندانِ بہار
کچھ آگ دی ہوس نے، تو تعمیرعشق کی
جب خاک کردیا اُسے عرفاں بنا دیا
یہ اور اِن جیسے بیشتر اشعار ہیں، جن میں، فلسفۂ حسن و عشق کا حسین امتزاج، اپنے انتہائی مقام پرنظرآتا ہے، اور یہ کہ، یہ حسن وعشق، محض جذباتیت کے غماز نہیں۔ بلکہ روح کی گہرائی میں اُتر کر، رُوح میں انقلاب برپا کرنے کی پوری صلاحیت رکھتے ہیں۔
اصغر گونڈوی کے نزدیک، انسانی دل، وہ پاکیزہ مقام ہے، جہاں ذاتِ باری تعالیٰ، اپنی تجلیات ظاہر کرتی ہے۔ اُن کا ماننا ہے کہ جب انسان، قلبی سکون، اور تزکیہ حاصل کر لیتا ہے، تو اُس کا دل لامکانی، اور ماورائی حقائق کا، گہوارہ بن جاتا ہے۔ وہ عشقِ حقیقی کے ذریعے، قلب انسانی کو روشن کرنے پر، زور دیتے ہیں۔ اِس لیے کہ عشق مجازی سے، عشقِ حقیقی تک کا سفر، وارداتِ دل کے بغیر نامکمل ہے۔ اُن کے کلام میں جذبات کی سادگی وصداقت، اخلاص فکروخیال، اور درد مندی وہمدردی کا پہلو نمایاں ہے۔ وہ دل کو اُن تمام منفی خواہشات اوربُرے خیالات سے، پاک وصاف کرنے کی تلقین کرتے ہیں، جو اِنسان کو دُنیا کی رنگینیوں میں اُلجھاتی ہیں، تاکہ تجلیاتِ الٰہیہ کا نزول، براہِ راست، قلب پر ہو۔
روایتی تصوف میں، جہاں حزن و ملال، اور گریہ و زاری پر، زور ہوتا ہے، وہیں اصغر کی شاعری میں، قلب کی تجلی، ایک نوع کی وجدانی کیفیت، اور صوفیانہ سرمستی پیدا کرتی ہے۔ اُن کا ماننا ہے کہ محبت، اور معرفت کے نور سے معمور دل، ہمیشہ پُرسکون اور طرب انگیز رہتا ہے، اور وہ کبھی بھی، حوادثِ روزگار سے خوف نہیں کھاتا۔ اصغر گونڈوی کی غزلوں میں، قلب کا مرکز ہونا، دراصل، انسان کے باطن کی بیداری کی علامت ہے۔ وہ ظاہری رسوم و قیود سے ہٹ کر، دل کی پاکیزگی اور روحانی بلندی کو اصلِ ایمان سمجھتے ہیں۔
سازِ دل کے پردوں کو، خود وہ چھیڑتا ہو جب
جانِ مضطرب بن کر، تو بھی لب کشا ہوجا
چلا جاتا ہوں، ہنستا کھیلتا، موج حوادث سے
اگر آسانیاں ہوں، زندگی دشوار ہوجائے
اصغر گونڈوی کی ایک، اور بڑی خوبی اُن کا منفرد ’’آہنگ‘‘ اور’’ ترنم‘‘ ہے۔ اُن کے الفاظ میں ایک ایسی مٹھاس، اورایک ایسی غنائیت ہے، جو سننے والے کے دلوں پر سحر طاری کر دیتی ہے۔ اُن کا کلام پڑھتے ہوئے ایسا محسوس ہوتا ہے جیسے کوئی صوفی وجد و سرور اورجذب و کیف کے عالم میں جھوم رہا ہو، اور یہ لازوال اشعارگنگنا رہا ہوکہ؎
دیکھنے والے، فروغِ رُخِ زیبا دیکھیں
پردۂ حسن پہ، خود حسن کا پردا دیکھیں
اشک پیہم کو، سمجھ لیتے ہیں، ارباب نظر
حسن تیرا، مرے چہرے سے، جھلکتا دیکھیں
اِس طرح کے اشعار میں جو صوفیانہ رنگ و آہنگ ہے، جو ترنم و جل ترنگ ہے، جو خودی اور یقین ہے، جو محبت اور وارفتگی ہے، جوعشق کے جذبات وکیفیات ہیں، وہ ایک انسان کو، زندگی کی بڑی سے بڑی مشکلات میں بھی، مسکرانا سکھا دیتے ہیں، اور یہی، اصغر گونڈوی کی شاعری کا، اصل جادو، اور کمال ہے۔
اصغر گونڈوی کے ہاں، کائنات کا ذرّہ ذرّہ، خدا کی پہچان، اور معرفت کا ذریعہ ہے۔ اُن کا ماننا ہے کہ، صوفی وہ نہیں ہوتا، جو دُنیا کو چھوڑ کر، جنگلوں اور بیابانوں میں نکل جائے، بلکہ صوفی وہ ہوتا ہے، جو دُنیا کے ہجوم، اور بندگانِ خدا کے بیچ رہ کر بھی، اپنے دل کو، یادِ الٰہی سے شاد و آباد رکھے۔
اصغر گونڈوی کے ہاں، ایسے اشعار کی ایک لمبی فہرست ہے، جن میں حسن وکائنات کی حقیقت، اور معرفتِ الٰہی کے گہرے مضامین بطور خاص محسوس کیے جاسکتے ہیں۔ ایسے اشعار کے پردے میں اصغر، کائنات کو ایک دھوکا، فریب نظراور بےثباتی کے طور پر پیش کرتے ہیں، جب کہ ہرایک شے میں تجلیات ربانی کو کارفرما، مانتے ہیں۔ چناں چہ اصغر گونڈوی، اِسی فلسفے کونبھاتے ہوئے کہتے ہیں کہ
آنکھ ہو جب محو حیرت، تو نمایاں ہے وہی
فکر ہو جب کار فرما، تو وہی مستور ہے
جو نقش ہے ہستی کا دھوکا نظر آتا ہے
پردے پہ مصور ہی تنہا نظر آتا ہے
غالب کی طرح اصغر نے کبھی بھی دعویٔ تصوف تونہیں کیا، مگر اِس حقیقت سے بھی انکار ممکن نہیں، کہ اُن کی شاعری میں، صوفیانہ آگہی بھی ہے، اور بےساختگی بھی۔ اَرضیت بھی ہے، اور حقیقت پسندی بھی ہے۔ جمالیاتی رنگ ونوربھی ہے، اور سرشاری ودلدوزی کے ساتھ حسن و رعنائی بھی۔ اصغر کی یہ حقیقت بیانی قابل دید بھی ہے، اور قابل صدآفریں بھی، کہ؎
ذرّوں کا رقص، مستیِ صہبائے عشق ہے
عالم رواں دواں، بہ تقاضائے عشق ہے
جب یہ نہیں تو ختم ہیں، رنگینیاں تمام
سازِ خودی میں جوش، نواہائے عشق ہے
علاوہ ازیں اصغرگونڈوی کے ہاں عمرخیام کی لاادریت بھی موجود ہے، مولانا روم کے مناظر فطرت کی سرمستی بھی ہے، اورحضرت حافظ کا بادہ و ساغر بھی۔ لیکن اِن تمام حقائق کے باوجود، وہ کورانہ تقلید سے کوسوں دور نظر آتے ہیں۔ کیوں کہ اُن کی ندرت پسندی اوراخاذ طبیعت نے اپنی راہیں خود تلاش کی ہیں۔ لااَدریت، مناظر فطرت اور بادہ وساغر کے پردے میں یہ حسن تخیل دیکھیں،کہ ؎
تمام دفترِ حکمت، اُلٹ گیا ہوں میں
مگر کھلا نہ ابھی تک، کہاں ہوں، کیا ہوں میں
ساقی تیری نگاہ کو، پہچانتا ہوں میں
مجھ کو، فریب ساغر و مینا نہ چاہیے
غرق ہیں سب علم و حکمت، دین و ایماں، دیکھیے
کس طرح اُٹھا ہے، اِک ساغر سے طوفاں، دیکھیے
ایک بات اور، جوشعرا کے ہجوم میں بھی، اصغر کو اِنفرادیت عطا کرتی ہے، وہ ہے اُن کی شعریت۔ دقیق سے دقیق، حکیمانہ اورفلسفیانہ خیالات۔ پیچیدہ سے پیچیدہ، اسرارومعارف، اور لطیف سے لطیف، نکتہ سنجی میں بھی، اُن کے ہاں، شعریت، اپنی جاہ وجلال اور وقاریت کے ساتھ جلوہ فرمارہتی ہے۔ چناں چہ اُن کا یہ اندازِ بیان دیکھیں، کہ؎
اک قطرۂ شبنم پر، خورشید ہے عکس آرا
یہ نیستی و ہستی، افسانہ ہے افسانہ
لو، شمعِ حقیقت کی، اپنی ہی جگہ پر ہے
فانوس کی گردش سے، کیا کیا نظر آتا ہے
اِن جیسے اشعار میں بڑے ہی حکیمانہ طورپر، ذات ِمطلق اور وجود ِمطلق کی حقیقت بیاں کی گئی ہے، اور یہ باور بھی کرایا گیا ہے کہ مستقل جلوہ، صرف، ذاتِ مطلق کا ہے۔ اُس کے علاوہ تمام نیرنگیاں کالعدم ہیں، یا پھراُسی کے جلوے اور مظاہر ہیں۔
آج جب ہم مادّی دور، نفسیاتی اضطراب اور ذہنی تناؤ کے زیر سایہ زندگی بسر کر رہے ہیں، ایسے میں اصغر گونڈوی کی صوفیانہ شاعری، ہمارے دلوں کے لیے، ایک مرہم کی حیثیت رکھتی ہے۔ اُن کا کلام، ہمیں سکھاتا ہے کہ، باہری دنیا کے ہنگاموں سے، نجات پانے کا، واحد، اور تنہاراستہ، اپنے اندر کی دنیا کو، روشن کرنا ہے۔ بلاشبہ اصغر گونڈوی کی غزلیں، ہمیں امن و امان، محبت و الفت، چین وسکون، اور خداکی ذات پر، کامل اعتماد،اور توکل کا درس دیتی ہیں۔ اُنھوں نے غزل کے روایتی رنگ کو تصوف کے نور سے معمور کیا، اور اُردو ادب کو وہ معراج عطا کی کہ جس پر ہمیشہ ناز کیا جاتا رہےگا۔
جسے لینا ہو، آ کر، اُس سے اب، درسِ جنوں، لے لے
سنا ہے، ہوش میں ہے، اصغرؔ دیوانہ، برسوں سے

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے