ڈاکٹر جہاں گیر حسن
اللہ تعالیٰ احسن الخالقین ہے۔ اُس نے دنیا کی تمام چیزوں کی تخلیق بہترین انداز میں فرمائی ہے۔ ہرچیزکو اُس کے مناسب مقام اور جگہ پر رکھا ہے۔ رات کے بعد دن کا آنا اور دن کے بعد رات کا آنا اور پھر ماہ وسال کا آنا جانا، یہ تمام چیزیں اللہ سبحانہ وتعالیٰ کی بہترین تخلیقات ہیں تو دوسری طرف یہی سب اُس کے خالق ومالک ہونے کی دلیل بھی ہیں۔
جس طرح رب سبحانہ ہرطرح کے عیب و نقص سے پاک ہے اُسی طرح اُس کی بنائی ہوئی ہرچیز بےعیب و بے نقص ہے۔ البتہ! اُس نے ہر چیز کا ایک درجہ اور ایک حیثیت مقرر فرما رکھا ہے جو فَضَّلْنَا بَعْضُہُمْ عَلٰی بَعْضٍ کا نمونہ بن کر ہمارے سامنے نمودار ہوتا ہے۔
چناں چہ سال کے بارہ مہینوں میں بھی کچھ مہینے ایسے ہیں جو باہم مربوط ہونےکے ساتھ خیروخوبی اور کارِثواب ہونے کے پیش نظرایک دوسرے پر فضیلت رکھتے ہیں۔ اِس پس منظر میں رجب المرجب، شعبان المعظم اور رمضان المبارک سرفہرست ہیں۔ اِن تینوں مہینوں کو اِس نہج پر بھی سمجھا جاسکتا ہے کہ ماہِ رجب جُتائی، کُرائی اورکاشت کے لیے کھیت کی تیاری کا مہینہ ہے اور شعبان المعظم فصل کی بُوائی اور اُس کی سینچائی کا مہینہ ہے، جب کہ رمضان المبارک فصل کاٹنے اور پھل پانے کا مہینہ ہے۔ اِن مہینوں کے خیروخوبی کے سلسلے میں جمہورعلما وصلحا کا بھی متفقہ فیصلہ ہے کہ رجب، شعبان کی تیاری اور رمضان کے استقبال کا مہینہ ہے، نیزاِس مہینے میں اللہ سبحانہ اپنے بندوں پر رحمتیں، سعادتیں اور طمانیت وسکینہ کا نزول فرماتا ہے، اِس لیے بندوں کو بھی چاہیے کہ ماہِ رجب میں تمام ترمخرب اخلاق اورمعیوب اعمال سے کنارہ کش ہوکر خالص اللہ سبحانہ کی طرف متوجہ ہونے کی تیاری میں مصروف ہوجائیں۔
اِس تعلق سے جامعہ ازہر، مصر کے سابق مفتی اعظم ڈاکٹرمفتی علی جمعہ کا یہ بیان قابل ذکر ہے، جس میں وہ کہتے ہیں کہ ’’اے مسلمانو! آپ کا ہر سال بہتر اور اچھا ہو ۔ ہم ماہِ رجب میں داخل ہو چکے ہیں۔ یہ ماہِ حرام ہے۔ یہ ماہ اُن حرمت والے مہینوں میں سے ہے جن میں ہمارے رب نے گناہوں کو حرام کردیا ہے۔ اگرچہ گناہ کرنا سال کے بارہ مہینوں میں بھی حرام ہے لیکن اِس حرمت والے مہینے میں گناہ کرنا زیادہ بڑا گناہ ہے۔
اِس ماہ کو’’رجب فرد‘‘ کہا جاتا ہے اِس لیے کہ یہ اُن حرمت والے مہینوں سے منفرد و جداگانہ ہے جومہینے پے درپے آتے ہیں، جیسے: ذوالقعدہ، ذوالحجہ اور محرم۔ یہ ’’رجب اصم‘‘ بھی کہلاتا ہے (کہ اللہ کے نزدیک کوئی بھی مہینہ اِس کی عظمت وحرمت کو نہیں پا سکتا)۔ ایک قول کے مطابق اِسے ’’رجب اصم‘‘ اِس وجہ سے بھی کہا جاتا ہے کہ اِس میں جنگ کے ہتھیار کی آواز سنائی نہیں دیتی۔
علاوہ ازیں اِس ماہ کو ’’رجب اصب‘‘ بھی بولا جاتا ہے، اِس لیے کہ اللہ تعالیٰ اِس ماہ مقدس میں اپنے بندوں پر رحمتیں، برکتیں اور سکینہ نازل فرماتا ہے۔
ماہِ رجب، رمضان کے اِستقبال اور شعبان کی تیاری کا مہینہ ہے۔ ہم سب کو چاہیے کہ آنے والے عظیم مہینوں کے لیے خود کو تیار کریں اور اللہ سبحانہ وتعالیٰ کے غضب کے دائرے سے نکل کر اُس کی رضا کے دائرے میں منتقل ہوجائیں۔ روز وشب کے ظاہر وباطن گناہوں کو چھوڑ دیں، رَب سبحانہ وتعالیٰ کی نافرمانیوں سے باز آجائیں، اور رب سبحانہ وتعالیٰ کی مغفرت وبخشش کی طرف سبقت کریں۔ یکسوئی کے ساتھ ہم سب اللہ سبحانہ کی بارگاہ میں توبہ کریں اور سچی توبہ کریں، جس میں انسان دوبارہ کبھی گناہ کی طرف نہ لوٹنے کا عہد کرتا ہے۔ باوجود کہ ابن آدم خطا کا پتلا ہوتا ہے، لیکن توبہ کرنے والا رب کی بارگاہ میں محبوب ہوتا ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے کہ ’’تمام ابن آدم خطاکار ہیں، اُن میں بہترین وہ ہے جوبہت زیادہ توبہ کرنے والا ہے۔‘‘ ( سنن ابن ماجہ، کتاب الزہد، باب ذکرالتوبہ، حدیث:4251)
کلمہ’’ خطا‘‘ اور ’’تواب‘‘ فعال کے وزن پر ہے۔ یہ ایسا صیغہ ہے جو فعل کے تکرار اور اُس کے کثرت ِوقوع پر دلالت کرتا ہے، اِس لیے ہم پر لازم ہے کہ ہم مسلسل اورباربار توبہ کریں اور جب ہم کسی گناہ یا معصیت میں گرفتار ہوجائیں،تو مایوس نہ ہوںبلکہ اللہ سبحانہ کی طرف پلٹ جائیں، کیوں کہ اللہ سبحانہ وتعالیٰ اپنے بندے کی توبہ سے خوش ہوتا ہے۔
حدیث میں آیا ہے کہ اللہ تعالیٰ توبہ کرنےوالے اپنے بندے سے اُس شخص سے زیادہ خوش ہوتا ہے جو کہ صحرا میں اپنی سواری پر سفر کررہا تھا تو اُس کی سواری اُس کے ہاتھ سے چھوٹ گئی اور کھو گئی، جس پراُس کا کھانا اور پانی رکھا ہوا تھا۔ وہ مایوسی کے عالم میں ایک درخت کے پاس آیا اور اُس کے سائے میں لیٹ گیا۔ وہ شخص بالکل نا اُمید ہو چکا تھا کہ اچانک اُس کی سواری اُس کے پاس کھڑی ملی۔ یہ دیکھ کر اُس کی خوشی کا کوئی ٹھکانہ رہا، اور وہ اُسی شدتِ خوشی میں یہ بول اٹھا کہ ’’اےاللہ! تو میرا بندہ ہے اور میں تیرا رب۔ ‘‘(صحیح مسلم ،حدیث:6959)
اِس طرح ہم سب کے پیارے آقا، نبی رحمت، سرکارِ دوعالم صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمارے سامنے اُمید کا دروازہ کھول دیا ہے اور ہمیں یہ ہدایت فرمائی ہے کہ ہم سب اللہ سبحانہ کی جانب مائل اورمتوجہ رہیں، لہٰذا ہم سب شرارتِ نفس سے دور رہیں، اللہ سبحانہ وتعالیٰ کی طرف دوڑلگائیں، اُس کی طرف سبقت کریں، اور اُس کے سوا ہر چیز سے منھ موڑ لیں۔ (مفہوماً)
خلاصہ یہ کہ اللہ سبحانہ نے ’’رجب‘‘ کی شکل میں جو بابرکت مہینہ عطا کیا ہے اُس کو غنیمت جانیں۔ اِس مہینے میں جو رحمتیں، برکتیں اور سعادتیں نازل ہوتی ہیں اُس سے اپنے دامن مُراد کو بھرنے کی کوششیں کریں، بلکہ اب تک جانے انجانے میں جوگناہ سرزد ہوئے ہیں اُن سے سچے دل سے ہم سبھی توبہ کریں، تاکہ قربِ ربانی کی لذت سے بہرہ مند ہونے کا موقع مل سکے کہ جو بندہ رب کی بارگاہ میں سچے دل سے توبہ کرتا ہے تورب تعالیٰ اُس کو اپنا دوست بنالیتا ہے۔