مدیران: مبین احمدزخم، محمدکیف حیدری
صفحات:240،قیمت:200،سال اشاعت:یکم جون،2025
ناشر:3/851-7، عقب مسجد مقبرہ خواجہ بندہ نواز گیسودراز، درگاہ روڈ، گلبرگہ-585104
تبصرہ نگار: ڈاکٹر جہاں گیر حسن، شاہ صفی اکیڈمی، سیدسراواں، کوشامبی(یوپی)-212213
گلبرگہ، کرناٹک کا ایک مشہور مردم خیز شہر ہے۔ قرونِ وسطیٰ میں اِس شہر کو دَکنی تہذیب وثقافت اوراَدب و سیاست میں مرکزی حیثیت حاصل رہی ہے۔ بلکہ یہ شہر آج بھی تاریخ وثقافت، علم و ادب اور تصوف وروحانیت کے حسین امتزاج کی وجہ سے اپنا ایک منفرد مقام رکھتا ہے۔ جناب حمید سہروردی اُسی عظیم شہر سے تعلق رکھتے ہیں اور گلبرگہ ہی طرح علم وادب، تہذیب وثقافت اور تصوف وروحانیت کا منبع ومرکز کی حیثیت سے متعارف ومشہور ہیں۔ ’’سہ ماہی چراغ نور‘‘ کا یہ خصوصی شمارہ اُن ہی کی شخصیت وفن پرمبنی ہے۔ یہ ایک دستاویزی مرقع ہے جو محض اُن کی علمی وادبی خدمات اور اُن کے فکر وفن کو نمایاں نہیں کرتا۔ بلکہ اُن کی شخصی وادبی انفرادیت کوبھی اُجاگر کرتا ہے۔
زیرنظر رِسالہ مختلف گوشوں پر مشتمل ہے اور ہرگوشہ اپنی ایک منفرد شناخت رکھتا ہے، مثلاً:’’گل جرس‘‘ کے تحت ایک ادارتی تحریر’’خاموشی کا صدا کار‘‘ ہے جو بالاجمال حمید سہروردی کا تعارف پیش کرتی ہے۔’ ’گل تر‘‘کے تحت ’’زندگی نامہ‘‘ ہے جو بشکل توقیت اُن کے اوراق زندگی سے پردہ اٹھاتا ہے، جب کہ ’’گل سخن‘‘ میں اُنھیں منظوم خراج پیش کیا گیا ہے۔’’گل دوستی‘‘کے تحت اُن کے مختلف اِنٹرویوز ہیں۔ یہ گوشہ اُن کے افکاروخیالات جاننے کا عمدہ ذریعہ ہے کہ ادب، معاشرے کا آئینہ بھی ہوتا ہے اوراُس کی تعمیر وتشکیل کا ایک مؤثر ذریعہ بھی۔ بس ضرورت اِس بات کی ہے کہ ادب کی اہمیت کو سمجھا جائے، تخلیق کاروں کی قدر کی جائے اور اُردو زبان کے فروغ کے لیے سنجیدہ کوششیں ہوں۔ ایک اہم انٹرویو’’جوگندرپال کا فکشن زندگی کا رمزنامہ‘‘ ہے۔ یہ انٹرویو، جہاں جوگندرپال سے متعلق حمید سہروردی کے نظریات کواُجاگر کرتا ہے وہیں یہ بتاتا ہےکہ جوگندرپال کا ادب، انسانی نفسیات اور وجودی سوالات کاعکاس ہے اوراُن کی کہانیاں محض واقعات کا بیان نہیں بلکہ زندگی کے پیچیدہ رموز کا انکشاف ہیں
’’گل رو‘‘ کے تحت شامل مضامین کے بموجب: حمید سہروردی نےمحض انسان کی باطنی کی پیچیدگیوں کو اُجاگر نہیں کیا ہے، بلکہ اپنے عہد کے فکری، تہذیبی اور روحانی بحران کو بھی نمایاں کیا ہے۔ اُن کی تحریروں میں ایک خاص گہرائی، رمزیت، معنویت، ثقافتی تنوع اور روحانیت کا احساس ہوتا ہے۔ اُن کی سخن دانی محض الفاظ کا زیروبم نہیں بلکہ ایک فکری جہان کی حامل ہے۔ اُنھوں نےاپنے منفرد ومخصوص اُسلوب کی مدد سے اُردو ادب میں نئی راہیں ہموار کی ہیں اور علامتی اور تجریدی اندازِ بیان سے اپنے کرداروں کو ایک فکری پیکرعطا کیا ہے۔ وہ نثر ونظم دونوں میں یکساں مہارت رکھتے ہیں اوراُن کی تخلیقات نے علاقائی اور قومی دونوں سطحوں پراُردو ادب کو مالا مال کیا ہے۔ ’’گل آگہی‘‘ کے ذیل میں شامل مضامین حمید سہروردی کی افسانہ نگاری اور اُن کی فنکاری پر روشنی ڈالتے ہیں کہ اُنھوں نے کس طرح قدامت وجدت کے درمیان ایک متوازن راستہ اختیار کیا۔ اُن کا اسلوب علامتی، استعاراتی اور تہہ داری کا حامل ہے۔ وہ سادہ بیانیہ سے گریز کرتے ہوئے معنی کی کئی سطحیں قائم کرتے ہیں۔ زبان میں شعریت، جملوں میں روانی اور بیان میں تصوف کی آمیزش اُن کی بنیادی شناخت ہے۔ اُن کے کردار اپنی شناخت، حقیقت اور ذات کی تکمیل کی تلاش میں مسلسل سرگرداں رہتے ہیں۔ اُن کے ہاں روایتی پلاٹ سے ہٹ کر ایک جداگانہ وجدانی فضا قائم ہے۔ اُن کا افسانوی سفر اِرتقائی نوعیت کا ہے۔ ابتدائی افسانوں میں سادگی اور براہِ راست اظہار ملتا ہے، جب کہ بعد کے افسانوں میں پیچیدگی، رمزیت اور فکری گہرائی بڑھ جاتی ہے۔ وہ صنفِ افسانہ کی فنی باریکیوں سے بھی خوب واقف ہیں جواُنھیں ایک ’’افسانہ شناس‘‘ تخلیق کار بناتی ہیں۔
’’گل رنگیں‘‘ کے تحت شامل مضامین سے پتا چلتا ہے کہ اُن کی نظمیں اُن کی تخلیقی بصیرت کا آئینہ دار ہیں۔ یہ نظمیں محض لفظوں کا کتربیونت نہیں بلکہ ایک تصویری اور روحانی تجربات ہیں۔ اُن کی نظمیں قاری کو ایک ایسے جہان میں لے جاتی ہیں جہاں خیال، رنگ، صوت اور سکوت سب ایک دوسرے میں مدغم ہو کر ایک نئی معنویت واحساس پیدا کرتے ہیں۔’’پینٹنگ نظمیں‘‘ اُن کا ایک نمایاں وصف ہے جس میں پینٹنگ نما انداز دیکھنے کو ملتا ہے۔ اُن کی نظمیں موضوعاتی طور پر بھی کافی وسیع ہیں۔ وہ داخلی کرب، روحانی جستجو، وجودی سوالات اور کائناتی اسرار کو اپنی نظم کا حصہ بناتے ہیں۔ اُن کی نظموں میں نہ تو محض رومانویت ہے اور نہ ہی خشک فلسفہ، بلکہ ایک متوازن اور گہرا فنی شعور دکھائی دیتا ہے۔ اُن کی نظموں کا ایک بنیادی جوہر، تجسس اور حیرت بھی ہے۔ اُن کی نظمیں حرکت و شعور عطا کرنےکے ساتھ اپنے قاری کو جھنجھوڑتی ہیں کہ وہ اپنے وجود اور مقصد پر غور کرے۔ گویا اُن کی نظمیں محض ذہن کو متحرک نہیں رکھتیں بلکہ روح کو بھی ایک نئی آگہی عطا کرتی ہیں۔
’’گل مہتاب‘‘ کے تحت دوتحریریں ہیں جو حمید سہروردی کی تصنیف’’جوگندرپال: دید ونادید‘‘ پر لکھے گئے تبصرے ہیں۔ اول الذکر کے بموجب: یہ تصنیف، جوگندرپال کے ادبی وفکری مقام کو سمجھنے کی ایک سنجیدہ کوشش ہے جس میں’’دید و نادید‘‘ کی خوب صورت ترکیب کی مدد سے ظاہر وباطن (دید ونادید) تک رسائی کی گئی ہے کہ جوگندرپال کا فن محض افسانہ نگاری تک محدود نہیں رہتا بلکہ ایک فکری وروحانی تجربہ کے قالب میں ڈھلتا نظر آتا ہے۔ نیز یہ تصنیف، جوگندرپال کی شخصیت اور فن کے تئیں ایک گہری عقیدت اور احترام کا مظہر بھی ہے۔ ثانی الذکر کے بموجب: اِس تصنیف میں جوگندرپال کو ایک رہنما اور فکری چراغ کے طور پر پیش کیا گیا ہے کہ اُن کی تحریریں صرف ادبی لطف نہیں دیتیں بلکہ قاری کو غوروخوض کرنے اور نئے زاویوں سے زندگی کو دِیکھنے کی ترغیب بھی دیتی ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ اُن کا فن آنے والی نسلوں کے لیے ایک ’’مشعلِ راہ‘‘ بن جاتا ہے۔ بہرحال بات اِس پر تمام کردی گئی ہے کہ ’’دید ونادید‘‘ ایک طرف جوگندرپال کے فن کی گہرائیوں کا اعتراف ہے، تو دوسری طرف اُس کی رہنمائی اور اثر انگیزی کا اقرار۔ یہی امتزاج جوگندرپال کو اُردو ادب میں ایک منفرد اور دیرپا مقام عطا کرتا ہے اور مصنف نے اِس کو بخوبی ملحوظ بھی رکھا ہے۔ ’’گل مضمون‘‘ کے ذیل میں’’حمید سہروردی اور بچوں کی کہانیاں‘‘ اور’’حمید سہروردی کی غیر افسانوی تحریریں‘‘ ہیں۔ جو اِس بات کا پتا دیتی ہیں کہ حمید سہروردی نے بچوں کے لیے جو کہانیاں لکھی ہیں، وہ محض تفریح کا سامان نہیں بلکہ اخلاقی تربیت، ذہنی نشوونما اور تخلیقی شعور کو بیدار کرنے کا اہم ذریعہ ہے، جب کہ غیراَفسانوی تحریروں میں اُن کی تنقیدی تحریریں اور فکری نوشتے سرفہرست ہیں اور اِن تحریروں میں اُن کی فکری گہرائی، شگفتہ بیانی، تجزیاتی بصیرت اور اصلاحی پہلو بالخصوص نمایاں ہیں۔
’’گل رُخاں‘‘ کے دوحصے ہیں: پہلے حصے میں حمید سہروردی کے افسانے’’کالے گلاب‘‘، ’’سفید پرندے‘‘، ’’گم‘‘، ’’فرض شناس‘‘ اور ’’نواب مرزا‘‘ ہیں، تو دوسرے حصے میں اُن کی نظمیں۔ افسانوں میں’’کالے گلاب‘‘ علامت اور اِستعارے کا خوب صورت نمونہ ہے۔’’سفید پرندے‘‘پاکیزگی، آزادی اور خوابوں کی علامت ہے۔ ’’گم‘‘ وجودی نوعیت پر مبنی ہے۔ ’’فرض شناس‘‘معاشرتی ذمہ داری اور ذاتی جذبات کے تصادم پر مشتمل ہے۔’’نواب مرزا‘‘ ایک طنزیہ اور کردار نگاری پر مرکوز ہے۔ گویا یہ افسانے علامتی اُسلوب، نفسیاتی تجزیےاور فکری پختگی کے حامل ہیں اور کردار عام ہونے کے باوجود غیر معمولی، جو اُن کے فن کو منفرد بناتی ہے۔ نظموں میں’’اے پیرو مرشد‘‘روحانیت اور رہنمائی کی تلاش پر مبنی ہے، جس میں شاعر ایک باطنی رہبر سے مکالمہ کرتا ہے۔’’میں کہ ایک لفظ‘‘وجود اور ذاتی شناخت پردال ہے۔ شاعر خود کو ایک ’’لفظ‘‘ کے پردے میں اُجاگر کرتا ہے۔ ’’پرندہ دکھ کا نام نہیں‘‘اِس نظم میں دکھ اور آزادی کے تصور کو علامتی انداز میں بیان کیا گیا ہے، جہاں پرندہ محض غم کی علامت نہیں بلکہ وہ قوت پرواز بھی رکھتا ہے۔’’وہ اکیلا کس طرف جائے‘‘یہ نظم تنہائی اور راستہ کھو دِینے کا احساس دلاتی ہے، جب کہ ’’الوداع‘‘جدائی، رخصتی اور آخری لمحات کے احساسات کو نہایت سادگی مگر گہرائی سے بیان کرتی ہے۔ مزید تین مختصر اور تین شخصی نظمیں بھی ہیں: پہلی نظم ’’نئے منظروں کا نقیب‘‘، یہ جوگندرپال پر مرکوز ہے۔ دوسری نظم’’صداقتوں میں‘‘، یہ شاہ حسین نہری پر مبنی ہے جن کی تحریریں معاشرتی اور فکری پہلوؤں پر مشتمل ہوتی ہیں اور اردو ادب میں وہ ایک منفرد لب ولہجے کے بطور جانے جاتے ہیں، اور تیسری نظم ’’روح کے آس پاس‘‘ جذباتی نظم ہے۔ یہ اپنی نسلوں سے ازحد محبت واَٹوٹ تعلق پر مشتمل ہے۔ چوں کہ اِن نظموں میں فرد کے باطنی تجربات، یادیں اور ذاتی احساسات کو بیان کیا گیا ہے، اِس لیے یہ نظمیں بھی خاصی اہمیت رکھتی ہیں۔ مختصراً یہ کہ حمید سہروردی نثر ونظم ہر دوصنف میں کمال وجمال کے ساتھ اپنے مالہ وماعلیہ کا اظہار کرتے ہیں۔
علاوہ ازیں ہم یہ کہے بغیر بھی نہیں رہ سکتے کہ یہ پہلی ایسی کتاب ہماری نظر سے گزری ہے جس کےاکثر مضامین بشکریہ ماخوذ ہیں، اور اکثر گوشوں کے اخیر میں مختلف تاثرات دیے گئے ہیں۔ مضامین کے اخیرمیں تاثرات کا ہونا توسمجھ میں آتا ہے کہ اُن کے ذریعے موضوع سخن شخصیت کے افہام وتفہیم میں معاونت ہوتی ہے لیکن مضامین ماخوذ در ماخوذ ہوں، یہ سمجھ سے بالا تر ہے۔’’چراغ نور‘‘ میں شمولیت سے پہلےاگر اِن مضامین پر اَز سر نو اِک نظر ڈال دی جاتی اور حسب ضرورت حذف واضافہ کرلیا جاتا، تو تکرار سے بھی نجات مل جاتی اورجوگوشے کچھ نامکمل رہ گئے تھے اُس کی تکمیل بھی ہوجاتی۔ خیر! ہم اُمید کرتے ہیں کہ حمید سہروردی کے عشاق وپرستار اِس پہلو پرغور کریں گے۔ اِن تمام باتوں سے قطع نظر حمید سہروردی پر یہ ایک بےحد معلوماتی اور قیمتی دستاویز ہے اورقارئین وشائقین کے لیے بیش بہا تحفہ بھی ہے،جس کے لیے مبین احمد زخم اور اُن کے معاونین قابل مبارکباد ہیں۔

