• Sun. Feb 8th, 2026

نام کتاب: اُجالے یادوں کے

Byhindustannewz.in

Jan 21, 2026

خاکہ نگار: ڈاکٹرحلیمہ فردوس
صفحات:172، قیمت: 200؍روپے
سال اشاعت : ستمبر2024، باراوّل
ناشر: حلیمہ فردوس، 414، A1، گنگا بلاک، این جی وی،کورمنگلا، بنگلور، پن کوڈ:560047
تبصرہ نگار: ڈاکٹر جہاں گیر حسن، شاہ صفی اکیڈمی، سید سراواں، کوشامبی(یوپی)

ڈاکٹرحلیمہ فردوس دنیائےارود ادب میں محتاجِ تعارف نہیں ہیں۔ علمی وادبی چمنستان بنگلور سے تعلق رکھتی ہیں۔ متعدد کتابوں کی مصنفہ ہیں اور طنز و مزاح میں بالخصوص کمال ودسترس رکھتی ہیں۔ نہ صرف خود علم و ادب کی شوقین ہیں بلکہ اُن کے اہلِ خانہ اوراحباب واقارب بھی اہالیانِ علم وادب میں شمار ہوتے ہیں۔ بقول ڈاکٹر فوزیہ:
’’مشہور شاعر حمید الماس کی بہو ہیں… خالد سعید کی بہن ہیں… آکاش وانی کے اسسٹنٹ ڈائریکٹر، ملنسار اطہر احمد کی اہلیہ ہیں… نوجوان فنکار ارسلان کاشف کی ماں ہیں…۔ کالج میں طالبات کی معروف و شفیق استادہیں… جتنے رشتے ہیں، اتنے ہی رو پ ،اور ہر روپ میں کامیاب۔‘‘
ستمبر 2024 میں اُن کی ایک تازہ تصنیف ’’اُجالے یادوں کے‘‘ منظرِ عام پر آئی ہے۔ یہ مجموعہ مختلف شخصیات کے کردار، فکروفن اوراثرات کو مصنفہ کی ذاتی یادوں اور اُن کےگہرے مشاہدات کی روشنی میں پیش کرتا ہے۔ یہ محض خاکے نہیں بلکہ ایک جذباتی، تہذیبی اور ادبی دستاویز ہے جو اُن ہستیوں کی انفرادیت کو اُجاگر کرتی ہے جن سے مصنفہ اور اُن کے حلقۂ احباب کا گہرا تعلق رہاہے۔عنوانات سے ظاہرہوتاہے کہ مصنفہ نے باکمال و متنوّع شخصیات کو اپنے خاکوں کا موضوع بنایا ہے اور اُن کی زندگی کے مختلف گوشوں کو بڑی ایمانداری، دیانت اور محبت والفت سے صفحاتِ قرطاس پر اُتارا ہے۔ یہ مجموعہ کل اٹھارہ خاکوں اور چند مضامین پر مشتمل ہے۔مطالعے سے محسوس ہوتا ہےکہ مصنفہ فنِ خاکہ نگاری کےلوازمات سے بخوبی واقف ہیںکہ اُن کا قلم صرف تصویر نہیں کھینچتا بلکہ منتخب شخصیات کے روحانی و باطنی عکس واثرنگیزی کو بھی نمایاں کرتا ہے۔
کتاب کا آغاز ’’میں نے خاکے کیوں لکھے؟‘‘سےہوتا ہے جو خاکہ نگار کی غرض وغایت، انتخاب اشخاص اوراُن سے ان کی علمی وفکری اور جذباتی وابستگی کا جواز فراہم کرتا ہے اور اسلوب نگارش کی طرف رہنمائی بھی کرتا ہے۔ بقول خاکہ نگار:’’ میرے خاکوں کا محور ذی وقار معروف شخصیات ہی نہیں ہم کفو، ہم نفس اور رفتگان بھی ہیں۔ بیشتر خاکوں کی فضا ماضی کی یادوں سے معطر ہے۔… اُن خاکوں کی ابتدا کبھی زندگی وموت کے فلسفے سے تو کبھی بدلتے اخلاقی اقدار اور کبھی شہروں کی جغرافیائی تبدیلی کے ذکر سے ہوتی ہے۔تمہید کے بعد چشم دید واقعات، مشاہدات اور تجربات کی بنیاد پر صاحب خاکہ کی مرقع کشی کی گئی ہے۔…ان خاکوں میں بیانیہ طرز اظہار کے علاوہ مکالماتی انداز اور کہیں خودکلامی بھی ملتی ہے۔‘‘(ص:۷)
مجموعے کا بڑا حصہ ایسی شخصیات پر مشتمل ہے جنھوں نے علم وآگہی، شعوروادراک، زبان و ادب اور درس وتدریس میں بے مثال خدمات انجام دی ہیں۔ ’’شجرسایہ دار: پروفیسر محمد ہاشم علی‘‘، ’’خالد سعید: سادہ لوح پروفیسر‘‘ اور’’ڈاکٹر صغریٰ عالم: پیار و محبت کی امین‘‘ وغیرہ خاکے اساتذہ اور علمائے فن کی نہ صرف قلمی تصویر پیش کرتے ہیں بلکہ اُن کی حیات سے ملنے والے عبرت آموز اسباقسے بھی روشناس کراتےہیں۔ اُن کی فہم وبصیرت اوراُن کےتجربات وتربیتی پہلوؤں کوبھی اُجاگر کرتے ہیں۔ بالخصوص ’’شجرِ سایہ دار‘‘کو مربیانہ و معلّمانہ سرپرستی ونگہداشت کا بہترین استعارہ کہا جاسکتا ہے۔ بقول مصنفہ:’’میں نے اُنھیں ہمیشہ ایک مہربان شوہر، شفیق باپ اور فرض شناس استاد کے روپ میں پایا۔‘‘
’’میرے شاعر چاچا: حمید الماس‘‘ اور ’’مدیرِ اعظم غازیِ طنز و مزاح: سید مصطفی کمال‘‘ فنی وفکری شخصیات کے نمائندہ خاکے ہیں۔ ’’قصہ خوش طبع فقرہ باز سرجن: ڈاکٹر اسلم سعید‘‘ میں ایک طبیب کے ظرافت انگیز مزاج کے دلچسپ پہلو سامنے آتے ہیں۔ بقول مصنفہ:ڈاکٹر اسلم سعید کی کٹیلی گفتگو کے باوجود وہ خوش طبع واقع ہوئے ہیں۔ طنز و مزاح ان کی رگ رگ میں سرایت کر چکا ہے۔ ایک بار ایک دوست نے پوچھا: ’’اسلم صاحب! آج کل آپ نظر نہیں آ رہے، خیریت؟‘‘ جواب دیاگیا: ’’جیل کی ہوا کھا رہا ہوں۔‘‘ اُس وقت اُن کی ملازمت سنٹرل جیل گلبرگہ میں تھی۔
کچھ خاکوں میں شدید جذباتی ربط اور محرومی کی کیفیات بھی نمایاں ہیں، جیسے ’’کس سے خالی ہوا جہاں آباد‘‘ اور ’’ایک روشن دماغ تھا نہ رہا۔‘‘ یہ خاکے ایسی باعظمت مرحوم شخصیات کی یادوں پر مبنی ہیں جن سے مصنفہ کا گہرا تعلق رہاہے۔ اُن کے چلے جانے کے بعد پیدا ہونے والے خلا اور حزن و ملال کو بڑے اہتمام وخلوص سے قلم بند کیا گیا ہےکہ ’عظیم ہستیاں مختصر سی زندگی میں کارہائے نمایاں انجام دے کر عالم بالا کی جانب لوٹ جاتی ہیں۔ اُن کے گزرجانےسے ایک خلا سا پیدا ہوتا ہے‘ اور’آج خود نمائی کےدور میںعظیم، ماہر، دانشور جیسے الفاظ کا مفہوم بدلتا جارہا ہے۔ ایسے میں ایک روشن دماغ اور سچے ادیب کا اٹھ جانا ادب، سائنس اور مذہب کا خسارہ ہے۔‘
اسی طرح ’’عظیم الدین عظیم: ایک آہنی پیکر‘‘ ایک ایسی شخصیت کا خاکہ ہے جو اِستقامت، مضبوط ارادے اور محنت و مشقت کی علامت کے طورپرسامنے آتے ہیں۔ یہ خاکہ ایک مثبت اور اِنتہائی حوصلہ بخش پیغام دیتا ہےکہ’’عظیم صاحب کی امانت داری، نفاست پسندی اور سلیقہ مندی ان کی شخصیت کی پہچان تھی۔ وقت کے پابند عظیم الدین عظیم نے اردو مجلسوں کی روایت بدل ڈالی تھی۔‘۔ ’’بساطِ حیات کا مہرہ: حافظ کلیم اللہ‘‘ ایک فکر انگیز خاکہ ہے جس میں ایک حافظِ قرآن کی مشقت بھری عملی زندگی کا بھرپوراحساس وتجزیہ ملتا ہےکہ ’کشمکش حیات نےایک حافظ قرآن کوکمپیوٹر آپریٹر بنادیا۔…ایک مشین کی طرح کام کرنے والا شخص کمپیوٹرپر کام کرتے کرتے وہیںڈھیرہوگیا۔ اُس کی انگلیاں ساکت ہوگئیں اور سانس کی تار ٹوٹ گئی۔‘
خواتین کے خاکے بھی نہایت ادب و احترام کے ساتھ پیش کیے گئے ہیں۔بعض خاکے کچھ ایسے کرداروں پرمبنی ہیں جن کے مختلف رنگ وروپ ہیںاور بڑے ہی پُرکشش ہیں۔گویاشخصیات کے مختلف پہلوؤں کو فنکارانہ انداز سے اُجاگر کیا گیا ہے۔مثلاً: ’’بشیر النساء: پیکرِ خلوص‘‘کہ جن کی شخصیت ملکوں ملکوں ڈھونڈنے والی نایاب ہستی تو نہیں، البتہ! شہروں شہروں تلاش کرنے کے باوجود ایسی پُرخلوص شخصیت کا ملنا محال ہے۔ ’’اردو ادب کی مہاجر زادی: پروفیسر شمیم علیم‘‘کہ مہجری ادب میں بادِ شمیم کی طرح طراوت بخشنے والی ہستی کانام ہے شمیم علیم۔ ’’ڈاکٹر صغریٰ عالم: پیار ومحبت کی امین‘‘کہ صغریٰ عالم کی شاعری میں لفظ محبت کو کلیدی حیثیت حاصل ہے۔ ان کے نزدیک لفظ محبت زندگی کو سمجھنے کا وسیلہ ہے۔ جب کہ ’’فوزیہ چودھری کی کہانی…‘‘،ایک مکالماتی تحریر ہے جو فوزیہ اور حلیمہ دونوںکے سہارے آگے بڑھتی ہےاور ہردوخواتین کیفکری شخصیت کا نقشہ کھینچتی ہے۔
مزید خاکوں’’نرم دل گفتگو، گرم دمِ جستجو: پروفیسر لئیق صلاح‘‘، ’’خانوں میں بٹی ہوئی پیاری شخصیت: کہکشاں تبسم‘‘، ’’ریاض احمد اور قسمت کا کھیل‘‘ اور ’’قلمی چہرے‘‘میں خوش اخلاقی، حمیت اورمروّت کی خوشبونمایاںمحسوس ہوتی ہےاور کچھ ایسی ہستیاںسامنے آتی ہیں جن کے پیشہ ورانہ طرزحیات اور سماجی کرداروعمل مختلف ہونے کے باوجود ایک سبق آموز اکائی میں ڈھل جاتے ہیں۔علاوہ ازیںمضامین میں’’عکس در عکس‘‘، ’’حلیمہ فردوس‘‘، ’’کچھ یادیں کچھ باتیں‘‘ اور ’’ڈاکٹر حلیمہ فردوس: درس سے درک تک‘‘مصنفہ کی شخصیت، فکروفن اور علمی مقام کو واضح کرتے ہیں۔
مجموعی طور پر ’’اُجالے یادوں کے‘‘ میں تنوعاتی حسن اورموضوعاتی وسعت کا خوب صورت امتزاج دیکھنے کو ملتا ہے اور اُس کے پردے میںحیاتِ اِنسانی کےنوع بہ نوع جہات سے آشنائی ہوتی ہے۔بالخصوص شاعر، ڈاکٹر، پروفیسر، معلم، ایڈیٹر اور گھریلو خواتین سبھی طبقوں کی نمائندگی اِس مجموعے کے دائرۂ اثر کو وسیع تربنادیتی ہے۔یہ خاکے محض تعریف ومدح کے الفاظ و جملے نہیں ہیں، بلکہ باکمال وفنکارشخصیات کی روح کی گہرائی میں جھانکنے کی ایک انوکھی کوشش ہے۔چند فروگزاشتوں’جملوں کی طوالت، بعض جگہ غیرضروری الفاظ اور عقیدت آمیزغلوسے صرفِ نظر کرلیا جائے، تو یہ مجموعہ اردوزبان وادب میں صنفِ خاکہ نگاری کو مضبوط اور توانا بنانے کی بھرپور صلاحیت رکھتا ہے اور قاری کو ایک دل آویز فکری و تخیلاتی سفر پر جانے کا عمدہ ذریعہ ثابت ہوسکتا ہے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *