خیرآباد اسم بامسمیٰ ایک مردم خیز قصبہ ہے جواُترپردیش کے ضلع سیتا پور میں واقع ہے۔ یہ وہ خطۂ زمین ہے جوصدیوں سے علما و صلحا، حکما واُدبا اور شعرا واَطبا کا گہوارہ رہا ہے۔ اس قصبے کی فضا میں علم، تہذیب اور ثقافت کی خوشبو رچی بسی ہے۔ سید ضیا علوی کا تعلق اُسی علمی، ادبی اور تاریخی وثقافتی پس منظر رکھنے والے قصبے سے تھا۔ اُن کی شخصیت خیر آبادی وقار اور اودھی نزاکت کا حسین امتزاج تھی۔ اُن کا کتابی چہرہ، ستواں ناک، اور کشادہ پیشانی اُن کی ذہانت اور علم دوستی کی روشن علامت تھی۔ ملبوسات اور وضع داری میں قدیم وجدید امتزاج کا حسین پیکرنظر آتے تھے۔ کبھی علی گڑھی شیروانی میں ایک روایتی شاعرکھائی دیتے، تو کبھی کوٹ اورٹائی میں ایک منجھے ہوئے، باوقار اورپروفیشنل کارپوریٹ شخصیت معلوم ہوتے تھے۔
سید ضیاعلوی سلسلۂ صفویہ مینائیہ کے چشم و چراغ تھے، مگر اُن کا تصوف، مروجہ رسم و رواج اور نمائشی خانقاہی رویوں سے یکسر آزاد تھا۔ وہ پیری مریدی کے نام پر ہونے والی مارکیٹنگ کے سخت خلاف تھے۔ اُن کے نزدیک تصوف؛ محض رسوم وروایات سے عبارت نہیں تھا بلکہ علم، عمل، اخلاق اور مروت کا جامع تصور تھا۔ افسوس کہ وہ جہانِ خیرآباد کو وِیران سا کرگئے۔ 18؍ جنوری 2026ء کوجب یہ خبر ملی کہ دل کا دورہ پڑنے کے سبب سید ضیاعلوی اِس دارِ فانی سے رخصت ہو گئے ہیں، تو کچھ لمحوں کے لیے یقینی بے یقینی کی کیفیت طاری ہوگئی۔ تاہم مشیت الٰہی کے آگے کس کا اختیار چل سکتا ہےکہ
’’موت سے کس کو رُستگاری ہے‘‘
ان کا صل نام ’’محمد ضیا‘‘ ہے۔ ابتدا میں انھوں نے قلمی نام’’ ضیا خیرآبادی‘‘ اختیار کیا جو بعد میں’’ ضیاعلوی‘‘ سے مبدل ہوگیا۔ بطور تخلص کبھی ’’ضیا‘‘ اور کبھی ’’علوی‘‘ استعمال کرتے تھے۔ خاندان سادات سے ہونے کی بنا پر علوی کہلائے۔ 7؍ جون 1964ء کو خیرآباد میں پیدا ہوئے۔ آبا واجداد تقریباً آٹھ سو برس تک زمینداری سے وابستہ رہے۔ مگرتقسیم ہند کے بعد یہ نظام زوال کا شکار ہوا اور سب کچھ بکھر کررہ گیا۔ اُن کے والد مکرم سید مبین علوی ایک بلند پایہ شاعر تھے، جن کا مشہورومعروف شعری مجموعہ ’’پیرہن حرف‘‘ اہل ادب میں قدر کی نگاہ سے دیکھا جاتا ہے۔ اِس سے بخوبی اندازہ ہوتا ہے کہ سید ضیا علوی کو سخنوری ورثے میں ملی ہے، جسے اُنھوں نے اپنی محنت، مطالعہ اورفکری ریاضت سے مزید جلا بخشی۔
خیرآبادیات پر اُنھیں غیرمعمولی دسترس اور ید طولیٰ حاصل تھا۔ تاریخ تصوف، مشاہیرِ خیر آباد اور اس خطے کے علمی وروحانی قصے وہ ایک خاص اور دلنشیں انداز میں بیان کرتے تھے۔ حافظہ غضب کا پایا تھا۔ خود بھی اہل علم وادب میں قدرومنزلت کے حامل تھے اوردوسروں کی علمی وادبی کامیابیوں پر دل کھول کر تحسین کیا کرتے تھے۔ حسن اخلاق کے ساتھ وسعت قلبی ونظری دونوں پائی تھی۔ اکابرکی قدردانی اوراصاغرنوازی میں بھی اپنے معاصرین میں ایک نمایاں مقام رکھتے تھے۔
سید ضیا علوی ایک بلند پایہ شاعر تھے، جن کی آوازملکی وعالمی مشاعروں تک گونجی۔ اُن کی شاعری محض الفاظ کی بندشیں نہیں بلکہ روحانی بصیرت اورفکروآگہی کا آئینہ تھی۔ اُنھوں نے صرف شعر نہیں کہے، بلکہ انسانی فکر، اِحساس اورتجربےکی بھرپور ترجمانی کی۔ اُن کا اودھی کلام اُن کی تہذیبی جڑوں اور مٹی سے وابستگی کا منھ بولتا ثبوت ہے۔ وہ بنیادی طور پر غزل کے شاعر تھے۔ انھوں نے غزل کی کلاسیکی نزاکتوں اور روایت کا خاطرخواہ پاس ولحاظ رکھتے ہوئے اُسے جدید دور کے فکری اورسماجی تجربات سے ہم آہنگ کیا۔ اُن کی شاعری میں فنی پختگی، سلاست، روانی اورالفاظ کا عمدہ دروبست نمایاں طورپر نظرآتا ہے۔ وہ زبان و بیان کے مسلمہ اصولوں اور تہذیبی اقدار کے سخت پابند تھے۔ معاشرے کے تلخ حقائق اور آشوبِ زمانہ کو اپنی لفظیات کی مٹھاس اور مخصوص لہجے میں ڈھال کر پیش کرنے کا ہنر بخوبی جانتے ہیں۔ جہاں اُن کا کلام نرمی، لطافت اور گداز کا پیکرمحسوس ہوتا ہے وہیں ضرورت پڑنے پر تیکھے اور بامعنی اظہارمیں بھی کمال مہارت کے ساتھ جلوہ بارنظر آتے تھے۔ اِبتدا تا اِنتہا وہ تصوف کے زیر اثر رہے، چناں چہ اُن کے یہاں رنگ تغزل کے ساتھ رنگ تصوف کی بھی پوری آب وتاب کے ساتھ جلوہ گردکھائی دیتا ہے۔ اُن کا صوفیانہ کلام بطورخاص اہل دل کے ہاں بےحد مقبول ہےاورخانقاہی حلقوں میں بھی پڑھا اورسنا جاتا ہے۔ گویا اُن کی شاعری پاکیزہ افکاروخیالات پر مشتمل ہونے کے علاوہ تہذیبی اقدار کی آئینہ دار بھی ہے، جو آج کے افراتفری کے ماحول میں ایک پُرسکون احساس دلاتی ہے۔
اُردو زبان وادب کے معتبر شاعر اور سابق صدر شعبہ اردو، جامعہ ملیہ پروفیسر شہپر رسول لکھتے ہیں:
’’شاعری سید ضیا علوی کا ورثہ ہے۔ انھوں نے اپنے مخصوص مزاج کے مطابق زندگی کے گونا گوں تجربات اور اپنی قلبی واردات کے شعری اظہار کے لیے جس کلاسیکی رنگ کو اختیار کیا ہے وہ ایک طرف فن کی تمام تر پابندیوں اور دوسری طرف غزلیہ اظہار کی نزاکتوں اور باریکیوں کو اُن پر لازم کردیتا ہے۔ چناں چہ ان کے کلام میں کلاسیکی محاسن شعری کو دیکھ کر یک گونہ اطمینان ہوتا ہے۔ وہ جہاں سلاست وروانی کا خیال رکھتے ہیں وہیں الفاظ کے درد وبست پر بھی نظر رکھتے ہیں اور بامعنی دلکش تراکیب کے استعمال سے اپنے اسلوب کو سنوارنا بھی جانتے ہیں۔ نیز جہاں اُن کے کلام میں زبان و بیان کے تسلیم شدہ اصول وضوابط کا احترام نظر آتا ہے وہیں روایتی تہذیبی اقوال بھی آئینہ شعر میں اپنا جلوہ دکھاتی ہیں۔
ضیاعلضیاعلوی معاشرے کی فتنہ سامانیوں اور آشوب وابتلا کو اپنے مخصوص لہجے کے پردے میں اور تجربات کی کڑواہٹ کو اپنی لفظیات کی مٹھاس میں ڈبوکر پیش کرنے کے ہنر سے واقف ہیں:(قوس قزح،ص: ۱۲-۱۳)
سید ضیا علوی کے شائع شدہ شعری مجموعوں میں ’’قوسِ قزح‘‘اور’’قوسین ‘‘نمایاں حیثیت رکھتے ہیں۔’’قوس وقزح‘‘ اکتوبر ۲۰۰۳ء میں جب کہ ’’قوسین ‘‘مئی ۲۰۰۹ء میں منظر عام پر آئی۔ ۲۰۱۶ء میں اُن کا مرتب کردہ ’’ذکرسعد‘‘ شائع ہوا، جو مخدوم شاہ مینا لکھنوی کے خلیفہ ارشد شیخ سعد الدین خیرآبادی کی سوانح اورملفوظات پر مشتمل ہے۔ یہ سوانحی مجموعہ مشائخ وتصوف سے اُن کے گہرےروابط اور مضبوط تعلقات کی بھرپورعکاسی کرتا ہے۔
یہ امر بھی قابل ذکر ہے کہ اُن کی والدہ؛ شیخ سعد خیرآبادی کے سابق سجادہ نشیں جناب سجاد حسین خیر آبادی کی صاحبزادی تھیں، جب کہ وہ خود قاضی بڈھن اُناوی (والدشیخ سعد) کے آستانہ کے سجادہ نشیں تھے۔ علاوہ ازیں خانقاہی دنیا میں پہلے سجاد میاں، دوسرے عارف بھیا اور تیسرے ابومیاں سے وہ خاص طور پر متاثررہے۔
غرض یہ کہ سید ضیا علوی کا دائرۂ اثرمحض شعروادب تک محدود نہیں تھا بلکہ تصوف، تہذیب اوراخلاق کے میدان میں بھی وہ ایک باوقاراورمعتبر حیثیت کے حامل تھے۔ اُن کے جنازے میں اہل دل اوراہل علم وادب کی کثیرتعداد کی شرکت اِس بات کا واضح ثبوت ہے کہ وہ ہر طبقے میں بےحد محبوب اورمحترم تھے۔ وہ خاموشی سے اِس دنیا سے رخصت ہوگئے، مگر اپنے پیچھے ایسے الفاظ، ایسی یادیں اورایسی عطربیزخوشبوچھوڑ گئے ہیں جومدتوں سانس لیتی رہیں گی اور اُن کے وجود کا اِحساس دلاتی رہیں گی۔ ساتھ ہی جناب علوی ہمیں یہ بھی پیغام دے گئے کہ اصل عظمت، شہرت یا نمود میں نہیں بلکہ علم، اخلاق، انکساری اور خدمت خلق میں ہے۔ وہ ایک ایسے قلندرمزاج شاعر تھے جو خود تو جلتے رہے لیکن دوسروں تک روشنی پہنچاتے رہے۔ ان کی وفات سے جوخلا پیدا ہوگیا ہے وہ شاید کبھی پُرنہ ہوسکے، مگر اُن کا فکری و روحانی سرمایہ ہمیشہ ہمارے درمیان زندہ رہےگا۔
سید ضیا علوی: ایک مرد قلند جو نہ رہا!