• بدھ. ستمبر 9th, 2026

ہندوستانی مدارس میں دینی وعصری تعلیم کا امتزاج:امکانات اور چیلنجز

Byhindustannewz.in

ستمبر 9, 2026

ڈاکٹر جہاں گیرحسن مصباحی

عہدِ حاضر میں ہندوستانی مسلمانوں کو جن فکری، تعلیمی، معاشی اور تہذیبی چیلنجز کا سامنا ہے، وہ نہ صرف سنگین نوعیت کے ہیں؛ بلکہ ملت کے مستقبل کی بقا اور اِستحکام کے لیے براہِ راست لمحۂ فکریہ بھی ہیں۔ کسی بھی قوم کی ترقی کا انحصار اِس بات پر ہوتا ہے کہ وہ اپنے ماضی کے ورثے کو محفوظ رکھتے ہوئے حال کے تقاضوں سے کیسے ہم آہنگ ہوتی ہے اور مستقبل کے لیے کیا لائحہ عمل مرتب کرتی ہے۔ برصغیر ہندوپاک میں مسلمانوں کی دینی، تہذیبی اور فکری بقا میں جن اداروں نے کلیدی اور تاریخ ساز کردار ادا کیا ہے، اُن میں مدارس سرفہرست ہیں۔ تاہم؛ گلوبلائزیشن، تیز رفتار سائنسی ترقی، معاشی تلاطم اور جدید فکری تحریکوں کے اِس عہد میں مدارس اور مسلم معاشرہ جس دوراہے پر کھڑا ہے، وہاں جذباتی نعرے بازی یا روایتی دفاعی اندازِ فکر سے کام نہیں چلایا جا سکتا۔
آج جب دنیا گلوبلائزیشن اور تیز رفتار سائنسی ترقی کے مرحلےسے گزر رہی ہے، مدارس کا نصاب اور نظامِ تعلیم ایک مستقل بحث کا مرکز بنا ہوا ہے۔مسلمانوں کی معاشی پسماندگی کا سائنسی، عددی مطالعہ اور زکاۃ و وقف جیسے اسلامی مالیاتی نظام کو پائیدار معاشی ترقی کے لیے استعمال کرنے کے عملی لائحہ عمل پر غوروخوض ہورہا ہے۔ زبان کا زوال محض ایک لسانی مسئلہ نہیں؛بلکہ ایک پوری قوم کے فکری و تہذیبی سرمائے کا زوال ہے، جسے ڈیجیٹل عہد کے تقاضوں سے ہم آہنگ کر کے کیسے بحال کیا جائےاِس سلسلے میں گفتگو ہورہی ہے۔چناںچہ زیرِ نظر مجموعۂ مقالات اور اُس کے تفصیلی تجزیات؛دراصل اُسی فکری، تعلیمی اور معاشی خلا کو پُر کرنے کی ایک انتہائی سنجیدہ، معروضی اور مفیدکوشش کے مظہر ہیں۔ یہ مجموعہ اِس بات کا احاطہ کرتاہے کہ ہندوستانی مسلمان؛ بیک وقت دو محاذوں پر جنگ لڑ رہے ہیں:
ث اپنی دینی اور تہذیبی شناخت ( دینی مدارس اور اُردو زبان) کے تحفظ کے لیے کوشاں ہیں۔
ث عصری تعلیم کے فقدان، معاشی محرومی، بے روزگاری اور سماجی پسماندگی کی دلدل سے نکلنے کے لیے تگ و دو کررہے ہیں۔
لہٰذاہمارےاِس مطالعے کا بنیادی محور اور مقصد؛اِس مجموعے کا مرکزی ہدف اور فکری زاویوں کو اُجاگر کرناہے،اِس کے ساتھ ہی اپنے علم وتجربے میں اضافہ کرناہے اورکچھ مناسب محسوس ہواتواِس مجموعے پرمشوراتی اُسلوب میں کچھ خامہ فرسائی کرنے کا ارادہ بھی ہے؛ اِس اُمید کے ساتھ کہ ہماری کم علمی ہماری معاونت کرنے پر آمادہ ہوجائے۔آئیں اب مذکورہ مجموعے پر ایک نظر ڈالتے ہیں،مثلاً:
زیرنظرکتاب ’’سینٹرفار ریسرچ آن مدرسہ ایجوکیشن، جامعہ ہمدرد، نئی دہلی کے زیراِہتمام منعقد سیمینارکے مقالات کا مجموعہ ہے،جس کو وارث متین مظہری، نجم السحراورصفیہ عامرنے اجتماعی طور پر مرتب کیا ہے۔ یہ مجموعہ؛ ایک مقدمہ ،اظہار تشکر،تین ابواب اور ضمیمہ پر مشتمل ہے۔ ہرسہ ابواب اِنتہائی وقیع، فکری اور تقاضائےوقت کی اہم ترین ضرورت کے مطابق ہیں۔اِس مجموعۂ مقالات کی ترتیب و اِشاعت کا مقصدکیا ہے اِس کو بیان کرتے ہوئے مقدمہ نگار لکھتےہیں:
’’دورِ جدید میں تیز رفتار سماجی و تمدنی ترقیوں کی بنیاد پر ضرورت اِس بات کی ہےکہ مدارس کےاہداف ومقاصد کو مزید وسعت دی جائے، اس کے دائرے کو اور بڑھایا جائے نہ یہ کہ برعکس طورپر اُسے محدود تر رکھنے کی کوشش کی جائے۔…مدارس سے متعلق سنجیدہ تحقیقات و مطالعات کو فروغ دینے اور ہندوستان کے دینی مدارس کے لیے عصری جامعات سے استفادے کی راہیں ہموار کرنے کی کوشش کی جائے۔‘‘ (ص:۱۱)
تعارف وتجزیہ:باب اول: اِس باب کے تحت کل آٹھ مضامین ہیںاور ہرمضمون؛ دینی و عصری تعلیم کے تشخص کے ساتھ نصابی امتزاج واشتراک پر فوکس کرتا ہے ، مثلاً:
۱۔مدارس میں عصری تعلیم کی ضرورت: چند قابل غور نکات: یہ مضمون ؛اِس حقیقت کو اُجاگر کرتا ہے کہ عہدحاضر میں صرف دینی علوم پر اِکتفا کرنا طلبا کو عملی میدان میں بے شمار مشکلات سے دوچار کر سکتا ہے،اِس لیے معاشی خود کفالت، معاشرے میں مثبت اثرات مرتب کرنے اور جدید فکری حملوں کا مسکت جواب دینے کے لیے عصری علوم ( معاشرتی علوم، بنیادی سائنسی معلومات اور جدید ٹیکنالوجی) کا حصول وقت کا اہم تقاضا ہے۔بقول سفیان قاسمی:’’مدارس میں ایک ایسے قابل عمل متوازی نظام تعلیم جدیدکی امتزاجی شمولیت کی متقاضی ہے جو ایک طرف عہد حاضر کے مطالبات اور اُس کے منطقی تقاضوں کا احاطہ کرسکے تو دوسری طرف مدارس کے اپنے نظام تعلیم وتربیت کی مقصدی اہمیت و معنویت بھی متاثر نہ کرسکے۔‘‘ پھرحاصل کلام کےطورپر لکھاگیاہےکہ’’ مدارس میںعلوم عصریہ کی امتزاجی شمولیت خواہ اُس کی نوعیت فنی ہو کہ علمی ہو اُس کے نصاب ونظام مدارس میں مقصدی نصب العین سے مغایرت نہیں پائی جاتی ہے بلکہ قدیم دور کے ہمارے اکابر کی فکری وسعت اور مستقبل شناس فراست کے زیر اثر اس نوع کے اقدامات ہمارے لیے مہمیز ومثال کی حیثیت رکھتے ہیں۔اِس لیے وقت کے رہتے بالاتر قوتوں کے بالاجبار تنفیذی احکام سے قبل کیوں نہ اس سمت مثبت اقدامات پر سنجیدہ غوروفکر کرلیا جائے۔‘‘ (ص:۱۹-۲۱)
۲۔ دینی مدارس میں عصری تعلیم: اِس تحریر میں اِس بات کا جائزہ لیا گیا ہے کہ مدارس میں کس حد تک اور کس نوعیت کی عصری تعلیم دی جانی چاہیے۔ اِس میں اِس بات کی نشاندہی کی گئی ہے کہ عصری تعلیم کو مدارس کے بنیادی دینی نصاب (درسِ نظامی) پر بوجھ بننے کے بجائے اُس کا تکمیلی (Complementary) حصہ ہونا چاہیے؛ تاکہ فارغ التحصیل بیک وقت دین و دنیا دونوں میں اپنی صلاحیتوں کا لوہا منوا سکیں۔صاحبِ مضمون نے دینی تعلیم کو متأثر کیےبغیر عصری تعلیم کی شمولیت پرگفتگو کرتے ہوئے اس کی تین صورتیں بتائی ہیں:
(۱)دسویں تک دینی و عصری اداروں کا مشترکہ نصابی تعلیم ہو۔
(۲)دورۂ حدیث سے فراغت کے بعد تین سالہ عصری نصاب کے مطابق تعلیم ہو۔
(۳)درجہ اعداریہ-درجہ چہارم تک درس نظامی کے ساتھ عصری علوم کی بھی دو کلاسیز ہوں۔
لہٰذا ’’بدلتے ہوئے حالات میں اگر ہم نے اس طرف توجہ نہیں دی اور جیسے ہمارے بزرگوں نے اپنے زمانہ کے لحاظ سے تعلیم و تربیت کا نظام بنایا تھا، اگر ہم نے ملحوظ نہیں رکھا تو علماء پر اسلام کی دعوت اور تشریح و ترجمانی کا جو فریضہ عائد ہوتا ہے، اندیشہ ہے کہ مستقبل میں وہ اس کو صحیح طور پر ادا نہیں کر پائیں۔‘‘ (ص:۳۵-۳۶)
۳۔ مدارس میں دینی اور عصری تعلیم کا امتزاج:یہ مضمون؛ امتزاج (Integration) کے عملی طریقوں سے بحث کرتا ہے۔ اِس میں اِس نکتہ کو واضح کیا گیا ہے کہ امتزاج کا مطلب دینی نصاب کو کم کرنا نہیں ہے؛ بلکہ دونوں نظاموں کو اِس خوش اسلوبی سے باہم مربوط کرنا ہے کہ طالب علم ایک معیاری عالمِ دین بننے کے ساتھ ساتھ جدید عہد کے تقاضوں سے بھی پوری طرح آگاہ اورباخبرہو۔
مضمون نگارکے بموجب:’’اِس وقت مدارس اسلامیہ کے سامنے جو چیلنج ہیں اُن کا مقابلہ ہمت و بصیرت سے کرنا ہوگا۔ روایتی طریقوں کی کمیوں کو دور کرنا ہوگا اور نئی مفید اصلاح کے لیے اپنے ذہن کی کھڑکیاں کھولنی ہوںگی۔ قدیم صالح اور جدید نافع اُصول پر عمل کرنا ہوگا۔‘‘ (ص:۴۹)
۴۔ مدارس میں دینی وعصری تعلیم کا امتزاج: امکانات اور چیلنجز:یہ مضمون؛ موضوع سخن کا مرکزی نکتہ ہے؛ جس میں واضح کیاگیا ہےکہ انسانی ارتقا اور فلاح کے لیے علم سب سے موثر ذریعہ ہے۔ اسلام میں علم کا تصور اِنتہائی وسیع ہے جہاں دین اور دنیا کی کوئی تفریق نہیں۔ ہر وہ نافع علم جو انسانیت کی بہتری اور معرفتِ الٰہی کا ذریعہ بنے، مطلوب ومقصودہے۔ اسلام دینِ فطرت ہونے کی بنا پر روحانی اور مادی دونوں تقاضوں کی تکمیل چاہتا ہے۔عصرِ حاضر کے پیچیدہ چیلنجز، سائنسی ترقی اور اخلاقی زوال نے دینی اور عصری تعلیم کے مابین حائل خلیج کو ختم کرنا ناگزیر بنا دیا ہے۔ دینی طلبا کو عصری تقاضوں سے نابلد اور عصری طلبا کو دینی اقدار سے محروم رکھنے کے بجائے، دونوں کا امتزاج ایک متوازن شخصیت کی تعمیر کرتا ہے۔مدارس پر یہ فرض عائد ہوتا ہے کہ وہ وقت کے تقاضوں کو سمجھتے ہوئے ایسا متوازن نصاب ونظام ترتیب دیں جو افراط و تفریط سے پاک ہو۔ اس نظام ونصاب میں قرآن، سنت، فقہ اور علومِ آلیہ کی مضبوط بنیادوں کے ساتھ ساتھ معاشیات، عمرانیات، انگریزی اور جدید ٹیکنالوجی کو شامل کیا جائے، جب کہ علومِ عالیہ کا تقدس برقرار رکھا جائے۔ غیر ضروری اور متروک مباحث کا اختصار کر کے اُس امتزاج کے لیے بآسانی جگہ بنائی جا سکتی ہے۔دینی و عصری تعلیم کا یہ امتزاج وقت کی اہم ترین ضرورت ہے، جو مدارس کے فارغین کے لیے روزگار کے نئے دروازے کھولنے کے ساتھ ساتھ امتِ مسلمہ کو ایسے روشن فکر قائدین اور محققین فراہم کرے گا جو دورِ جدید کے تمام چیلنجز کا کامیابی سے مقابلہ کر سکیں۔
صاحب مضمون کے بموجب:’’ہم بنیادی طورپر دینی علوم (قرآن وسنت) کو مقصود اور محور بناکر عصری علوم و فنون کو تبعاًوضمناًپڑھانے کے داعی ہیں، ہم انگریزی کو کمزور مضمون کی حیثیت سے شامل درس کردینے اور چند ضمنی مضامین کااضافہ کردینے کو کافی نہیں سمجھتے، بلکہ ہم معاشیات، سیاسیات، نفسیات اور طبیعیات اور مفید انسانی علوم کو اسلامی فلسفہ ٔ حیات کے نقطۂ نظر سے تحقیق کے اعلیٰ معیار پر اور زندہ اسلوب میں پڑھاکر وہ انسانی گروہ تیار کرنے کے پابند ہیں، جومغرب کے مقابلے میں میدان میں آئے اور اِنسانیت کی صحیح سمت میں رہنمائی کرے۔‘‘ (ص:۶۳)
۵۔ اسلامی روایت میں وحدت تعلیم اور مدارس کا موجودہ نصاب: ایک تجزیاتی مطالعہ:یہ ایک تاریخی اور فکری مطالعہ ہے۔ اس مضمون میں اُس تاریخی حقائق کو واضح کیا گیا ہے کہ اسلام کی ابتدائی اور زرّیں صدیوں میں ’’دینی‘‘ اور ’’عصری‘‘ یا ’’دنیوی علوم‘‘ کی کوئی الگ تقسیم نہیں تھی؛ بلکہ تمام علوم کو اللہ سبحانہ کی معرفت کا ذریعہ سمجھا جاتا تھا۔ موجودہ عہدمیں جو تفریق پیدا ہو گئی ہے؛یہ مضمون اُسی کے اسباب پر بحث کرتے ہوئے اسلافِ امت کے جامع تعلیمی نظام کی طرف صالح اور صادق نیت کے ساتھ رجوع کرنے کی تلقین کرتا ہے۔محرر کے بموجب:اسلام نےاپنے بنیادی مآخذقرآن و سنت کے ذریعے نصاب تعلیم کے سلسلے میںوحدت کا نظریہ پیش کیا اور اپنی تاریخ میں اسی فکر کو پروان چڑھانے کی کوشش کی۔ …تاہم؛ مسلم تاریخ کے عہد زوال بالخصوص برصغیر ہند کے تناظر میں مسلم معاشرے کا یہ رویہ تبدیل ہوتا ہوا دکھائی دیتا ہےاور اپنے سیاسی، تہذیبی وفکری عہد زوال میںوحدت تعلیم کے بجائے ثنویت کا قائل نظر آتا ہے۔ …اُنیسویں اور بیسویں صدی کے مسلم علماء اور دانشوروں کے ذہنوں میں بھی ثنویت کی تعلیم بخوبی سرایت کرچکی تھی؛جس کے باعث اُنھوں نےاپنے آپ کو صرف دینی تعلیم کی اشاعت اور حصول تک محدود کرلیا تھا۔ اکیسویں صدی ہندوستانی مدارس کانصاب واضح کرتاہے کہ وقت اور حالات کے تقاضوں کو مدنظر رکھتے ہوئے نصاب اور طریقہ تدریس میں جس بڑے پیمانے پر تبدیلی کی ضرورت تھی؛ وہ اب تک نہیں ہوسکی ہے۔(ص:۹۹-۱۰۱)
۶۔ دینی مدارس میں عصری تعلیم نئے تجربات کا تجزیاتی مطالعہ: ہندوستان کے تین مدارس(جامعۃ الفلاح اعظم گڑھ، جامعہ سید احمد شہید لکھنو، جامعۃالعلوم گجرات) نے گزشتہ ایام میں عصری تعلیم کو اپنے نصاب میں شامل کرنے کے جو عملی تجربات کیے ہیں، یہ مضمون اُن کا احاطہ کرتا ہے۔ نصاب سے متعلق مفید پہلوؤں کی تحسین کی گئی ہےکہ اس کے باعث فارغین کے لیےعصری جامعات کا رخ کرنا آسان ہوجاتا ہے اور غیرمفید پہلوؤں کی نشاندہی کی گئی ہے کہ نصاب تو ہے لیکن غیرمرتب ہے جس کی وجہ سے مقابلہ جاتی امتحان سے لے کر حکومتی اداروں میں ملازمت کے لیے دشواری پیش آتی ہے۔اِس لیے نصاب تیارکرلیناکافی نہیں بلکہ مرتب اور دیرپانصاب پر توجہ دینالازم ہے۔جیساکہ مضمون نگار لکھتے ہیں:
’’ہمارے مدارس نے ایک طویل عرصہ تک اس معاملے پر غور وخوض کے بعد جب دسویں تک کی تعلیم کو نصاب میں شامل کیا، تو اُس وقت تک دسویں کی اہمیت ختم ہوچکی تھی، نئی تعلیمی پالیسی میں بارہویں کی اہمیت زیادہ ہوگئی ہے۔ اب ایک نیا چیلنج ان تینوں مدارس کے سامنے ہے۔ دیکھنا یہ ہے کہ وہ اس چیلنج سے کیسے نمٹتے ہیں۔‘‘ (ص:۱۱۷)
۷۔ مدارس میں عصری و دینی علوم کا امتزاج: حسین احمدمدنی اور عبیداللہ سندھی کے افکار کی روشنی میں:برصغیر کےمشہور ومعروف علما؛مولانا حسین احمد مدنی اور مولانا عبیداللہ سندھی کےتعلیمی وتربیتی نظریات اِس باب کا محور ومرکزہیں؛ جن افکار ونظریات میں بالخصوص اِس پہلو پر فوکس کیاگیاہے کہ مدارس کے نظام کو عصری تقاضوںسے ہم آہنگ ہونا چاہیے؛ تاکہ دینی طبقہ اپنا تشخص برقرار رکھنے کے ساتھ سیاست وسماج ،معاش واقتصاد، صنعت وحرفت اور حفظان صحت کے میدان میں بھی امامت وقیادت کے فرائض بخوبی انجام دے سکے۔چناںچہ صاحب مضمون ؛فارغین مدارس کے لیے عملی شاہراہ کی اُستواری سے متعلق لکھتے ہیں:’’یہ مدرسے اگر دین کی فہم اور دین کی تبلیغ کے لیے قائم کیے گئے ہیں توجب تک اُن طلبہ کے ذریعہ زندگی کے کسی بھی مرحلےمیں کسی بھی زاویے سے دین کو خود کی زندگی میں نافذ کرنے یا دینی تبلیغ کے لیے عملی جد وجہد کا اظہار نہیں ہوگا مدرسوں کی افادیت کماحقہ تسلیم نہیں کی جائےگی۔ اس لیے ضروری ہے کہ اوّلاً معاشرے میں دینی رجحانات پیدا کیے جائیں اور طلبہ کو زمینی سطح پر کام کرنے کی کچھ عملی تربیت بھی دی جائے۔‘‘ (ص:۱۳۶)
۸۔ ہندوستانی مدارس میں دینی و عصری تعلیم: ایک تقابلی مطالعہ: یہ مضمون؛ روایتی مدارس (جو صرف درسِ نظامی پڑھاتے ہیں) اور جدید اصلاحی مدارس (جو دینی تعلیم کے ساتھ عصری تعلیم بھی دے رہے ہیں) کا تقابلی جائزہ پیش کرتا ہے۔ اس میں دونوںنظام کے نفع و نقصان، طلبا کے معیارِ تعلیم اور سماجی قبولیت کا احاطہ کیا گیا ہےاور قدیم وجدید کے مابین تفرین کی دیوار گرانے کی وکالت کرتے ہوئےمضمون نگار اِس نتیجے پہنچے ہیں کہ ’’ مقاصد تعلیم اور نصاب کی تدوین و ترتیب اس طرح کی جائےکہ تمام افراد چاہے وہ ڈاکٹر ہوںیا انجینئر، استاذ ہوں یا وکیل، تاجر ہوں یا کسی اور پیشے سے متعلق ہوں، اپنے پیشے میں مہارت کے علاوہ اوّل و آخر صحیح مسلمان ثابت ہوں۔‘‘ (ص:۱۵۱)
تعارف وتجزیہ:باب دوم:اِس باب میں کل چھ مضامین ہیں؛جو مدارس کے نظام ونصاب، تدریسی روایات اور معاصر دنیا میں اُن کے کردار کا احاطہ کرتےہیں،مثلاً:
۱-۲۔ ہندوستان کے مدارس میں تحقیق و تصنیف کی صورت حال اور موجودہ منظر نامہ: یہ دونوںمضامین اِس تلخ حقیقت سے پردہ اُٹھاتے ہیں کہ ماضی میں فضلائےمدارس نے علومِ اسلامیہ، فقہ، تفسیر اور لغت میں جو گراں قدر تحقیقی سرمایۂ حیات چھوڑا ہے، عصرِ حاضر میں اس روایت میں سستی یا جمود کے آثار نمایاں ہیں۔ موجودہ عہد میں تحقیق کا دائرہ کار؛زیادہ تر قدیم حواشی اور شرح و تسہیل تک محدود ہو کر رہ گیا ہے۔ جب کہ جدید دور میں فکری اور علمی مباحث کی نوعیت یکسر بدل چکی ہے۔ مدارس میں تحقیقی معیار کو بلند کرنے کے لیے محض روایتی اسلوبِ نگارش کافی نہیں؛ بلکہ معاصر علوم ( معاشیات، عمرانیات اور تقابلی مذاہب) سے ہم آہنگ ہو کر تحقیق کرنے کی اشد ضرورت ہے۔خوش آئند بات یہ ہے کہ اب بعض بڑے اداروں میں تخصص (Specialization) کے شعبے قائم کیے گئے ہیں، جنھیں مزید مستحکم کرنے اور عصری تقاضوں سے ہم آہنگ کرنے کی گنجائش موجود ہے۔جیساکہ ڈاکٹر تجاروی صاحب تصنیف و تحقیق کے متعلق اپنا عندیہ کچھ یوں ظاہر کرتے ہیں:
’’ یقیناً کچھ پہلو خوش آئند ہیں اور کچھ پہلو ایسے ہیں جن میں نظر ثانی کرنے کی ضرورت ہے۔ اگر مدارس کے اندر رائج منہاج تحقیق اور طرز تصنیف کو مزید بہتر بنایا جائے تو امید ہے کہ اس سے اور بھی اچھے نتائج سامنے آئیں گے۔‘‘(ص:۱۹۱)
۳۔ ہندوستانی مدارس: ماضی کا تجزیہ، حال پر تبصرہ اور مستقبل کا لائحہ عمل : اِس تحریرمیں اِس حقیقت کو آشکار کیا گیا ہے کہ ہندوستان میں مسلمانوں کے زوال کا آغاز فارسی کو سرکاری زبان کے درجے سے ہٹانے اور۱۸۵۷ء کی جنگِ آزادی کے نتیجے میں مغلیہ سلطنت کے مکمل خاتمے سے ہوا، جس کے بعد سے ہی مسلمان؛ مسلسل داخلی و خارجی بحرانوں سے برسرِ پیکار ہیں۔ اس زوال کی بنیاد یہ بنی کہ دیگر اقوام نے زمانے کے بدلتے تقاضوں کو اپنا لیا، جب کہ مسلمان تذبذب کا شکار ہو کر دو طبقوں میں تقسیم ہو گئی:ایک طبقہ محض دینی/مدارس کی تعلیم تک محدود رہا اور دوسرا صرف عصری و دنیوی علوم تک۔ مزید برآں، مدارس کے مابین بھی معقولات اور منقولات کی تقسیم اور پھر مسالک و نظریات کی شدت نے مسلمانوں کو مزید ابتروکمزور کیا۔اب حال یہ ہوگیا ہےکہ ۲۰۰۹ءکارائٹ ٹو ایجوکیشن ایکٹ (RTE) مدارس کو اپنے نظام اور نصاب پر ہنگامی انداز سے نظرِ ثانی پر مجبورکردیا ہے۔ اگر اہل مدارس نےنظام ونصاب ِمدارس میں بدلتے قانونی تقاضوں کو نہ اپنایا تو وہ یا تو مرکزی دھارے سے مکمل طور پر کٹ جائیں گے یا پھر قانونی پیچیدگیوں کا شکار ہو جائیں گے۔ لہٰذا؛ مدارس کے نظام و نصابِ تعلیم میں وقت کے مطابق تبدیلی اب بالکل ناگزیر ہو چکی ہے؛ تاکہ بدلتے ہوئے حالات کا مقابلہ پائیداری کے ساتھ کیا جاسکے۔
صاحبِ مضمون بھی مستقبل کا لائحہ عمل بتاتے ہوئے اِس نتیجے پر پہنچتے ہیں کہ ’’مدارس کو اپنا مزاج و منہاج کی اصلاح بلکہ تبدیلی کے لیے بڑے فیصلے لینے ہوں گے۔…بہتر ہوگا کہ بریلوی، دیوبندی، اہل حدیث، جماعت اسلامی اور شافعی مکاتب فکر کے ارباب حل وعقد عصری مقتضیات کے تحت متفقہ طور پر مرکزی بورڈ کا مطالبہ کریں۔ جب تک یہ بورڈ قائم نہیں ہو جاتا کم از کم اپنا متحدہ یا جُداگانہ وفاق قائم کرکے تبدیلی نصاب و نظام کے حوالے سے خود بڑھ کر بڑے فیصلے لیں، بصورت دیگر علاحدگی پسندی یا چشم پوشی کے رجحانات مدارس کو بہت دیر تک باقی نہیں رہنے دیں گے۔‘‘ (ص:۲۰۷)
۴۔ فکر اِسلامی کو درپیش جدیدیت کا چیلنج اور مدارس اِسلامیہ: یہ مضمون اُس فکری کشمکش سے بحث کرتا ہے جو مغربی جدیدیت (Modernism)، مابعد جدیدیت (Postmodernism) اور سیکولرزم کی یلغار کی وجہ سے اسلامی فکر کو درپیش ہے۔ابھی تک مدارس نے اس محاذ پرمحض روایتی دفاعی انداز اپنایا ہے؛ حالاںکہ ضرورت ایک فعال اور اجتہادی رویے کی ہے۔کیوں کہ جدیدیت نے انسانیت کے سامنے اخلاقی، خاندانی اور معاشرتی بحران کھڑے کر دیے ہیں۔ مدارس سے وابستہ اسکالرز کا یہ فریضہ بنتا ہے کہ وہ جدید فکریات کا گہرا اور تنقیدی مطالعہ کریں اور اِسلامی تعلیمات کی روشنی میں اُن کا عقلی دلائل پر مبنی متبادل پیش کریں۔اس کے لیے طلباو اساتذہ کو جدید فلسفے اور فکری تحریکات سے روشناس کرانا وقت کی اہم ترین ضرورت ہے۔بقول مضمون نگار:
’’جس طرح مغرب میں اسلام اور اسلامی علوم کے مطالعہ و تحقیق کے لیے استشراق کو رواج دیا گیا اسی پیٹرن پر عالم اسلام میں مغرب کو سمجھنے اور اس کی فکر پر مطالعہ و تحقیق کے لیے استغراب (مطالعہ غرب) کا سلسلہ قائم ہونا چاہیے تھا جو افسوس کہ نہیں ہوسکا اور اب بھی مسلم دنیا میں ایسا کوئی ادارہ نہیں ہے جہاں اس موضوع پر کام کیا جاتا ہو۔ ایسا ادارہ یا ایسے افراد تیار کرنا جو اسلام کے عالم ہونے کے ساتھ ہی مغربی فکر کے بھی ماہر ہوں وقت کی اولین ضرورت ہے۔‘‘ (ص:۲۱۹)
۵۔ درس نظامی اور دیگر نصابہائے تعلیم:ایک تقابلی مطالعہ : درسِ نظامی؛ صدیوںسے برصغیر کے مدارس کی ریڑھ کی ہڈی رہا ہے، تواِس مضمون میں درسِ نظامی کے تاریخی ارتقا کا جائزہ لیتے ہوئے اُس کے موجودہ مندرجات کا معاصر تعلیمی اداروںاور دیگرمتفرق نصابوں کے ساتھ تقابلی مطالعہ پیش کیا گیا ہے۔واضح رہےکہ درسِ نظامی کی خصوصیت یہ ہے کہ وہ طلبا کو عربی زبان، فقہ، اصولِ فقہ اور کلام ومنطق میں راسخ کرتا ہے۔ تاہم؛ عصرِ حاضر کے تقاضوں کے پیشِ نظر اُس میں انگریزی ، کمپیوٹر کی بیسک تعلیم، معاصر معیشت اور دنیا کے بدلتے ہوئے سیاسی وسماجی نظام کادرک و فہم کی شمولیت ناگزیر ہو چکی ہے۔لہٰذامختلف مکاتبِ فکر کے مدارس کے نصابوں میں تطبیق اور اِفہام و تفہیم کی فضا پیدا کرنے کی کوشش کی گئی ہے اورایک متبادل نظام ونصاب کی راہ سجھائی گئی ہے۔کیوں کہ بقول مضمون نگار:
’’نصاب کے مسئلے میں مدارس کی مجموعی صورت حال ایک بہت ہی دگرگوں تصویر پیش کرتی ہے۔ نصاب تعلیم کے بنیادی اجزا (Elementary Components)میں یکسانیت(Uniformity)، نصاب کے بچوں کی عمر اور نفسیات کے موافق معیاری مواد اور جدید علوم کی اسلامی کتب نصاب کی کمیاں وہ تین اُمور ہیںجو اپنی طرف پوری شدت سے توجہ کھینچتی ہیں۔ ایک لفظ میں کہنا چاہیےکہ مدارس کے نصاب بندی ایک امر ناگزیر ہے اور اس راہ میں ابھی تک جو کچھ کیا جارہا ہے، ناکافی ہے۔‘‘ (ص:۲۴۸)
۶۔ فارغین مدارس: چیلنجز اور مواقع : اس تحریر میں مدارس سے فارغ ہونے والے ہزاروں طلبا کے مستقبل، اُن کے روزگار، معاشرتی خدمات اور اُن کے سامنے موجود مشکلات ومسائل کا احاطہ کیا گیا ہے۔چوں کہ مدارس کے فارغین کی اکثریت کے لیے روزگار کے مواقع یا تو مساجد و مکاتب کی امامت و تدریس تک محدود ہوتے ہیں یا پھر وہ دارالافتاء وتخصص تک محدود رہتے ہیں۔ لہٰذاضرورت اِس امر کی ہے کہ فارغینِ مدارس کو میڈیا، صحافت، قانون، بین الاقوامی تعلقات اور سول سروسز جیسے میدانوں میں بھی اپنی صلاحیتوں کا لوہا منوانے کے لیے تیار کیا جائے؛ تاکہ وہ امت کی رہنمائی ایک وسیع تر کینوس پر کر سکیں۔جیساکہ مضمون نگار لکھتے ہیں:’’مدارس کے فارغین کے لیے مساجد کی امامت، طبابت، مدارس میں درس و تدریس کے علاوہ بھی سماج کو رہنمائی کی ضرورت ہے۔ عالم دین جو بیک وقت دینی و دنیاوی رہنمائی کرسکے۔ وقت کا تقاضا ہے کہ امام المساجد کے بجائے امام الناس بن کر قوم کی خدمت کی جائے۔‘‘(۲۶۱)
تعارف وتجزیہ:باب سوم:اِس میں’’اصلا ح نصاب:چنداہم پہلو‘‘کے تحت کل پانچ مضامین ہیں؛جو یہ احساس کراتےہیںکہ مدارس کے نظام ونصابِ تعلیم اور اُس کی تاریخ، موجودہ تقاضوں اور درپیش چیلنجز پر مشتمل نہایت اہم موضوعات ہیں،مثلاً:
۱۔ مدارس میں علم کلام کی تعلیم وتدریس: جائزہ و امکانات: روایتی درسِ نظامی میں علمِ کلام (عقائد ) کو مرکزی حیثیت حاصل رہی ہے، جس کا مقصد عقائد کی عقلی دلائل سے دفاع کرنا تھا۔ چناںچہ یہ تحریر اِس امر کا جائزہ لیتی ہے کہ ماضی میں یہ فن؛ فکری اور فلسفیانہ تضادات کے ردّ کے لیے کس قدر کارگر اور مفیدرہا ہے؛ اِس کے باوجودموجودہ عہد میں الحاد، لادینیت (Atheism)، اور جدید مغربی فلسفوں نے علمِ کلام کے پُرانے تناظرات کو کافی حد تک پس پشت ڈال رکھا ہے۔ روایتی متون اب موجودہ نسل کے ذہنی شکوک وشبہات کو رفع کرنے میں بسا اوقات ناکافی معلوم ہوتے ہیں۔چناںچہ یہ اِس بات پر زور دیتی ہے کہ علمِ کلام کو یکسر ترک کرنے کے بجائے اُسے جدید فکری اور سائنسی اسلوب سے ہم آہنگ کیا جائے۔ سائنس اور مابعدالطبیعات (Metaphysics) کے جدید مباحث کو نصاب کا حصہ بنا کر علمِ کلام کو دوبارہ عصر حاضر کے لیے مفید بنایا جا سکتا ہے۔بقول مضمون نگار:’’ہمارے بیشتر مدارس میں ردّ فلسفہ والحاد اور دیگر مذاہب کے جو متون علم کلام کی تدریس کا حصہ ہیں وہ بیشتر از کار رفتہ ہوچکے ہیں اُن کی جگہ نئے فلسفے، الحاد جدید اور دیگر مذاہب اور اہل مذاہب کی جانب سے درپیش نئے چیلنجز کا ردّ؛ مدارس دینیہ کو پڑھانے کی سخت ضرورت ہے۔‘‘(ص:۲۷۷)
۲۔ مدارس میں زبانوں کی تعلیم اور اُس کے مسائل: اسلام کی نشر و اشاعت اور علومِ اسلامیہ کی فہم کے لیے زبانوں پر عبورودسترس بھی ناگزیر ہے۔ مدارس میں عربی اور فارسی کے علاوہ اردو کو مرکزی حیثیت حاصل رہی ہے۔لیکن مشکل یہ ہےکہ روایتی تدریسی طریقۂ کار (قواعد اور صرف و نحو کی طویل بحثیں) جو عملی بول چال اور تحریر پر کم توجہ دیتاہے۔عصری زبانوں ( انگریزی یا علاقائی زبانوں) اور جدید کمپیوٹر وسائنس سے عدمِ مناسب ربط کی وجہ سے طلبا کا دائرہ کار محدود ہو جاتا ہے۔ لہٰذازبان سکھانے کے جدید لسانیاتی اصولوں (Communicative Approach) کو اپنانے پر زور دیا گیا ہے؛ تاکہ طلبا کلاسیکی علوم کے ساتھ ساتھ جدید دنیا سے بھی مکالمہ کرنے کے قابل ہوں۔ چناںچہ مضمون نگار مسائل کا ذکرکرنے کےساتھ اُن کے حل کی تدبیر بھی بتاتے ہیں کہ ’’بعض عملی مسائل اور رکاوٹیں بھی ہیںکہ خواہش کےباوجود مدارس اپنے اہداف حاصل نہیں کرپاتے۔ کم تنخواہوں میں ماہر اساتذہ کی حصولیابی بڑا ہے۔ لیکن آن لائن کلاسوں کے ذریعے اس مشکل پر قابو پایا جاسکتا ہے۔دینی مدارس کے باصلاحیت فارغین اپنے اپنے مقام سے مدارس کو یہ امداد فراہم کرسکتے ہیں۔اسی طرح زبانوں کی تدریس کے کچھ کورس ڈیجٹیلائز کردیے جائیں تو مدارس اُن سے بہت فائدہ اُٹھاسکتے ہیں۔‘‘(ص:۲۹۱)
۳۔ مدارس اسلامیہ میں عربی زبان وادب کی تعلیم: مسائل و امکانات: عربی زبان وادب؛مدارس عربیہ کا طرۂ امتیاز رہاہے، لیکن اکثر مقامات پر عربی زبان کی تعلیم صرف ’’ترجمہ اور عبارت فہمی‘‘ تک محدود رہتی ہے، نہ کہ ’’استعمال اور ابلاغ‘‘ تک۔جس میں اساتذہ کی روایتی روش، سمعی و بصری ذرائع (Audio-Visual Aids) کا فقدان اور جدید عربی ادب سے ناواقفیت اہم مسائل ہیں۔چناںچہ اِس بات کی تحسین کی گئی ہے کہ گزشتہ چند دہائیوں میں بعض مدارس (جامعہ اشرفیہ، دارالعلوم دیوبند،ندوۃ العلماءجامعہ سلفیہ وغیرہ)میں عربی گرامر کے ساتھ ساتھ عصری عربی صحافت، بول چال اور فن خطابت کو بھی نصاب میں جگہ دی گئی ہے، جس کے حوصلہ افزا نتائج سامنے آ رہے ہیں۔لیکن ساتھ ہی یہ کہنے سے بھی گریزنہیں کیا گیا ہےکہ ’’دینی مدارس میں عربی زبان کی تعلیم میں ایک بڑی رکاوٹ یہ بھی ہےکہ مدارس میں عربی کی ایک مکمل زبان کے طورپر تعلیم نہیں ہوتی اور نہ ہی یہ ان مدارس کے نصاب میں شامل ہے، ان کے ہاں عربی سیکھنا اور سکھانا چندقواعد نحویہ اور صرفی صیغوں کانام ہے۔ حقیقت یہ ہےکہ مدارس کی تعلیم دینی مقاصد کے لیے زیادہ موثر اور مفید بنانے کی غرـض سے مروجہ نصاب تعلیم پر از سرنو غور وفکر کرنے کی ضرورت ہے۔‘‘ (ص:۲۹۷)
۴۔ ہندوستانی مدارس کا فقہی نصاب تعلیم: ایک تجزیاتی مطالعہ: فقہِ حنفی اور فقہی اصولوں کی تدریس؛ مدارس کی ریڑھ کی ہڈی ہے۔ الہدایہ، شرح الوقایہ،نورالایضاح،مختصر القدوری اور اُصول الشاشی جیسی کتابیں صدیوں سے نصاب کا حصہ ہیں۔ یہ نصاب طلبا کو گہری فقہی بصیرت اور اِستنباطی صلاحیت تو عطا کرتاہے، تاہم؛ بدلتےوقت کے ساتھ اِس میں خلا بھی پیدا ہوئے ہیں۔نئے مالیاتی، طبی اور معاشرتی مسائل (Contemporary Issues) مثلاً ڈیجیٹل کرنسی، جینیاتی انجینئرنگ اور میڈیکل ایتھکس پر بحث کی کمی۔ فقہِ مقارن (Comparative Jurisprudence) اور اِسلامی قانون کے فلسفے پر کم توجہ۔چناںچہ انہی باتوں کو ملحوظ رکھتے ہوئےاِس اہمیت پر فوکس کیاگیا ہے کہ فقہی نصاب میں فقہِ نوازل (جدید مسائل پر فقہی فیصلے) اور تقابلی مطالعہ کو وسعت دی جائے؛ تاکہ فضلا موجودہ عہد کے عدالتی اور سماجی چیلنجز کا مؤثر حل پیش کر سکیں۔جیساکہ مضمون نگار نے لکھاہے کہ ’’دور جدیدکی معاشی، معاشرتی، سیاسی و صنعتی تبدیلیوں اور جدید ترقیات کے نتیجے میں پیدا ہونے والی دشواریوں کو مد نظر رکھتے ہوئے ہندوستان کے مدارس کے فقہی نصاب تعلیم کی تشکیل ہونی چاہیے تاکہ موجودہ عہد میں پیدا ہونے والے مسائل یا ایسے مسائل جو بدلتے حالات میں بحث و تحقیق کے متقاضی ہیں ان کا حل پیش کیا جاسکے۔‘‘ (ص:۳۱۲)
۵۔ عصر حاضر کے تناظر میں مدارس نسواں کا نظام ونصاب: ہندوستان میں خواتین کی دینی تعلیم کا رجحان گزشتہ چند دہائیوں میں تیزی سے بڑھا ہے، جس کا معاشرے کی فکری اور اخلاقی تربیت میںاپنا ایک کلیدی کردار ہے۔ اکثر مدارسِ نسواں میں لڑکوںوالا نصاب یا اُس کی ایک ہلکی پھلکی شکل پڑھائی جاتی ہے، جو بعض اوقات خواتین کی فطری ذمہ داریوں اور عصری تقاضوں سے پوری طرح ہم آہنگ نہیں ہوتا۔اِس لیے بچیوں کو ملحوظ رکھتے ہوئے تربیتِ اولاد، عمرانیات (Sociology)، نفسیات (Psychology)اور اِبتدائی طب و صحت جیسے مضامین کو نصاب میں شامل کرنے کی ضرورت ہے۔دینی تعلیم کے ساتھ ساتھ ہنر مندی اور عملی صلاحیتوں کی ترویج پر فوکس بھی ضروری ہے؛ تاکہ نسواں بھی ایک باوقار اور باشعور مسلم معاشرے کی تعمیر میں مؤثر کردار ادا کر سکیں۔ مضمون نگارکے بقول: ’’مدارس نسواں کو بھی اس طرف مکمل توجہ درکار ہے کہ وہ اپنے نصاب سے غیرضروری مضامین کو حذف کرکے اہم اور مروجہ مضامین مثلاً تقابل ادیان، تاریخ اسلام کے ساتھ تاریخ ہندوستان وتاریخ عالم، علم جغرافیہ وسیاسیات اور حقوق نسواں کی تحریک اور مغربی تصورات کا جائزہ شامل نصاب کریں تاکہ طالبات میں تجزیاتی فکرو تدبر کی صلاحیت وبیدار ہو۔‘‘(ص:۳۱۸)
خلاصۂ کلام
باب اوّل کےمشمولات سے واضح ہوتا ہے کہ دینی وعصری تعلیم کا امتزاج اب کوئی نظریاتی بحث نہیں رہی؛بلکہ یہ مدارس کی بقا اور اُس کی ترقی کا ضامن بن گیاہے۔ اِن مضامین میں یہ تشویش بھی پائی جاتی ہے کہ عصری تعلیم کی آمیزش سے کہیں ایسا نہ ہو کہ مدارس کی اصل روح متأثر ہوجائے؛لہٰذا، توازن برقرار رکھنا سب سے بڑا چیلنج ہے۔یہ مضامین نظری طور پر اِمتزاج کے حق میں مضبوط دلائل فراہم کرتے ہیں، تاہم؛ زمینی سطح پر اُس کے لیے ایک یونیفارم بورڈ، مستند نصاب اور تربیت یافتہ اساتذہ کی اشد ضرورت ہے؛ جس پر مزید کام کرنے کی گنجائش موجود ہے۔ بعض مضامین سے یہ بات بھی عیاں ہوتی ہے کہ روایتی طبقے کا ایک بڑاحصہ اب بھی اس تبدیلی کو شک کی نگاہ سے دیکھتا ہے، جس کے لیے فکری مباحث اور مکالمے کی ضرورت ہے ؛تاکہ غلط فہمیوں کا اِزالہ ہو سکے۔علاوہ ازیں اِس بات کاغماز بھی ہے کہ اگر مدارس نے وقت کے ساتھ خود کو تبدیل نہ کیا تو وہ معاشرے کےمرکزی دھارے(Main Stream) سے پیچھے رہ جائیںگے۔ ضرورت اِس امر کی ہے کہ اکابرینِ امت کے افکار کی روشنی میں ایک ایسا متوازن نصاب ترتیب دیا جائے جو طالب علم کو باطنی طورپرمتدین عالم اور ظاہری طورپرموجودہ عہد کا ایک فعال ومتحرک فرد بنا سکے۔
باب دوم کے نگارشات؛ مدارس کےہمدردوبہی خواہ مفکرین اور مخلصین کی آواز ہے؛جو اِس بات پرفوکس کرتاہے کہ مدارس کو اپنی عظمتِ رفتہ کی بحالی کے لیے روایت و درایت دونوںکے حسن امتزاج کو اِختیار کرنا ہوگا۔ ماضی کے کارناموں پر اکتفا کرنے کے بجائے حال کے چیلنجز کا اِعتراف کرتے ہوئے مستقبل کے لیے ایک مربوط اور روشن حکمتِ عملی مرتب کرنا ہی مدارس کی اصل بقا اور ترقی کا ضامن ہے۔
باب سوم ؛مدارس کے نظام ونصابِ تعلیم کا ایک بے باک، منصفانہ اور مصلحانہ جائزہ پیش کرتاہے۔ اِس کا بنیادی پیغام یہ ہے کہ مدارس اپنے اسلاف کے ورثے کو برقرار رکھتے ہوئے وقت کے تقاضوں کے مطابق اپنے نظام ونصاب میں لچک اور وسعت پیدا کریں؛ تاکہ فارغین مدارس جدید عہد کے چیلنجز کا مردانہ وار مقابلہ کر سکیں۔
اِ ن تمام محاسن کے باوجودکچھ معائب بھی ہیں جن سے صرف نظر کرنا ممکن نہیں ، مثلاً: مشمولہ مضامین کے بیشتر محررین نظریاتی اور مسلکی اعتبار سے ایک دوسرے سےبےحد قریب ہیں؛بلکہ ایک دوسرے کے ہم خیال و ہمراز ہیں۔نتیجتاً تحریریں محدود،مسلکی اور یک رُخی ہوگئی ہیں۔حالاںکہ یہ مجموعہ؛ ہندوستانی تناظر میں مرتب کیا گیا ہےتو اِسےہمہ جہت ہونا چاہیےتھا۔ یہ بھی محسوس ہوتاہے کہ بعض تحریریں بطور تبرک اورتالیفاًشامل کرلی گئی ہیں۔ کچھ مضامین ایسے بھی ہیں جن کے عنوانات توہمہ گیری اور وسیع الفکری اہمیت کے ہیں لیکن بلحاظِ مواد یک نظری اورمحدود الفکر معلوم پڑتےہیں، جیسے:ڈاکٹر سیدعبدالرشید کامضمون: ’’ دینی مدارس میں عصری تعلیم :نئے تجربات کا تجزیاتی مطالعہ‘‘جس میںصرف تین مدارس:جامعۃ الفلاح، جامعہ سید احمد شہید اور جامعۃ العلوم کے نصابی تجربات پیش کیے گئے ہیں، جب کہ دیگر مدارس نےبھی نئے تجربات کیے ہیںجنھیں شاملِ مضمون کرنا مناسب تھا۔ ممکن ہےکہ موصوف کے علم میں یہ بات ہی نہ آئی ہو، یا پھراُنھوں نےقصداً ومسلکاًنظر انداز کررکھاہو۔اِس تعلق سے جامعہ عارفیہ، سیدسراواں کا ذکر ناگزیر ہوجاتاہے کہ ہمارے علم کے بموجب:یہ جامعہ؛نصاب جدیدکے سلسلے میں نئے تجربات کی بہترین مثال ہے۔ پھراگر موصوف اپنے عنوان میں لفظ ’’چند‘‘ کا سابقہ استعمال کرلیتے تو جانب داری جیسے نامناسب وصف سے محفوظ ہوجاتے۔ خیر!
اُسی طرح پروفیسر فہیم اختر ندوی کا مضمون ’’ہندوستان کے مدارس میں تحقیق و تصنیف کی صورت حال:ایک جائزہ‘‘ جس میں تحقیق وتصنیف کے تین ادوار بیان کیےگئے :پہلے دور میںگیارہ(۱۱) ہم خیال وہم فکر محققین ومصنفین کاذکرکیا گیاہے،جب کہ مخالف فکر محققین ومصنفین میں سے صرف دو(۲)کا ذکر ہواہے؛حالاں کہ پہلے دور سے متعلق مخالف فکر محققین ومصنفین کی ایک لمبی فہرست ہے۔ دوسرے دور میں بھی ندوی محققین ومصنفین کا غلغلہ ہے، باوجودیکہ دوسرے دورسے متعلق مصباحی،علیمی اور مظاہری وقاسمی محققین و مصنفین کی ایک بڑی تعداد ہے۔ دوسرے دور کےتحقیقی اداروں میں بھی بالترتیب:مجلس تحقیقات و نشریات اسلام، ندوۃ المصنفین، دارالمصنفین اورفرقانیہ اکیڈمی کا ذکرملتا ہے، لیکن اُسی دور سے متعلق المجمع الاسلامی، دارالقلم نئی دہلی، رضااکیڈمی ممبئی،دارالاشاعت پھلواری وغیرہ کا کچھ ذکر نہیںملتا؛یہاں تک کہ ۱۸۸۱ء میں قائم خدابخش لائبریری کو بھی نظرانداز کردیا گیاہےجس کی تحقیق و تصنیف میں اپنی تاریخی حیثیت ہے۔ بعینہ تیسرے دور کے محققین و مصنفین اورتحقیقی اداروں کے ذکر میں بھی مسلکی ونظریاتی اَثر نمایاں ہے، جب کہ ڈاکٹر ذیشان احمد مصباحی(جن کا مضمون زیرنظرمجموعے میں شامل ہے)جیسے بیشترمحققین ومصنفین اور شاہ صفی اکیڈمی (۲۰۱۰ء) جیسے مختلف اداروں کی تحقیقی وتصنیفی خدمات بھی ناقابل فراموش ہیں۔ اِس دو چشمی پر مرتبین کی نظریں نہیں جاسکیں یہ بھی افسوسناک پہلوہے۔اِس طرح کےغیرعلمی وغیرتحقیقی رویے سے متعلق مجموعۂ ہذا ہی میں شامل ڈاکٹر مشتاق تجاروی کا ایک اقتباس اور بھی معنی خیز ہوجاتا ہے، وہ لکھتے ہیں:
’’مدارس کے قابل توجہ پہلووں میں سب سے نمایاں پہلو یہ ہےکہ تمام مدارس کچھ خاص مکتب فکر کے ترجمان ہیں ان مدارس کی آزادانہ حیثیت نہیںہے۔ مکتب فکر کے ساتھ جماعت وابستہ ہوتی ہے اورجماعت ہی ان مدارس کو چلاتی ہے اس لیے ان مدارس میں تحقیق وتصنیف کے موضوعات بڑی حد تک اسی روایتی مکتب فکر کے زیر اثر پروان چڑھتے ہیں جن کےوہ نمائندے ہیں اور ماحول ایسا بن جاتا ہے کہ گویا وہی موضوعات اُمت کی سب سے بڑی ضرورت ہے۔ ان میں سے کچھ موضوعات ایسے بھی ہیں جن کی آج کے زمانے میں کوئی اہمیت نہیں ہے، لیکن جس زمانے میں اس مکتب فکر کی امتیازی شناخت قائم ہوئی اُس زمانے میں جوموضوعات تھے وہ آج بھی اُن کے یہاں زندہ ہیں اور اُن پر تحقیق اور اُن پر کتابیں لکھناوہاں جاری ہے۔ میں ان موضوعات کا تذکرہ نہیں کروںگاورنہ تمام موضوعات کوسننے والے بآسانی اُن کو مدارس کے ساتھ وابستہ کرسکتے ہیں۔ مدارس کے اِس مسلکی تصلب کو کم کرنے کی ضرورت ہے۔اس کے ساتھ اس کی بھی ضرورت ہےکہ مختلف مکاتب کے اکابر ایک دوسرے کے بارے میں مثبت رویہ اختیار کریں تاکہ طلبہ کے اندر ایک دوسرے سے استفادہ کی راہ ہموار ہوسکے ابھی تک طلبہ کا رجحان یہ ہے کہ ان کے مسلک کے عالموں کی تحریر نص قرآنی کے بعد سب سے بلند مقام رکھتی ہے اور دوسرے مسلک کی ہر تحریر ضلالت و گمراہی ہے۔ اس کی وجہ سے مدارس کا بڑا نقصان ہورہا ہے ان کی صلاحیتیوں کا صحیح استعمال نہیں ہوپارہا ہے۔‘‘ (کتاب ہذا،ص:۱۸۸)
ڈاکٹر عبد الملک صاحب نےمولانا مدنی و مولانا سندھی کے افکار کی روشنی میں دینی و عصری امتزاج پر گفتگو کرتے ہوئے مدنی صاحب کےتیار کردہ نصاب کا ذکر تو کیا ہے لیکن وہ مرتبہ خاکہ پیش نہیں کیا ہے۔ ہمارے خیال سے وہ پیش ہونا چاہیے تھا۔نیزسندھی صاحب کے بارے میں صرف یہ جملہ نقل کرکے فرض کفایہ ادا کردیا گیا ہے کہ ’’بلا تفریق رنگ و نسل اور مذہب پر ایک کے لیے مڈل تک کی تعلیم لازمی اور مفت ہوگی۔‘‘ لیکن۱۹۲۴ء میں قیام استنبول کے دوران جس انقلابی منصوبے کی بنیاد پر یہ بات کہی گئی ہے اگر اس منصوبے کی کچھ وضاحت ہو جاتی تو مولانا سندھی کے نظریات اور بھی واضح طور پر سامنے آتے۔ علاوہ ازیں صاحب مضمون نے مدنی نظریات کی جو قدرے اقتباسی تفصیل دی ہے وہ سندھی نظریات سے متعلق دیکھنے میں نہیں آتی سوائے مذکورہ بالا ایک جملے کے۔ ہمارے خیال سے مولانا سندھی کے نظریات تعلیم کے ساتھ یہ منصفانہ اور معتدل رویہ نہیں ہے۔پھرایک جگہ سچر کمیٹی کے ذکر کے تحت لکھتےکہ ’’اس نظام سے، ابھی حالیہ برسوں میں…سچر سفارشات اور گذارشات پر عمل ہو جائےگا۔‘‘ جب کہ سچر کمیٹی کی رپورٹ ۲۰۰۶ء میں آچکی تھی۔ یعنی پورے 20 سال پہلے یہ رپورٹ آئی اور اس سے متعلق ’’ابھی حالیہ برسوں میں‘‘ کہنا کچھ عجیب سا محسوس ہوتا ہے۔
ایک بات اور؛ مفید وکارگر مضامین کی کثرت ہونےکے باوجود ایک خلا سا محسوس ہوتا ہے، وہ یہ کہ مدارس کے نظام ونصاب کی ترتیب و تدوین اور اصلاح ودرستگی پر توسیرحاصل گفتگو کی گئی ہے لیکن اِس پہلوپر باضابطہ کوئی تحریر نہیں آسکی ہےکہ صرف اچھے نظام ونصاب؛ مدارس کی ضرورت نہیں؛بلکہ اچھے اساتذہ کی ضرورت اُس سے کہیں زیادہ ہے۔ کیوں کہ لاکھ عمدہ سے عمدہ نظام ونصاب ہو؛ اگر اساتذہ اچھے نہ ہوں تو اچھے سے اچھانظام و نصاب بھی کچھ فائدہ نہیںدے سکتا۔ لیکن وہیں اگر نظام ونصاب خراب بھی ہواور اساتذہ اچھے ہوں توبلاشبہ مدارس اور طلباکو منزل مقصود تک پہنچایا جاسکتاہے، چناںچہ ایک نہ ایک مضمون اِس حوالے سے بھی ہونا چاہیےتھا۔ اُسی طرح تربیت ِاساتذہ سے متعلق ایک مستقل تحریر کی اشد ضرورت تھی۔کیوں کہ بسا اوقات نظام ونصاب بھی اچھے ہوتے ہیں اور اساتذہ ذی علم ہوتے ہیں لیکن عدم تربیت کے باعث وہ کماحقہ مفید نہیں ہوپاتے، چناںچہ حسنِ نظام ونصاب پر توجہ کے ساتھ ساتھ اِس سمت بھی فوکس رکھنا بےحد ضروری ہے۔ جملوں کی ترتیب بھی بہت سے مقامات پر گنجلک ہیںجومزید واضح ہوسکتے تھے۔اُسی طرح مرتبین کی تھوڑی سی توجہ سے مکررات ختم کیے جاسکتے تھے۔ اُمید کہ اگلے کسی موقع پر یہ سبھی معائب دور کرلیے جائیںگے۔ القصہ! اِن چند فرگزاشتوں کے باوجود؛ مذکورہ مجموعۂ مقالات مدارس کے نظام ونصاب کی ترتیب وتدوین اور اُس کی تحسین میں رہنما کی حیثیت رکھتا ہےاور قابل استفادہ و قابل مطالعہ ہیں۔اِس بیش قیمتی کاوش پرناشر و مرتبین کو صمیم قلب سے مبارکباد پیش کرتے ہیں۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے